سری لنکا بنام کشمیر : 13ویں ترمیم اور دفعہ 370

سری لنکا بنام کشمیر : 13ویں ترمیم اور دفعہ 370

افتخار گیلانی 

اس سال اپریل – مئی میں بھارت میں پانچ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جن میں تامل ناڈو، مغربی بنگال، آسام، کیرالا اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پانڈیچری شامل ہیں۔ ان میں جنوبی صوبہ تامل ناڈو اور مغربی بنگال اس لئے اہم ہیں، کیونکہ ان دونوں صوبوں میں مرکز میں حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکیلے یا اتحادیوں کے دم پر پہلی بار اقتدار میں آنے کیلئے پر تول رہی ہے۔ چونکہ تامل ناڈو کی داخلی سیاست پر سری لنکا کی صورت حال اور وہاں تامل اقلیت کی حالت زار اثر انداز ہوتی ہے، اسی لئے پچھلے ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کو کولمبو بھیج کر وہاں حکمرانوں کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ وہ تامل علاقوں کو مزید اختیارات دینے کے اپنے وعدوں کا ایفا کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ جے شنکر نے سری لنکا کے صدر گوٹا بایا راج پکشا کو اس سال 26جنوری یعنی یوم جمہوریہ کے موقعہ پر تقریبات میں بطور مہمان خصوصی کے بطور شرکت کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔ مگر راج پکشا نے معذوری ظاہر کی۔ ذرائع کے مطابق مودی حکومت کسی طرح سری لنکا کے صدر سے تامل اقلیت کیلئے کسی رعایت کے اعلان یا بیان کی توقع کر رہی ہے، تاکہ اس کو تامل ناڈو کے انتخابات میں بھنایا کر ووٹ بٹورے جاسکیں۔ جولائی 1987میں سری لنکا کے صدر جے آر جئے وردھنئے اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کے بعد سری لنکا نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے شمالی اور شمال مشرق میں تامل اکثریتی علاقوں کو متحد کرکے ایک علاقائی کونسل تشکیل دینے پر رضا مندی ظاہر کی تھی اور یہ طے پایا گیا تھا کہ دفاع، خارجہ پالیسی اور مالی معاملات یعنی کرنسی کے علاوہ بقیہ تمام معاملات میں یہ کونسل خود مختار ہوگی۔ اس کے بعد سری لنکا حکومت نے پارلیمنٹ میں باضابطہ قانون سازی کرکے آئین میں 13ویں ترمیم کی۔ مگر اس کو ابھی تک سرکاری طور پر نوٹیفائی کیا نہ اس پر عمل درآمد کرنے کی سعی کی ہے۔ تامل ٹائیگرز یعنی ایل ٹی ٹی ای اور سنہالا بدھ اکثیریت نے اس ترمیم کو مسترد کردیا تھا۔ تامل ٹائیگرز تو مکمل آزادی سے کم کسی بھی فارمولہ پر راضی نہیں تھے، سنہالا بدھ ملک کے اندر تامل خود مختار علاقہ قائم کرنے کے مخالف تھے۔ سنہالا بدھوں کی شہہ پر تو موجودہ حکومت نے کئی بار اس کونسل کو تحلیل کرنے اور سری لنکا کو ون یونٹ بنانے کی کوشش کی۔ سری لنکا کے آئین میں اس 13ویں ترمیم کو و ہی حیثیت ہے، جو بھارتی آئین میں دفعہ 370 اور 35 اے کو حاصل تھی، جس کی رو سے ریاست جموں و کشمیر کو چند آئینی تحفظات حاصل تھیں۔ ان دفعات کو اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے نہ صرف منسوخ کردیا بلکہ ریاست ہی تحلیل کردی۔ اب سری لنکا حکومت کو تامل ہند و اقلیت کے سیاسی حقوق کی پاسداری کرنے کا وعدہ یاد لانا اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت والا معاملہ لگتا ہے۔ بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی طرز پر ہی بھارت نے ہی سری لنکا میں تامل اقلیت کو شمالی صوبہ جافنا کو آزاد کروانے پر اکسایا تھا، اور اس کیلئے تامل ناڈو کو مستقر بنا کر تامل انتہا پسندوں کو گوریلا جنگ کے لئے تیار کرنا شروع کردیا تھا۔ کانگریس کے ایک مقتدر لیڈر اور ایک سابق وزیر نے ایک بار مجھے بتایا کہ اگر 1984ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کو سکھ باڈی گارڈ ہلاک نہ کرتے تو بنگلہ دیش کی طرز پر سری لنکا کے شمالی علاقہ جافنا پر مشتمل ایک علیحدہ مملکت وجود میں آگئی ہوتی۔ تامل ناڈو کے سابق وزیرا علیٰ کے کرونا ندھی نے بھی ایک بار دہلی میں ایک نجی محفل میں بتایا کہ مسز گاندھی نے سری لنکا کو 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی معاونت کرنے پر کبھی معاف نہیں کیا تھا۔ سر ی لنکا نے پاکستانی فضائیہ اور ڈھاکہ جانے والے پاکستانی سویلین جہازوں کے لئے کولمبو میں ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کی تھی۔ بنگلہ دیش بننے کے فوراً بعد آنجہانی مسز گاندھی اور ان کے رفقا نے تامل علیحدگی تحریک کا رخ سری لنکا کی طرف موڑ دیا ۔ کرونا ندھی یہ بھی یاد دلاتے تھے کہ 1987 میں دہلی کے اشوکا ہوٹل کے ایک کمرے میں وزیر اعظم راجیو گاندھی نے وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی موجودگی میں 40 لاکھ روپیوں سے بھرا ایک سوٹ کیس تامل ٹائیگرز کے کمانڈر ویلوپلائی پربھاکرن کے حوالے کیا تھا۔ جب بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، تو سری لنکا کے سہنالا بدھ لیڈروں نے بھی شادیانے منائے۔ ان کے مطابق اب بھارت سری لنکا پر 13ویں ترمیم کے نفاذ کیلئے زور نہیں ڈال پائے گا۔ سری لنکا کے موجودہ وزیرا عظم مہندا راجاپکشا نے تو ٹویٹ جاری کرکے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ ماہرین نے تو اسی وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سری لنکا کے نئے صدر کیلئے مودی حکومت کا قدم نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوگا۔ تامل تجزیہ کار شاستری راما چندرن کے مطابق جموں کشمیر پر آئینی سرجیکل اسٹرائک کرنے کے بعد بھارتی حکومت کے پاس سری لنکا کو 13ویں ترمیم کے نفاذ پر مجبور کرنے کیلئے کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا ہے۔ 2019 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر راجا پکشا کی پارٹی ایس ایل پی پی نے واضع کر دیا تھا کہ کشمیر میں بھارتی حکومت کا قدم سری لنکا حکومت کیلئے تقلید کا باعث ہوگا۔ جنوبی صوبہ تامل ناڈو کے ایک سینیر سیاستدان وی گوپال سوامی المعروف ویکو نے مودی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ کشمیر پر اس کے فیصلے کے مضمرات سفارتی سطح پر خاصے پیچیدہ ہوں گے اور سری لنکا کی تامل آبادی کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑ ے گا۔ راما چندرن ، جنہوں نے سری لنکا پر ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے کا کہنا ہے کہ گوٹا بایا راجا پکشا اور ان کے برادر مہندا راجا پکشا نے اکثریتی سنہالا بدھ آبادی کو تامل ہندو آبادی اور بھارت کا خوف دلا کر انتخابات میں اسی طرح لام بند کیا، جس طرح مودی نے بھارت میں مسلمانوں اور پاکستان سے ہندو اکثریتی فرقہ کو خوف زدہ کرکے ووٹ بٹورے۔ سابق سفارت کار ایم کے بھدر کمار کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی موجودہ حکومت اور مودی حکومت میں خاصی مماثلت ہے۔ سری لنکا میں یہ احساس گھر کر چکا ہے کہ 2015 میں بھارت اور مغربی طاقتوں کی سازش کی وجہ سے مہندا راجا پکشا انتخابات ہار گئے تھے۔ راجا پکشا نے تو بھارت پر سری لنکا کے انتخابات میں مداخلت کا بھی الزام لگایا تھا ، جس کے بعد بھارت کو کولمبو میں خفیہ ایجنسی را کے ایک افسر کے ایلنگو کو واپس بلانا پڑا۔ سری لنکا میں انتخابات سے قبل تامل پارٹیوں نے سبھی سیاسی پارٹیوں کے سامنے ایک تیرہ نکاتی چارٹر پیش کیا تھا۔ جس میں تامل مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنا، اختیارات تفویض کرنا، حق خود ارادیت کے ذریعے تامل علاقوں کی خود مختاری کو یقینی بنانا، ون یونٹ اسٹیٹ کو مسترد کرکے وفاقی ڈھانچہ کو تشکیل دینا، عالمی اداروں کے ذریعے تامل آبادی پر ہوئے ظلم و ستم کی جانچ کرنا، سخت قوانین کالعدم کرنا اور تامل آبادیوں میں اکثریتی سنہالا بدھ آبادی کی باز آبادکاری روکنا جیسے امور شامل تھے۔ ان سبھی مطالبوں کو راجا پکشا حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔ خیر فی الوقت اسوقت تامل ناڈو میں سیاست ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔ بھارت کے خفیہ اداروں کے حساس صوبوں کی فہرست میں جموں و کشمیر کے بعد تامل ناڈو اب دوسرے نمبر پر ہے۔ اس خطے کے دو اہم لیڈروں اور سابق وزرا ء اعلیٰ جے جیہ للتا اور ایم کرونا ندھی کی موت کے بعد بی جے پی کو لگتا ہے کہ وہ اتحادیوں کی مد د کے ساتھ وہ اس صوبہ میں اقتدار میں آسکتی ہے۔ اس لئے وہ سری لنکا میں تامل آبادی کیلئے آنسو بہا کر اور کسی طرح سری لنکا حکومت کو کسی رعایت کیلئے راضی کرواکے انتخابات جیتنے کا سامان مہیا کروانا چاہتی ہے۔ سری لنکا کی تامل اقلیت دراصل تامل ناڈو سے ہی ترک سکونت کرکے وہاں آباد ہوئی تھی۔ اقتصادی لحاظ سے تامل ناڈو اس وقت بھارت کے ترقی یافتہ صوبوں میں شامل ہے۔ زراعت میں خود کفالت کے علاوہ یہاں صنعتوں کا جال بچھا ہو اہے۔ بھارت کی دو ٹریلین ڈالر کی معیشت میں اس کا حصہ 210بلین ڈالر ہے۔ بھارت میں جہاں اوسط فی کس آمدن 86ہزار سالانہ ہے، وہیں اس صوبہ میں یہ ایک لاکھ 28ہزار ہے۔مگر خوشحالی کے ساتھ ساتھ کورپشن میں بھی یہ صوبہ سرفہرست ہے۔ انتخابات میں یہاں پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *