کمیٹی میں شامل چاروں اراکین ’زرعی قوانین‘ کے حامی!

کمیٹی میں شامل چاروں اراکین ’زرعی قوانین‘ کے حامی!

کمیٹی میں شامل بھوپندر مان، انل گھنونت، اشوک گلاٹی اور پرمود جوشی کے ذریعہ گزشتہ دنوں الگ الگ پلیٹ فارم پر دیئے گئے بیانات زرعی قوانین کی حمایت میں تھے، ہاں کچھ اراکین اس میں ترمیم ضرورت چاہتے ہیں۔
نئی دہلی: (تنویر) عدالت عظمیٰ نے آج متنازعہ زرعی قوانین کے تعلق سے جاری مرکز کی مودی حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان جاری رخنہ اندازی کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ کمیٹی ثالثی کے لیے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ دونوں فریقین کی بات سن کر مسئلہ کا حل تلاش کرے گی۔ اس کمیٹی میں جو چار اراکین شامل کیے گئے ہیں ان کے نام ہیں بھوپندر سنگھ مان (قومی سربراہ، بھارتیہ کسان یونین)، انل گھنونت (سربراہ، شیتکاری سنگٹھن)، اشوک گلاٹی (ماہر زراعت)، پرمود کمار جوشی (ماہر زراعت)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چاروں ہی افراد کا بیان متنازعہ زرعی قوانین کی حمایت میں سامنے آ چکا ہے۔ گویا کہ اس کمیٹی میں کوئی ایسا شخص شامل نہیں ہے جو مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا حامی ہو۔ ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو رد کرنے کے مطالبہ پر بضد کسانوں کی باتیں کیا غیرجانبداری کے ساتھ سنی جا سکیں گی۔ آئیے جانتے ہیں کہ کمیٹی میں شامل چاروں اراکین نے گزشتہ دنوں متنازعہ زرعی قوانین کے تعلق سے کیا رد عمل دیا تھا۔
بھوپندر سنگھ مان:
متنازعہ زرعی قوانین کی حمایت کرنے والے کسان لیڈروں میں بھوپندر سنگھ مان کا نام شامل ہے۔ انھوں نے تینوں زرعی قوانین کی حمایت کرتے ہوئے مودی حکومت کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں گزارش کی گئی تھی کہ قانون میں ترمیم کی جائے، قانون کی واپسی نہیں ہو۔ گزشتہ 14 دسمبر کو مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کو تحریر کردہ خط میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’آج ہندوستان کے زرعی نظام کو آزاد کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں جو تین قوانین پاس کیے گئے ہیں، ہم ان قوانین کے حق میں حکومت کی حمایت کرنے کے لیے آگے آئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے کچھ حصوں میں اور خصوصاً دہلی میں جاری کسان تحریک میں شامل کچھ عناصر ان زرعی قوانین کے بارے میں کسانوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انل گھنونت:
شیتکاری سنگٹھن کے صدر انل گھنونت کا ایک بیان گزشتہ دنوں سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ غور و خوض کے بعد قوانین کو نافذ کرے اور وہ ان قوانین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی گھنونت نے یہ بھی کہا تھا کہ ان قوانین کو واپس لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ قوانین کسانوں کے لیے مواقع کے کئی دروازے کھول رہی ہے۔
اشوک گلاٹی:
ماہر زراعت اشوک گلاٹی بھی گھنونت کی ہی طرح زرعی قوانین کی واپسی کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔ 1991 سے 2001 تک وزیر اعظم کے معاشی مشیر کونسل کے رکن رہے گلاٹی نے انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان تینوں قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہوگا، لیکن حکومت یہ بتانے میں کامیاب نہیں رہی۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ کسان اور حکومت کے درمیان ڈائیلاگ کی کمی ہے جسے دور کیا جانا چاہیے۔
پرمود کمار جوشی:
ماہر زراعت اور بین الاقوامی فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک پرموش کمار جوشی نے گزشتہ دنوں ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’’ہمیں ایم ایس پی سے اوپر اٹھ کر، نئی پرائس پالیسی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کسانوں، صارفین اور حکومت کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے۔ ایم ایس پی کو خسارے کو پورا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اب ہم اسے پار کر چکے ہیں اور بیشتر اشیاء میں سرپلس ہیں۔ مشوروں کا استقبال ہے۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *