بریلی کے چند پور میں مسلمانوں کے 80 مکانات منہدم کرنے کا نوٹس جاری، لوگ پریشان

بریلی کے چند پور میں مسلمانوں کے 80 مکانات منہدم کرنے کا نوٹس جاری، لوگ پریشان

ایک ہفتہ قبل بی ڈی اے نے چند پور گاؤں میں ایک مزار زمیں دوز کر دیا تھا۔ اس وقت احتجاج کرنے والوں پر پولس نے لاٹھی چارج بھی کیا تھا اور اب 80 مسلم کنبوں کے سر سے چھت چھیننے کا نوٹس جاری ہو گیا ہے۔

بریلی: (مشاہد رفعت) بریلی کے چند پور گاؤں میں ایک ہفتہ پہلے اوگا شاہ بابا کا مزار گرانے کے بعد ربیلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) نے اب مسلمانوں کے 80 مکانات گرانے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ لوگ اپنے اپنے کاغذات لے کر جمعرات کو بی ڈی اے پہنچے اور وی سی سے ملاقات کی۔ وی سی نے لوگوں سے کہا کہ پرانے کاغذات میں وہ پورا علاقہ بی ڈی اے کے نام درج ہے۔ بی ڈی اے اپنی ایک انچ زمین بھی چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ اگر گاؤں والے عدالت جانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں۔

بتھری بلاک کے چند پور گاؤں میں مسلمانوں کی بستی پر بی ڈی اے کی سختی تقریباً 10 دن قبل شروع ہوئی تھی۔ پہلے تو بی ڈی اے کے کچھ افسران چند پور گاؤں کے پاس ایک پولس چوکی میں گاؤں کے لوگوں سے ملے اور ان سے کہا کہ مزار غیر قانونی قبضہ کر کے بنایا گیا ہے، لہٰذا لوگ خود ہی اسے ہٹا دیں۔ گاؤں والوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ افسران یہ کہہ کر چلے گئے کہ وہ اگلے دن صبح 9 بجے فون کر کے بتائیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اگلی صبح جب بی ڈی اے کے افسران پولس اور جے سی بی لے کر پہنچے تو گاؤں والے حیران رہ گئے۔ ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود بی ڈی اے نے مزار کی عمارت گرا ڈالی۔ احتجاج کرنے والوں پر پولس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔

مزار کمیٹی کے لوگ گاؤں والوں کے ساتھ درگاہ اعلیٰ حضرت پہنچے اور پورا معاملہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ اوگا شاہ بابا کے مزار پر گزشتہ 50 برسوں سے عرس ہوتا رہا ہے جس کی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت ملتی ہے۔ پانچ چھ سال پہلے قبر کے گرد ایک حجرہ اور چبوترہ بنا کر ایک گنبد بھی تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد بھی عرس ہوتا رہا ہے۔ بی ڈی اے کی جانب سے نہ تو تعمیر سے پہلے کوئی اعتراض کیا گیا اور نہ ہی تعمیر کے بعد۔

بہر حال، مزار کمیٹی کی طرف سے جب یہ معاملہ درگاہ اعلیٰ حضرت پہنچا تو وہاں سے رضا ایکشن کمیٹی، تحریک تحفظ سنیت، جماعت رضائے مصطفیٰ اور اتحاد ملت کونسل جیسی تنظیموں کے نمائندے گاؤں پہنچے اور لوگوں سے وعدہ کیا کہ وہ مزار دوبارہ بنوانے کے لیے افسروں سے ملاقات کریں گے۔ ان تنظیموں نے بی ڈی اے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ میٹنگ کے بعد دعویٰ کیا کہ بی ڈی اے دوبارہ مزار بنوانے پر رضامند ہو گیا ہے۔ حالانکہ بی ڈی اے ڈپٹی کمشنر یا انتظامیہ کی جانب سے ایسا کوئی آفیشیل بیان نہیں آیا۔ الٹا یہ ہوا کہ دو تین دن پہلے بی ڈی اے کی طرف سے تقریباً 80 لوگوں کو نوٹس بھیج دیا گیا۔ یہ نوٹس 7 جنوری کو جاری کیا گیا۔ ہر کسی کو ایک جیسا نوٹس ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’آپ کا مکان غیر قانونی ہے، اس کے بارے میں 14 جنوری کو بی ڈی اے دفتر پہنچ کر اپنی بات رکھیے۔‘‘

اس نوٹس کے پیش نظر آج یعنی 14 جنوری کو تقریباً 250 گاؤں والے بریلی شہر میں بی ڈی اے دفتر پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ رضا ایکشن کمیٹی کا نمائندہ وفد بھی بی ڈی اے کے وی سی سے ملا۔ گاؤں کے لوگوں نے اپنی رجسٹریاں، نوٹریاں وغیرہ افسروں کو دکھائیں جس پر انھیں جواب دیا گیا کہ آپ کے ساتھ زمین فروخت کرنے والوں نے دھوکہ دہی کی ہے، آپ چاہیں تو ان کے خلاف عدالت جا سکتے ہیں۔ افسروں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ ساری زمین بی ڈی اے کی ہے اور بی ڈی اے ایک انچ زمین بھی نہیں چھوڑے گا۔

فی الحال گاؤں والوں کو اس مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے۔ بی ڈی اے افسروں کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں شامل محمد یونس بتاتے ہیں کہ انھوں نے پانچ سال پہلے 100 گز زمین کی رجسٹری کرائی تھی۔ اس کے لیے انھوں نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دی تھی۔ آج وہ پریشان ہیں کہ ان کے گھر پر کبھی بھی جے سی بی چلائی جا سکتی ہے۔ یونس کی طرح چند پور میں سینکڑوں مسلمانوں کے سر سے چھت چھن جانے کا خطرہ صاف نظر آ رہا ہے۔ بی ڈی اے جس انداز میں گزشتہ ہفتے کارروائی کر چکا ہے، اسے دیکھ کر لگتا نہیں کہ وہ آسانی سے بیک فٹ پر جائے گا۔ اس علاقے میں بیشتر افراد معاشی طور پر کمزور ہیں اور انھوں نے کسی طرح زندگی بھر کی کمائی لگا کر سر پر چھت کا انتظام کیا تھا۔ بڑے ارمانوں سے بنائے گئے ان آشیانوں کا کیا ہوگا، یہ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *