کیا خبر تھی یہ زمانے بھی ہیں آنے والے؟

کیا خبر تھی یہ زمانے بھی ہیں آنے والے؟

پروفیسر اختر الواسع 
جو کچھ بھی پچھلے دنوں امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن ڈی سی میں دیکھنے کو ملا وہ ساری دنیا کے جمہوریت پسندوں کے لیے اعصاب شکن تھا تو دنیا کے تمام آمریت اور فسطائیت پسند حکمرانوں کے لیے اپنی بغلیں بجانے اور پیٹھ تھپتھپانے کا سنہری موقعہ تھا کیونکہ امریکہ کو اپنے تمام دعوں کے مطابق دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت ہونے کا دعویٰ تھا لیکن 2016 کے بعد جس طرح امریکہ کے شکست خوردہ اور ہزیمت کا شکار صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی طور پر اپنے ملک کی ساکھ، وقار اور اعتبار کو مجروح اور بدنام کیا اس سے زیادہ دنیا میں امریکہ کی فضیحت کبھی نہیں ہوئی۔ صدر بُش سینئر اور صدر بش جونیئر سے دنیا کو بلا شبہ بہت شکائتیں رہیں، ان کے اقوال اور افعال کی بھرپور مذمت بھی کی گئی لیکن کم سے کم امریکہ کے بارے میں ان پر نہ تو وہ الزامات لگے جو ٹرمپ کے حصے میں آئے اور نہ وہ جگ ہنسائی ہوئی جو آج ہو رہی ہے۔ کسی امریکی صدر نے ہمارے سامنے امریکہ کی کانگریس کی عمارت یعنی کیپٹل ہِل (Capital Hill) پر اس طرح نہ تو حملہ کرایا نہ وہاں کی مجالسِ قانون ساز کے ممبران کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی جیسی کہ ٹرمپ حامیوں نے کی۔ یہ ہماری جمہوری اقدار اور سیاسی شائستگی اور تہذیب کے لیے سب کچھ بڑا گھناؤنا عمل تھا۔ جمہوریت کی شان اور پہچان تحمل، برداشت اور شکست و فتح کو انتہائی فراست اور وقار کے ساتھ قبول کرنے اور خودآمادگی پر راضی ہونا ہوتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کبھی تولہ کبھی ماشہ کبھی رتّی جیسی غیر یقینی پالیسیوں اور زبانی ہرزہ سرائیوں سے نہ صرف اپنے کو بلکہ امریکہ کو بھی طنز و استہزا کا دنیا بھر میں اکثر موضوع بنائے رکھا۔ کورونا ویکسین ہو یا امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے ساتھ انسانیت ساز سلوک ہر معاملے میں ٹرمپ کا رویہ انتہائی تکلیف دہ بھی تھا اور ناقابل فہم بھی۔ بین الاقوامی سطح پر گزشتہ چار سال کی مدت میں صدر ٹرمپ نے امریکی مفادات کے تحفظ سے زیادہ اسرائیل کے صہیونی علمبرداروں کے حامل لوگوں کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنی گمراہ کن پالیسیوں کے سہارے مشرقِ وسطیٰ میں عربوں کو ایک دوسرے سے لڑانے، انہیں اسرائیل کے سامنے جھکانے اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے کی ساری تدبیریںکر ڈالیں۔ وہ تو بھلا ہو صدر ٹرمپ کی شکست کا کہ خلیجی تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس میں ایک دفعہ پھر بچھڑے ہوئے خلیجی ممالک قطر سے اپنے تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہو گئے کہ ایک بار پھر :
آ ملے ہیں سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ایک بار پھر ان کا ارتباطِ باہمی ممکن نہیں ہوتا اگر خیر سے امریکیوں کی دانشمندی کے نتیجے میں جوئے بائیڈن کے ہاتھوں صدر ٹرمپ کو شکست نہ ہو جاتی۔ یہ سب تنازعات عربوں کے بیچ قطر کے ساتھ اس کے باوجود کرائے گئے کہ قطر میں امریکہ کا ایک فضائی بیڑا پورے مشرقِ وسطیٰ پر نگاہ رکھنے کے لیے موجود ہے اور اگر قطر کے ساتھ عربوںکا کوئی تنازعہ جنگ کی صورت اختیار کر لیتا تو اس سے امریکہ کو بھی شدید نقصان ہو سکتا تھا۔ بہرحال اس تنازعے اور اس کے خوش گوار حل سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کو بھی سبق لینا چاہیے اور قطر کو اپنی ترقی پسندانہ پالیسیوں بالخصوص الجزائر ٹی وی، تعلیمی اور فلاحی پروگراموں کو اور زیادہ مضبوط کرنا چاہیے کیوں کہ یہ آج عالم اسلام کی ضرورت بھی ہے اور اس خطے میں قطر اور کویت اس کی بڑی حد تک روشن مثالیں بھی ہیں۔ کویت نے جس طرح صدر ٹرمپ کے پیدا کیے ہوئے اس رخنے کو ختم کرانے میں مثبت رول انجام دیا ہے وہ انتہائی قابلِ قدر ہے۔
اسی طرح صدر ٹرمپ نے بُش باپ بیٹوں کی طرح عراق کی جگہ ایران کو اپنی جارحانہ سیاسی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کا ذریعہ بنانا چاہا وہ بھی انتہائی شرمناک ہے۔ ایران نے برابری کی سطح سے ایٹمی توانائی کو لے کر جس طرح عالمی برادری سے ایک باعزت اور پروقار معاہدہ کیا اس میں امریکہ بھی برابر سے شریک تھا لیکن صدر اوبامہ اور ایران کی دشمنی میں اس پر بھی ٹرمپ نے پانی پھیرنے کی پوری کوشش کی۔ وہ تو خیر سے ایران کی باشعور، ثابت قدم اور عزم محکم والی قیادت نے صدر ٹرمپ کو ان کے ناپاک ارادوں میں کوئی کامیابی نہ ملنے دی جس کے نتیجے میں ایران کے حصے میں عزیمت اور امریکہ کے حصے میں ہزیمت آئی۔ اب جب 20جنوری کو امریکہ میں صدارتی انتقال اقتدار ہونا ہے تو عالم اسلام کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اپنی ایک ایسی حکمت عملی وضع کرنا چاہیے جس میں کہ نہ بلیوںکو لڑایا جا سکے اور نہ بندر بانٹ کی جا سکے۔ یہ بات اس لیے کہی گئی کہ وہ تنازعات جو ہمیں قطر اور ان کے ہم سایہ و ہم مذہب خلیجی ممالک سے دیکھنے کو ملے ہیں یا پھر ایران، ترکی اور سعودی عرب میں اختلافات سامنے آئے ہیں اور اس کے نتیجے میں عالم اسلام جس کشاکش اور بحران کا شکار ہوا ہے ایسی کوئی صورت دوبارہ نہ پیدا ہونے پائے۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ عالم اسلام کی اس حکمت عملی میں فلسطینیوں کے غاصبانہ حقوق کی بحالی اور اسرائیل کے اس خطے میں نوسامراجی عزائم کو شکست دینا بھی شامل ہونا چاہیے۔ آج جس طرح سے یورپ میں فلسطینیوں کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے، عالم اسلام کو جس نے اسرائیل کے تئیں بڑے نرم گوشے پیدا کیے ہیں، امریکہ کو یہ سمجھائیں کہ فلسطینیوں کے حقوق کی باعزت بازیابی یروشلم کو فلسطینیوں کو واپس دے کر نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
نومنتخب امریکی صدر جوئے بائیڈن سے امید کی جانی چاہیے کہ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کے سب سے معمر صدر کی حیثیت سے وہ براک اوباما کی پالیسیوں کی مثبت طور پر تجدید کریں گے اور عالم اسلام ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے ساتھ ایک ایسی شروعات کریں گے کہ دنیا میں امریکہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو واپس کرا سکے۔ عالم اسلام میں بِل کلنٹن نے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے جس دو ریاستی فارمولے کا اصول طے کیا تھا اس پر عمل درآمد ہو سکے۔ ہندوستان کے ساتھ وہ تعلقات جو باہمی تعاون، خیرسگالی اور یگانگت پر مبنی رہے ہیں وہ آگے بھی جاری رہیں۔ ٹرمپ حامیوں میں سے کسی ایک آدھ شرپسند کے ذریعے کیپٹل ہِل پر ایک آدھ ہندوستانی جھنڈے کو لہرانے پر کچھ خیال نہ کریں۔ ہندوستان کی سرکار ہو یا عوام دونوں ڈیموکریٹ صدر کی جیت پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد دے چکے ہیں۔ اس لیے نومنتخب صدر جوئے بائیڈن پرانی باتوں کو بھلا کر نئی شروعات کریں گے اور حق و انصاف اور دیانت و صیانت کے ساتھ امریکہ کو ایک نئی سمت اور رفتار عطا کریں گے۔
امریکہ کی تاریخ میں جوئے بائیڈن اپنے لیے ایک خاص اور بہتر جگہ اسی وقت بنا پائیں گے جب وہ جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن، جان ایف کینیڈی اور براک اوباما کی طرح امریکہ ہی نہیں دنیا کے نقشے پر اپنی چھاپ چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری تو یہی خواہش ہے اور یہی دعا بھی۔اب:
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *