کیا ٹرمپ کا انجام ’شرمناک برطرفی‘ ہوگا؟ مواخذہ کے لئے قرار داد آئندہ پير کو متوقع

کیا ٹرمپ کا انجام ’شرمناک برطرفی‘ ہوگا؟ مواخذہ کے لئے قرار داد آئندہ پير کو متوقع

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے فوری استعفیٰ نہ دیا تو ان کا مواخذہ کیا جائے گا

واشنگٹن: امريکی ايوان نمائندگان میں ڈيموکريٹس آئندہ پير کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحريک شروع کریں گے۔ اس سلسلہ میں ان کے خلاف نئے الزامات کو بنیاد بنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے فوری استعفیٰ نہ دیا تو ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کیپیٹل ہل واقعے کی حوصلہ افزائی کرنے پر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پر کارروائی شروع ہوگی۔
دراصل، اراکين کانگريس کے مابین ايک ایسی دستاويز گردش کر رہی ہے، جس میں کہا گيا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں جو بائيڈن کے ہاتھوں شکست کے تناظر میں تشدد کو ہوا دی۔ ان شکايات میں ٹرمپ کی جارجيا کے سکریٹری آف اسٹيٹ کو کیے گئے ايک حاليہ فون کال کا بھی ذکر ہے، جس میں ٹرمپ نے ان پر انتخابی نتائج بدلنے کے ليے زور ڈالا تھا۔
اسپیکر نینسی نے کہا کہ ایوان نمائندگان کے ممبران کو امید ہے کہ ٹرمپ فوری استعفیٰ دیں گے اور اگروہ ایسا نہیں کرتے تو میں نے ایک رولز کمیٹی تشکیل دی ہے جو کانگریس رکن جیمی راسکن کے ساتھ مل کر صدر کے مواخذے کے لیے 25 ویں ترمیم کی قانون سازی کے تحت تحریک پیش کرنے کی تیاری کرے گی۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ ایوان کے پاس ٹرمپ کو ہٹانے کے لیے 25 ویں ترمیم، مواخذے کی تحریک اور قرارداد سمیت ہر آپشن موجود ہے۔
دوسری جانب کانگریس کی خاتون رکن پرمیلا جے پال نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ صدر کے مواخذے کی کارروائی فوری شروع کی جانی چاہیے اور اسے ابھی کرنا چاہیے۔ کانگریس رکن کیلی کاہلے نے بھی 25 ویں ترمیم یا مواخذے کے ذریعے صدر کو فوری ہٹانے کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کا ہر دن امریکہ کے لیے انتہائی غیر محفوط ہے۔ دريں اثنا ممکنہ مواخذے کے تناظر میں امريکہ ميں ايسے خدشات بھی بڑھ گئے ہيں کہ ٹرمپ کہیں کسی ملک کے خلاف جوہری حملے کی منظوری نہ دے ديں!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *