ٹرمپ خوفزدہ، پارٹی ارکان کی مخالفت کے بعد اپنے حامیوں سے پلہ جھاڑا

ٹرمپ خوفزدہ، پارٹی ارکان کی مخالفت کے بعد اپنے حامیوں سے پلہ جھاڑا

وقت آگیا ہے کہ 25 ویں ترمیم نافذ کر دی جائے جس کے تحت اگر کوئی صدر دماغی طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔
رخصت پذیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپٹل ہل پر حملے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے سے بچنے کیلئے تمام الزامات اپنے حامیوں پر ڈال دئےہیں اور کہا ہے کہ امریکی جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور قانون توڑنے والوں کو کو بھگتنا پڑے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو لوگ اس تشدد اور نقصان میں شامل تھے وہ امریکہ کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ کی دنیا بھر میں ہونے والی والی مذمت اور ڈیموکریٹس کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے پیش نظر اب اپنے حامیوں سے پلہ جھاڑ لیا ہے۔
ٹرمپ کی اس وضاحت سے بہر حال ماہرین مطمئن نہیں ہیں اور کانگریس کے رکن ایڈم کنزنگر نے اپنی پارٹی کے قائد کو مخاطب کرکے کہا کہ انہوں نے مظاہرین کو عمارت میں دھاوا بولنے کے لیے اکسایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بدبختی ہے کہ صدر نے امریکہ کے عوام کے تحفظ کے تئیں اپنی ذمہ داری سے روگردانی کی اور لوگوں کو اشتعال دلانے کا کام کیا۔ اس لئے وقت آگیا ہے کہ 25 ویں ترمیم نافذ کر دی جائے جس کے تحت اگر کوئی صدر دماغی طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔
ری پبلکن پارٹی کے ایک اور رکن ورمونٹ کے گورنر فل اسکوٹ نے بھی اس کی تائید کی ہے اور کہا ہےکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر کے ذاتی مفادات، افسانوی باتیں اور انا نے امریکہ کی تاریخ میں اس کو ایک خطرناک ترین موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔
اس بیچ پولیس کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل میں تشدد کے دوران زخمی ہونے والے پولیس افسر برائین ڈی سکنیک بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ان کے علاوہ ایک خاتون اور ہنگامی اقدامات کے دوران مزید تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *