واٹس ایپ کا جال!

واٹس ایپ کا جال!

محمد عرفان ندیم
اصل کہانی کی طرف ہم بعد میں آئیں گے پہلے آپ اصل تناظر جان لیں، واٹس ایپ کی نئی پالیسی متعارف ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں اس پالیسی پر گفتگو جاری ہے۔ پالیسی کا خلاصہ یہ ہے کہ واٹس ایپ آپ کے ڈیٹا تک رسائی اور اسے شیئر کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے،اگر آپ واٹس ایپ کو اپنے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتے ہیں تو ٹھیک ورنہ آٹھ فروری کے بعد آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ بندکر دیا جائے گا۔ یہ سب کیا ہے اور کیوں ہو رہا ہے اس کا دولفظی جواب یہ ہے کہ واٹس ایپ 2014سے فیس بک نے خرید لیاہے اور فیس بک کا بانی مارک زکر برگ یہودی ہے، یہودی پوری دنیا کا ڈیٹا اپنے ہاتھ میں کیوں لینا چاہتے ہیں اور اس سے ان کے کیا عزائم ہیں اب میں آپ کو یہ کہانی سناتا ہوں۔ اکسیویں صدی میں دنیا میں ایک نئے مذہب نے جنم لیا ہے جسے ہم ڈیٹا ازم یا مذہب شماریات کہتے ہیں،اس مذہب کا ایمان ہے کہ کائنات محض اعداو شمار کا گورکھ دھندہ ہے اور کائنات میں موجود ہر شے کی قیمت او ر اہمیت کا تعین ڈیٹا یا شماریات میں اس کے مقام سے طے ہوگا۔ اس نئے مذہب کے پیروکاردھڑا دھڑ بگ ڈیٹا کے حصول میں لگے ہوئے ہیں اور مستقبل میں دنیا پر ان قوتوں کی حکمرانی ہو گی جو بگ ڈیٹا کی مالک ہوں گی۔بگ ڈیٹا کیا ہے،یہ وہ ڈیٹا ہے جو میں،آپ اور دنیا کے کروڑوں اربوں انسان واٹس ایپ،ٹوئٹر، گوگل، فیس بک اور یوٹیوب جیسی ویب سائٹس کو مفت میں فراہم کر رہے ہیں، اس ڈیٹا کی بناپر یہ لوگ ہمارے بارے میں ہم سے زیادہ جانکاری رکھتے ہیں،اس جانکاری کی بنا پر یہ آنے والے زمانے میں ہمارے اذہان کو کنٹرول کریں گے اور کروڑوں اربوں انسانوں کا مستقبل ان کے ہاتھ میں ہو گا۔کچھ عرصہ قبل فیس بک نے ایک ریسرچ کی جس میں چھیاسی ہزار فیس بک صارفین نے حصہ لیا، اس ریسرچ میں صارفین سے ان کی شخصیت کے متعلق سو سوالات کیے گئے تھے، فیس بک نے ریسرچ سے قبل ہی صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ریسرچ مکمل ہوئی تو نتائج واقعی حیران کن تھے، اگر آپ نے صرف دس دفعہ لائیک کا بٹن دبایا تھا تو فیس بک آپ کو آپ کے ملازمین اور ہمسایوں سے زیادہ جانتی تھی، اگر آپ نے ستر دفعہ لائیک کا بٹن دبایا تھا تو فیس بک آپ کو آپ کے دوستوں سے زیادہ جانتی تھی، اگر آپ نے ایک سو پچاس بار لائیک کا بٹن دبایا تھا تو فیس بک آپ کے خاندان اور فیملی ممبرز سے بھی زیادہ آپ کو جانتی تھی اور اگر لائیکس کی تعداد تین سو تک پہنچ جائے تو فیس بک آپ کے شریک سفر سے بھی زیادہ آپ کے خیالات، سوچ، افکار اور خواہشات کو جانتی ہے۔ ڈیٹا کی بنا پر یہ قوتیں ہمیں کیسے کنٹرول کرتی ہیں آپ ایک اور مثال دیکھیں، آپ دو تین سال تک عمران خان کی حکومت سے نالاں رہتے ہیں، اس کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں اور حکومت سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، انتخابات نزدیک آتے ہیں ا ور آپ پختہ عزم کرتے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ نہیں دیں گے، الیکشن سے چند ماہ پہلے عمران خان اور اس کے ہمنوا فیس بک سے اپنے مخالف ووٹرز کا ڈیٹا خرید لیتے ہیں، یہ بہترین دماغوں کو میڈیا ٹاک کے لیے ہائر کر لیتے ہیں اور فیس بک کے ذریعے یہ میڈیا ٹاک ڈائریکٹ اپنے مخالف ووٹرز کی ٹائم لائن پر شیئر کر دیتے ہیں، فیس بک جو آپ کے رجحانات اور پسندیدگیوں سے پہلے ہی واقف آپ کو ایسی وڈیوزبار بار دکھاتا ہے اورتب تک دکھاتا ہے جب تک آپ مسخر نہیں ہو جاتے ہیں، الیکشن کے دن آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ اسی عمران خان کو ووٹ دے آئے ہیں جس سے آپ پچھلے دو تین سال سے جان چھڑانے کی دعائیں کر رہے تھے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا اس کا دو حرفی جواب بگ ڈیٹا ہے، صر ف یہی نہیں بلکہ اس ڈیٹا کی بنا پر آنے والے دنوں میں ہم مکمل طورپر ان کمپنیوں کے رحم وکرم پر ہوں گے، ہماری زندگی کے اکثر افعال انہی کے مشوروں سے طے پائیں گے، مثلاواٹس ایپ، فیس بک، گوگل اور یوٹیوب میرے ڈیٹا کی بنیاد پر مجھے بتائیں گے کہ مجھے چھٹیاں کہاں گزارنی ہیں، مجھے کون سی فلم دیکھنی ہے، کون سا کالج جوائن کرنا ہے اور کون سی یونیورسٹی میرے حق میں بہتر ہو گی۔ اور تو اور میرے جیون ساتھی کا انتخاب واٹس ایپ کے رحم و کرم پر ہو گا، واٹس ایپ مجھے بتائے گا”میں بچپن سے تمہیں جانتا ہوں، میں نے تمہاری اسٹڈی کا سار ا ریکارڈ دیکھا ہے، تم نے کون سی فلمیں دیکھی ہیں میں جانتا ہوں، میں نے تمہارے معاشقے کے سارے میسجز پڑھے ہیں، میں نے تمہاری شیئر کر دہ ہر تصویر دیکھی ہے، تمہاری ساری کالز سنی ہیں، میں تمہارے ڈی این اے اور دل کی دھڑکنوں کے اعداد وشمار سے بھی واقف ہوں، اس سارے ڈیٹا اور رومان کے بارے میں کئی دہائیوں کے لاکھوں اعدادو شمار کی بنا پر میں کہوں گا کہ تم فلاں کو جیون ساتھی چن لو اور ستاسی فیصد امکان یہی ہے کہ تم اس کے ساتھ خوش رہو گے۔“ واٹس ایپ مزید کہے گا ”میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ بات تمہیں پسند نہیں آئے گی، کیونکہ تمہارے ڈیٹا کی بنا پر میں جانتا ہوں کہ تم بیرونی خوبصورتی کو زیادہ ترجیح دیتے ہو، تمہاری خواہش یہی تھی کہ میں بیرونی خوبصورتی کو ترجیح دوں مگر میں نے حقیقت پر مبنی جواب دیا ہے، یقینا شکل و صورت سے فرق پڑتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو، تمہاری نسل جس نے ہزاروں سال افریقہ کے جنگلات میں نمو پائی ہے، میری تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ وہ طویل مدتی رومانی تعلقات میں شکل و صورت کو محض چودہ فیصد اہمیت دیتی ہے اس لیے میں یہی کہوں گا کہ تم فلاں کو اپنا شریک سفر چن لو۔“واٹس ایپ میرے بارے میں یہ سب کیسے کہے گا ، اس ڈیٹا کی بنا پر جو میں آٹھ فروری سے پہلے اس کے حوالے کر دوں گا۔آج ہمارے ذاتی اعداد وشمار ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں اور ہم اپنا یہ اثاثہ آٹھ فروری تک بغیر سوچے سمجھے واٹس ایپ کو مہیا کردیں گے، ہم پہلے ہی یہ ڈیٹا گوگل پر ای میلز،ویب سائٹ سرچنگ اور فیس بک پر لائیک اور کمنٹ کی صورت میں مفت میں فراہم کر رہے ہیں،ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ہم یوٹیوب پربندروں کے کرتب اور فیس بک پر بلاوجہ لائیکس اور کمنٹس کی صورت میں اپنا آپ ان کمپنیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔اس ڈیٹا کے ساتھ اگر ان کمپنیوں کو ہماری جینیاتی معلومات بھی حاصل ہو جاتی ہیں (خواہ ہم خود ٹیسٹ کی صورت میں انہیں مہیا کریں یا یہ کسی اور طریقے سے حاصل کریں) تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا، ہم مکمل طور پر ان قوتوں کے رحم و کرم پر ہوں گے، یہ لوگ ہم سے زیادہ ہماری شخصیت کے بارے میں جانکاری رکھتے ہوں گے،انہیں معلوم ہوگا کہ دنیا کے کس خطے کے عوام کس طرح کے جینز کے مالک ہیں، ان کی خصوصیات کیا ہیں،ا ن کے عزئم کیا ہیں، یہ کیا سوچتے ہیں، انہیں کیسے مسخر کیا جاسکتا ہے، ان کے رجحانات کو کیسے بدلا جا سکتا ہے اور ان کے اذہان کو کیسے قبضے میں لیا جاسکتا ہے۔واٹس ایپ کا حالیہ اقدام اور کرونا ابھی شروعات ہیں، ممکن ہے مستقبل میں کسی اور بہانے سے ہر انسان کو ایک چپ یا کڑا پہننا لازم کر دیا جائے جس پر اس کے ساری جینیاتی اعدادو شمار درج ہوں، اس چپ یا کڑے کو کسی مرکزی نظام سے مربوط کر دیا جائے اور یہ قوتیں انسان کو جس طرح چاہیں نچاتی پھریں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *