قاتلانہ مذاق

قاتلانہ مذاق

فیصل نذیر
ہم چار دوست ایک تین روم کے فلیٹ میں بٹلہ ہاؤس میں رہتے تھے، سب طالب علم تھے، دو لوگ جامعہ ایک دہلی یونیورسٹی اور ایک جے این یو میں زیر تعلیم تھے، خوش آئند بات یہ تھی بہت ہی فرسودہ اور بوسیدہ مدرسے اور وہاں کے مولاناؤں کے درمیان رہنے کے باوجود سب یونیورسٹی میں آ کر مذہبی اور مسلکی تنگ نظری سے دور چلے گئے تھے، یونیورسٹی میں آئے سب کو تقریباً ایک دہائی گذر چکی تھی ۔
نثار دیوبند کے فاضل تھے، اسرار مدرسۃ الفلاح اعظم گڈھ کے فارغ، افروز اشرفیہ مبارک پور کے فارغ، اور امانت سلفیہ بنارس سے فارغ التحصیل تھے. سب میں خوب مذاق مستی، شاعری و عاشقی کا ذکر چلتا، غرضیکہ دیوبندی بریلی اہل حدیث و دیگر مکتبِ فکر کے سارے ہی لوگ جمع تھے. سب اپنے اور دوسروں کے مسلکی تنگ نظری کو اجاگر کر کے مذاق اڑاتے، کوئی کہتا: یار، تم بریلی لوگ کتنے پاک و صاف ہو اور تمہارا ایمان اتنا اعلی اور نرالا ہے کہ کسی مسلمان کے پیچھے تمہاری نماز ہی نہیں ہوتی!
ایک بریلوی دوست گنگنا رہے تھے : نور کا ساغر، نور کا مے ہے، نور کا چھلکا جام، مدینہ تجھے سلام …
تو نثار صاحب پوچھتے ہیں یہ لفظ کیا ہے؟ نور کا تڑکا جام؟
انہوں نے درست کرتے ہوئے کہا کہ یہ ” نور کا چھلکا جام ” ہے ۔
تو اہل حدیث دوست ادھر سے ٹوک پڑے، یار میں تو اسے اب تک ” نور کا چکّا جام ” سمجھ رہا تھا. اور سب قہقہہ مار کر ہنسنے لگے ۔
امانت نے اسرار کو سمجھایا کسی بریلوی عوام کے سامنے مت بول دیجئے گا، ورنہ لنچنگ ہوجائے گی، بھائی ان کے میلاد نور کے لفظ سے شروع ہو کر نور کے لفظ پر ہی ختم ہوتے ہیں. اور اسی کا آپ چکّا جام کر دیجئے گا تو کام کیسے چلے گا.
سارے دوست اپنی اپنی روداد سناتے کہ کس طرح ان کے گاؤں میں لوگ ان سے حسد کرتے ہوئے ان کی عیب جوئی کرتے ہیں کہ دیکھو بگڑ گیا، پینٹ شرٹ پہننے لگا. اور سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ان سب سے گاؤں کے دوستوں نے یہ سوال ضرور کیا کہ کتنی گرل فرینڈ ہے یونیورسٹی میں؟
اور جب کوئی مدرسہ سے بٹلہ ہاؤس میں آتا یا جامعہ کے امتحان کے لیے ایک دو دن رکتا تو سارے اہل کمرہ ان سے مکمل آزاد خیالانہ طور پر گفتگو اور سوال جواب کرتے. اور ان سے محبت و شفقت سے بھی پیش آتے ۔
کیونکہ لاک ڈاؤن کا ماحول تھا تو سب کے سب روم پر ہی رہتے اور آپس میں مل جل کر کھانا بناتے؛ کھانے کے وقت ایسا لگتا ہے جیسے کہ کوئی دعوت چل رہی ہے تمام لوگ موجود ہیں کوئی کھانا بنا رہا ہے کوئی برتن دھو رہا ہے غرض کہ پورا جشن اور بھوج کا ماحول ہوتا۔ چونکہ سب لوگ روم پر ہوتے اور جب کوئی مدرسے کا ساتھی آتا چاہے وہ کسی بھی مدرسے سے آیا ہو تو سارے دوست مل کر اس سے بہت ہی گنجلک؛ پیچیدہ اور پریشان کن سوالات پوچھتے؛ اور اگر کوئی مفتی ہو تو مفت میں کامیڈی نائٹس ہوجاتا تھا۔
کتنی تنخواہ ہے آپ کی؟
مدرسے کے ذمہ دار یا ناظم صاحب کی خصیہ برداری کا رواج تو نہیں ہے آپ کے مدرسے میں؟
صدر المدرسین کا نا اہل بیٹا پریشان تو نہیں کرتا؟
آپ بچوں سے پیر کتنی دیر دَبوَاتے ہیں اور مزید کیا کیا جسمانی خدمات لیتے ہیں؟
امرُد پسند ہے یا امرَد؟
تنخواہ ملتی ہے یا چندہ کر کے نکالنی پڑتی ہے؟
اور وہ سب الگ الگ جواب پر آپس میں ہنستے اور مزہ لیتے۔
نثار نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ میرے ایک بہت ہی عجیب الخلقت دوست آ رہے ہیں جو مدرسے میں تھے تو پڑھائی کم اور دیگر امور کی ذمہ داریاں زیادہ ادا کرتے تھے مثلا لائٹ چلی جائے تو جنریٹر چالو کرنا؛ باورچی اگر بیمار ہو تو کھانا خود ہی بنا لینا؛ بازار سے جا کر سارے دوستوں کا سامان لانا؛ غرضیکہ وہ پڑھائی کے علاوہ جتنی ذمہ داریاں ہوتی تھی وہ بخوبی انجام دیتے تھے؛ اسی لیے ناظم صاحب محبوب بھی رکھتے تھے اور کہتے تھے دنیا میں اچھا مقام پانے کے لئے یہی کوالیٹی کا ہونا آج کل زیادہ ضروری ہے، درسی صلاحیت ثانوی درجے کی چیز ہے، لہذا یہ تم سے زیادہ کامیاب ہوگا۔ وہ ناظم صاحب سے بھی بے تکلف اور کبھی کبھی ایسے گفتگو کرتا ہے جیسے کہ کوئی دوست گفتگو کر رہے ہوں؛ ہم لوگ آپس میں ڈر جاتے اور حیرت سے دیکھتے تھے لیکن چونکہ ناظم صاحب بھی جانتے تھے کہ وہ تھوڑا عقل سے ادھورا ہے اس لئے اس پر کوئی گرفت نہیں ہوتی؛ مرفوع القلم کے نام سے اسے درسی ساتھی بلاتے اور بعض لوگ یہ کہتے کہ تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی کیونکہ قیامت کا سوال و جواب بچوں اور مجنوں سے نہیں ہوگا۔
کمرے کے دوستوں نے اس دلچسپ شخصیت کے بارے میں سن کر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا: ایسے ہی بھولے لوگوں سے تو ملنے کا مزہ ہے۔ ایک نے کہا: کیونکہ کل کے ہمارے دوست بہت مذہبی ہے لہذا ان سے مذہبی مذاق کیا جائے؛ ایک نے کہا ہم ایسا کرتے ہیں ان کے سامنے گنجلک بات کر کے دیکھتے ہیں تا کہ جان سکیں کہ انکے پاس علمی دلائل ہیں یا بس ایسے ہی جنون ہے۔ سب کا اس بات پر اتفاق ہوگیا۔ اور امانت نے آئیڈیا دیا کہ کل جب آپ کے دوست آئیں گے تو آپ ہم تینوں کو کچھ اس طرح متعارف کرائیں کہ ہم میں سے ایک ملحد ہے، خدا کو نہیں مانتا۔ اور ہم میں سے ایک مُرتَد ہے جو پہلے مسلم تھا اور بعد میں اسلام چھوڑ کر ہندو ہو گیا۔ ایک نے کہا کہ میں خود کو قادیانی بتاؤں گا، اور اس طرح جو بھی ان کے اعتراضات اسلام پر ہیں وہی سب ان کے سامنے کر کے دیکھیں گے۔ تمام دوستوں کا اس بات پر اتفاق ہوگیا صبح دوستوں نے کھانے کا اہتمام کرتے ہوئے چکن بنانا شروع کیا ایک بجے کے قریب ان کے وہ مہمان آئے اور نثار نے تعارف کرایا کہ یہ تینوں لوگ میرے روم میٹ ہیں ہم ساتھ میں رہتے ہیں، ان میں سے ایک ہمارے دوست مرتد ہوگئے ہیں پہلے اسلام میں تھے پھر اسلام سے خارج ہوگئے ہیں؛ دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ہمارے دوست قادیانی ہیں؛ پنجاب سے آتے ہیں۔ تیسرے کا تعارف کرواتے ہوئے نثار نے کہا یہ ہمارے دوست ملحد ہیں یہ خدا کا انکار کرتے ہیں۔ نو وارد مہمان حیرت اور اسجعاب میں ڈوب گئے اور مکمل پریشان ہوگئے۔ خیر ان کو چائے پانی دیا گیا؛ بعد میں جب کھانے پر بیٹھے تو بات سے بات نکلنے لگی نثار صاحب نے سلاد وغیرہ کا انتظام کیا تھا اور اسے دسترخوان پر ہی کاٹ رہے تھے دھار دار چاقو ان کے ہاتھ میں تھی جس سے وہ چوقندر کاٹ رہے تھے۔ نو وارد مہمان نے نثار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آپ ان کے ساتھ کیسے ریتے ہیں؟ آپ نے کبھی سمجھانے کی کوشش نہیں کی؟ نثار نے مسکراتے ہوئے کہا اسی لیے تو آپ کو بلایا ہو کہ آپ انہیں صراطِ مستقیم پر چلائیں۔ تمام دوست زیر لب مسکرا نے لگے اور ایک دوسرے کو آنکھ مارنے لگے؛ قادیانی بننے کا ناٹک کر رہے اسرار سے مہمان کہنے لگے: آپ اسلام قبول کیوں نہیں کر لیتے؟
انہوں نے بناوٹی غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آپ لوگوں کی یہی تو پروبلم ہے کہ آپ ہمیں مسلمان ہی نہیں مانتے؛ ہم بھی مسلمان ہی ہیں؛ آپ لوگ پاکستان میں اور دیگر جگہوں پر ہم احمدیوں پر اتنا ظلم کر رہے ہیں؛ آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔
ان کے اس تیور پر مہمان خاموش ہو گئے۔
اس کے بعد وہ ملحد اسرار کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور کہنے لگے: آپ خدا کو کیوں نہیں مانتے؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا جب خدا ہے ہی نہیں تو اس کا وجود کیسا؟ دنیا کے تمام مذہب انسان کو مجبور اور مظلوم بنانے کے لیے ایجاد کیے گئے ہیں؛ میں مذہب سے زیادہ انسانیت کو ترجیح دیتا ہوں کیوں کہ دنیا کے تمام مذاہب نفرت کرنا ہی سکھاتے ہیں، اسلام کو ہی لے لیجیے مسلمانوں میں آپسی مسلکی منافرت اتنی زیادہ ہیں، عرب عجم میں تفریق ہے، یہود و نصاری اور غیر مسلموں کو کتنے برے القاب سے قرآن میں یاد کیا گیا ہے، ویسے میں تمام مذہب میں برائی ہی دیکھتا ہوں۔
یہ اس دوست کی طرف متوجہ ہوئے جنہوں نے خود کو مرتد کہا تھا اور کہنا شروع کیا: آپ مرتد کیوں ہوئے؟َ اسلام کیوں ترک کیا آپ نے؟
وہ دوست ایکٹنگ میں ماہر تھے انہوں نے ناراضگی سے چہرا بنا کر کہ میں نے اسلام سے بُرا مذہب آج تک نہیں دیکھا، موجودہ ہندوستان میں اس مذہب سے خود کو جوڑنا آ بیل مجھے مار محاورے کے مترادف ہے؛ اوپر سے مسلم سماج میں اتنی برائیاں ہے کہ میں کیا بتاؤں! موجودہ زمانہ کے اعتبار سے اسلام کہیں فٹ نہیں بیٹھتا؛ جو اچھی باتیں قرآن میں ہیں وہ مسلمانوں میں نہیں اور آج کل مسلمان جیساعمل کر رہے ہیں وہ قرآن میں نہیں؛ اسلام میں شخصی آزادی بالکل نہیں ہے۔ میرا تو اسلام میں دم گھٹتا تھا اب مجھے ایسا لگتا ہے کھلی فضا میں سانس لے رہا ہوں اور اسلام کا یہ قانون دیکھیے اسلام قبول کر لو تو کوئی بات نہیں لیکن اگر اسلام چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کر لو کر تو سنگ سار کر دیں گے! یہ کون سا امن کا مذہب ہے بھائی؟ یہ اسی وقت تک پُر امن رہتا ہے جب تک آپ اسے چھوڑ کر نہ جائیں!
اتنا سنتے ہی مہمان سرخ ہوگئے اور وہ ایک دم خاموش ہوگئے؛ نثار نے سلاد کاٹ کر چھوری قریب ہی رکھ دی تھی اور افروز کُوکَر اتار کر دسترخوان پر رکھ رہے تھے؛ مہمان نے چُھری اٹھائی اور زور سے پڑھا “فی نار جہنم” اور امانت کے گردن میں پیوست کردی ! نثار؛ افروز اور اسرار حیران ہوکرمیں اِدھر اُدھر دیکھنے لگے کہ کیا ہوا؟ کیسی آواز آئی؟ اِدھر خون کا ایک تیز فوارہ امانت کی گردن سے نکل کر چوقندر میں مل گیا اور سلاد کا رنگ کالا ہوگیا !!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *