اویسی کے پوروانچل دورہ سے یو پی میں ہلچل، مفتی احمد اللہ پھول پوری سے کریں گے ملاقات، مساجد اور مدارس میں ہوں گی میٹنگیں!

اویسی کے پوروانچل دورہ سے یو پی میں ہلچل، مفتی احمد اللہ پھول پوری سے کریں گے ملاقات، مساجد اور مدارس میں ہوں گی میٹنگیں!

اسدالدین اویسی وارانسی سے جونپور کا سفر دیدار گنج، ماہل، اعظم گڑھ ہو کر پھول پور جائیں گے جہاں پارٹی کارکنان کے ساتھ کئی میٹنگیں ہوں گی۔ یہ علاقے مسلم اور یادو اکثریتی علاقے ہیں۔

نئی دہلی: (تنویر) اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی، کانگریس اور سماجوادی پارٹی جیسی بڑی تنظیموں نے تو سرگرمیاں تیز کر ہی دی ہیں، اب چھوٹی چھوٹی پارٹیاں بھی مہم شروع کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اس بار اسمبلی انتخاب میں اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین) بھی اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ سنا چکی ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں سیاسی اٹھا پٹخ کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ اے آئی ایم آئی ایم پر مسلم ووٹوں کی تقسیم کا الزام لگاتار لگ رہا ہے۔ اس درمیان اسدالدین اویسی 12 جنوری سے پوروانچل کا دورہ شروع کر رہے ہیں جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کو بہت خاص اس لیے تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ کسی بھی عوامی جلسہ سے خطاب نہیں کریں گے، بلکہ جگہ جگہ پارٹی کارکنان سے ملاقات کریں گے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اپنے دورہ کے دوران وہ مساجد اور مدارس میں کچھ وقت گزارنے اور اہم مسلم شخصیات سے ملنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیے تشویشناک ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مسلم طبقہ ان دونوں پارٹیوں کو پسند کرتا ہے اور اویسی کی پارٹی یہاں بہتر کرتی ہے تو کانگریس – سماجوادی پارٹی کو نقصان پہنچنا یقینی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق منگل کے روز اویسی اعظم گڑھ پہنچ رہے ہیں جو کہ اکھلیش یادو کا مضبوط قلع تصور کیا جاتا ہے۔ اویسی جب پوروانچل کا دورہ کریں گے تو ان کے ساتھ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راجبھر بھی موجود ہوں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلم اور یادو طبقہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوششیں اویسی کے ذریعہ شروع ہو گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وارانسی کے بابت پور ائیر پورٹ سے اعظم گڑھ جانے کے لیے اویسی نے جس طرح سے جونپور والے راستہ کا انتخاب کیا ہے، اس کے پس پشت سیاسی معنی چھپے ہوئے ہیں۔
دراصل اویسی وارانسی سے جونپور، دیدار گنج، ماہل، اعظم گڑھ ہو کر پھول پور جائیں گے جہاں پارٹی کارکنان کے ساتھ کئی میٹنگیں ہوں گی۔ یہ علاقے مسلم اور یادو اکثریتی علاقے ہیں اور اویسی پارٹی کارکنان سے سیاسی ماحول جاننے کی کوشش کریں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے اتر پردیش صدر شوکت علی نے ایک خبر رساں ادارہ کو بتایا کہ پارٹی تنظیمی اراکین اور کارکنان سے ملنے کے لیے اسدالدین اویسی اعظم گڑھ پہنچ رہے ہیں اور وہ گرینی مدرسہ کے ساتھ ساتھ مدرسہ بیت العلوم سرائے میر جائیں گے۔ اویسی یہاں مدرسہ کے ناظم اعلیٰ مفتی احمد اللہ پھول پوری سے ملاقات کریں گے اور کچھ دیگر علماء و اہم شخصیات سے بھی اس دورہ کے دوران ملاقاتیں ہوں گی۔ ظاہر ہے اس طرح اویسی مسلم طبقہ میں یہ بات پھیلانے کی کوشش کریں گے کہ ان کے مسائل اور پریشانیوں کو سمجھنے والی ہمدرد پارٹی آ رہی ہے۔
اویسی کا پوروانچل دورہ یو پی اسمبلی انتخابی مہم کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے، اب اویسی اور راجبھر مل کر مسلم اور یادو طبقہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے، لیکن اویسی کی یو پی میں دستک سماجوادی پارٹی کے لیے پریشانیاں بڑھانے والی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ وقت سے مسلم ووٹوں کی طاقت پر زیادہ سیٹیں حاصل کرتی رہی ہے۔ بہار میں اویسی کی پارٹی نے جس طرح سے مسلم اکثریتی علاقوں میں پانچ سیٹیں جیت ہیں، اسے دیکھتے ہوئے اتر پردیش میں سیکولر پارٹیوں کو خطرہ محسوس ہونا لازمی ہے، اور اس سے اگر سب سے زیادہ کسی کا فائدہ ہوگا تو وہ بی جے پی کو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا دانشور طبقہ اویسی کے ذریعہ یو پی اسمبلی انتخاب میں اترنے کے اعلان پر خوفزدہ ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ آنے والے دنوں میں سماجوادی پارٹی، کانگریس، بہوجن سماج پارٹی اور سیکولر سوچ کے ساتھ آگے آنے والی دیگر پارٹیاں اے آئی ایم آئی ایم کا کس طرح مقابلہ کریں گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *