کسان تحریک: 26 جنوری کو نکلنے والی ’ٹریکٹر ریلی‘ سے متعلق کسان لیڈر نے لکھا ’کھلا خط‘

کسان تحریک: 26 جنوری کو نکلنے والی ’ٹریکٹر ریلی‘ سے متعلق کسان لیڈر نے لکھا ’کھلا خط‘

خط میں کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے کسان تحریک کی کامیابی کا اصل ’منتر‘ امن و امان برقرار رکھے جانے کو ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ’’تشدد زوال کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘

نئی دہلی: (تنویر) سنیوکت کسان مورچہ نے 26 جنوری کو جو ٹریکٹر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہوا ہے، اس سلسلے میں سبھی طرح کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ خبروں کے مطابق کسانوں نے دہلی کے بارڈرس پر ہی ٹریکٹر پریڈ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کے ارادہ سے یہ ریلی نہیں نکال رہے بلکہ اس کے ذریعہ وہ اپنا احتجاج درج کریں گے۔ اس درمیان مشہور کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے کسانوں کے نام ایک ’کھلا خط‘ لکھا ہے جس میں انھوں نے ہر حال میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

خط میں راجیوال نے کسان تحریک کی کامیابی کا اصل ’منتر‘ امن و امان برقرار رکھے جانے کو بتایا ہے اور کہا ہے کہ ’’تشدد زوال کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ راجیوال نے پریڈ کے نام پر اشتعال انگیز بیان دینے اور بیریکیڈ توڑنے کے لیے ٹریکٹروں کو ’موڈیفائی‘ کروا رہے لوگوں کی مذمت بھی خط میں کی اور کہا کہ اس طرح کی چیزوں سے لوگوں کو باز رہنا چاہیے۔

بلبیر سنگھ راجیوال کا یہ ’کھلا خط‘ پنجابی اخبار ’ٹریبیون‘ کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوا ہے۔ اخبار میں شائع خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’ہم مرکزی حکومت کے تین کسان مخالف قوانین کو رد کروانے کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ یہ دنیا کی تاریخ میں طویل مدت تک چلنے والا، سب سے زیادہ لوگوں کی شراکت داری والا، پوری طرح پرامن تحریک ہے۔ پوری دنیا کی نگاہیں تحریک پر مرکوز ہیں۔ دنیا بھر میں پنجابی اور عام ہندوستانی دھرنے اور جلوس نکال کر اپنی موجودگی درج کرا رہے ہیں۔ یہ صرف کسانوں کی تحریک نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر طبقہ نے قوانین کے مضر اثرات کو سمجھ کر اپنی شراکت داری درج کروائی ہے۔‘‘

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’زرعی قوانین کی مخالفت میں شروع ہوئی تحریک ملک بھر میں عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کا پھیلاؤ پنجاب سے ہوتے ہوئے ہریانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور ملک کی دیگر سبھی ریاستوں میں ہو گیا ہے۔ تحریک ہر مرحلہ کو پرامن طریقے سے کامیابی کے ساتھ پار کر رہا ہے۔ ہر وقت اس احتجاجی مظاہرہ میں پالیسی کے مطابق نئے مراحل قائم کرنے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے لوہڑی پر سیاہ قوانین کی کاپیاں نذرِ آتش کیں۔ اس بار ہم 18 جنوری کو ’یومِ خاتون کسان‘ منانے جا رہے ہیں۔ ہم دسویں گرو شری گروگوبند سنگھ جی کے ’پرکاش دیوس‘، 20 جنوری کو ’یومِ عزم‘ کی شکل میں منائیں گے۔ سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش یعنی 23 جنوری کو آزاد ہند کسان دیوس کی شکل میں منایا جائے گا۔ ہر سال کی طرح 26 جنوری ہمارے لیے یوم جمہوریہ ہے۔ اس دن ہم دہلی کے سرحدی مقامات سے بڑی تعداد میں کسانوں کی پریڈ کریں گے۔ اس کے بعد بھی کئی مراحل ہوں گے جو اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک کہ تحریک کا مقصد حاصل نہیں کر لیا جاتا۔‘‘

26 جنوری کو ٹریکٹر پریڈ نکالے جانے کے تعلق سے خط میں لکھا گیا ہے کہ ’’میں 26 جنوری کو ہونے والے مظاہرہ سے متعلق پھیلائی جا رہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے آپ سے خصوصی طور پر مخاطب ہوں۔ ٹریکٹر پریڈ کو کامیاب بنانے کی پالیسی کا انکشاف ہم اگلے ہفتے کریں گے۔ لیکن جس طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، انھیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ابھی سے مشتہر کیا جا رہا ہے کہ کسانوں کا بغاوتی پروگرام ہے اور یہ تحریک کا آخری مرحلہ ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس دن لال قلع پر پرچم لہرایا جانا چاہیے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پارلیمنٹ پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان بے بنیاد، اشتعال انگیز باتوں نے سبھی مظاہرین کسان تنظیموں کو فکرمند کر دیا ہے۔ کچھ کسان مخالف طاقتوں نے عام لوگوں کے پرامن مظاہرہ کو ناکام کرنے کے لیے جھوٹی باتوں کا سہارا لیا ہے۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے سرکاری ایجنسیاں بھی موجود ہیں۔‘‘

’ٹریبیون‘ میں شائع خط میں آگے لکھا گیا ہے کہ ’’سننے میں آیا ہے کہ کچھ نوجوان پولس بیریکیڈ توڑنے کے لیے ٹریکٹروں میں جگاڑ بھی کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ افسوسناک بھی ہے۔ تحریک کی کامیابی کے لیے شری دربار صاحب سے دعا کی گئی ہے، ہر گاؤں میں گرو گھر سے ارداس ہو، ہندو ہوَن کر رہے ہوں، مسلم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں، ایسے میں کیا کوئی کسان پرتشدد بھیڑ میں بدل کر تحریک کو ناکام کرنے کی سوچ سکتا ہے۔ حکومت ہماری تحریک میں خالصتانیوں اور دہشت گردوں کے ہونے کا الزام لگا رہی ہے۔ ایسے وقت میں ہر کسان کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سبھی مل کر تحریک کو پرامن بنائے رکھنے کے لیے پوری طاقت لگائیں۔ تحریک کو پرامن رکھنے میں ہی ہماری کامیابی ہے۔ اشتعال انگیز نعرے اور گرم بیان بازی تحریک کو پٹری سے اتار دیں گی، اس لیے اس سے بچیں۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *