آج کے ماحول میں اسلام کی نشرواشاعت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے تین چیزوں کی ضرورت: مولانا بدیع الزماں ندوی

آج کے ماحول میں اسلام کی نشرواشاعت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لئے تین چیزوں کی ضرورت: مولانا بدیع الزماں ندوی

مظفر پور: (ملت ٹائمز – معراج عالم) امت مسلمہ کے کردار میں ایک اہم پہلو تالیف قلب کارویہ ہے ، تالیف قلب اسلام کی انفرادیت کا ایک مظہر ہے ، تالیف قلب کے معنیٰ یہ ہیں کہ مخالف یا دشمن یا اجنبی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ، ایسارویہ اور طرز عمل اختیار کیا جائے کہ آپ اس کے دل کو جیتنے میں کامیاب ہوجائیں ، انسان کے جسم پر قابو پانا آسان ہے ، انسان کے جسم پر غلبہ پالینا مشکل نہیں ہے، ہرطاقتور انسان کمزور انسان کے جسم پر غلبہ پاسکتا ہے ، لیکن انسانوں کے دلوں کو جیتنا بہت مشکل کام ہے ، اسلام کی دلچسپی لوگوں کے جسم پر حکومت کرنے سے نہیں ہے ، اسلام کی دلچسپی لوگوں کے دلوں کو جیتنے سے ہے۔ ملک کے معروف عالم دین ، ممتاز ماہر تعلیم چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور وجامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی نے مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پہلے دن سے لے کر آج تک جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ، ان میں غالب ترین ننانوے فیصد سے بھی بڑھ کر تعداد ان لوگوں کی ہے ، جو اسلام کی تعلیمات کی خوبیوں اور بعض مسلمانوں کے حسن اخلاق کو دیکھ کر مسلمان ہوئے ہیں ، ابتدائے اسلام میں ہر مسلمان کا اخلاق ایسا تھا کہ غیر مسلم اس کو دیکھ کر مسلمان ہوتا تھا ، وقت کے ساتھ ساتھ ایسے مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی گئی ، جن کا اخلاق لوگوں کے لئے باعث توجہ تھا ، جن کا کردار دوسروں کے لئے موجب قبول اسلام تھا ، آج ایسے مسلمان بہت تھوڑے ہیں ، لیکن اگر ایک مسلمان بھی کہیں ایسا ہے ، جس کا اخلاق اسلام کے معیار کا مظہر یا جھلک ہے ، آج بھی اس کو دیکھ کر ہزارہا لوگ اسلام کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔

تالیف قلب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بنیادی اوصاف میں سے ایک وصف ہے ،رسول الله صلی علیہ وسلم نے جنگوں میں ، بین الااقوامی تعلقات میں ، معاہدات میں ،قبائل اور حکومتوں سے لین دین میں تالیف قلب کے اصول کو آج کل کے زمانے کی اصطلاح میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول قرار دیا۔تالیف قلب کی اس سے بڑھ کر اور کیا اہمیت ہوگی کہ اسلام میں چار بنیادی عبادات (ارکان اربعہ)میں سے ایک یعنی زکوٰۃ کی مدات میں سے ایک مد تالیف قلب کو بھی قرار دیا، یعنی زکوٰۃ جو مسلمانوں کے لئے عبادت کادرجہ رکھتی ہے ، اسلام کے چار بڑے ارکان میں سے ایک رکن ہے ، جس کامقصد روحانی پاکیزگی اور مال کا تزکیہ ہے ، اس رقم کو جہاں جہاں کرنے خرچ کا حکم دیا گیا ہے ، وہاں ایک مد غیر مسلموں کی تالیف قلبی بھی ہے۔اگر زکوٰۃ کی رقم سے غیرمسلموں کو اس طرح قریب لایا جائے ، ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے ، ان میں سے اگر کوئی بیمار ہو تو اس کا علاج کرنے میں یہ رقم خرچ کی جائے ، ان میں سے اگر کوئی محتاج ہو تو اس کی محتاجی دور کرنے میں اس رقم سے فائدہ اٹھایاجائے تاکہ اس کے دل میں اسلام کے خلاف جو نفرت ہے ، وہ دور ہوجائے اور وہ اسلام کے قریب ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ تالیف قلب سے ایک اور اصول کی نشاندہی ہوتی ہے اوروہ اخلاق ہے ، اسلام کا سب سے اولین اور سب سے آخری وسیلہ اسلام کی نشرواشاعت کے لئے اخلاقی رویہ اور اخلاقی اقدار کی پیروی ہے ، مکارم اخلاق کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کا اخلاقی رویہ ہر شخص کے بارے میں ایسا ہو کہ دوسرے کی طبیعت ، اس کا دل اور اس کی روح اس بات کی گواہی دیں کہ اگر اخلاق کا کوئی پیمانہ ہے تو یہ ہے ، اگر اخلاق کا کوئی معیار ہے تو یہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح کسی کی وزنی چیز کو اٹھالیں ، جہازوں ، ٹرینوں اور بسوں میں
کثرت سے اس کے موقع پیش آتے ہیں ، اگر راستہ چلتے ہوئے آپ نے کسی ضروت مند کو اپنی سواری پر بٹھالیا ، اگر آپ نے مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے ایمبولینس کا انتظام کردیا ،کسی پر قرض کا بوجھ ہے ،آپ نے اس کا قرض ادا کردیا ،کوئی بچہ یا بچی اور اس کے سرپرست اسکول کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں ، آپ نے فیس اداکردی ،مریض کے اندر اپنے علاج کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں ، آپ نے علاج کا نظم کردیا ، کسی کی بیوہ کے لئے اس کی زندگی بوجھ بن گئی ، وہ اپنی بنیادی ضرورت بھی پوری کرنے سے قاصر ہے ،آپ نے ان کو پورا کردیا ، یا اس کے لئے ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا ، اسی طرح یتیم بچے اور بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری لینا،غریب لوگوں کو روز گار سے لگانا یا ان کی تھوڑی بہت مدد کرکے انہیں خود اپنا روزگار پیدا کرنے کے لائق بنانا ، ریلوے اسٹیشنوں اور راستوں پر گرما کے موسم میں ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنا ، ضرورت مندوں کے لئے موسم سرما میں گرم اشیاء کا مہیا کرنا ، بہت سے قیدی ناکردہ گناہوں اور پولیس کی روایتی زیادتیوں کی وجہ سے جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں بند ہیں ، ان کی طرف سے مقدمات کی پیروی کا معقول انتظام کرنا ، ان کے گھر کے لوگ فقر وفاقہ سے دوچار ہیں ، تنگ دستی کی وجہ سے ان کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے اوران کی بچیاں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہونے سے قاصر ہیں ، ایسے قیدیوں کی اور ان کے اہل خانہ کی مددکرنا ،
وقتافوقتا بہت سی آفتیں آتی رہتی ہیں ، کبھی زلزلہ ، کبھی سیلاب ، کبھی آتشزدگی ، کبھی وبائی بیماریاں ، ان حالات میں پریشان حال لوگوں کے کام آنا ،ان کے لئے غذا ، دوا اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا اور ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ،یہ سب خدمت خلق اور تالیف قلب میں شامل ہیں ، اور آج کے ماحول میں جنگی پیمانہ پر اس طرح کے کاموں کو انجام دینے کی سخت ضرورت ہے۔اس سے دعوت دین کے لئے فضا ہموار ہوتی ہے ، تعلقات میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ، اور اس کا ایک بڑا اور اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح ہم مسلمانوں کو ارتداد کے فتنہ سے بچاسکتے ہیں ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج ارتداد اور فرقہ پرستی کی جو آگ لگائی جارہی ہے اور مسلمانوں کے ایمان کا سودا کیا جارہا ہے ، اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں سے تالیف قلب ، خدمت خلق اور اخلاق کے جذبہ کا کم ہونا یاختم ہو نا ہے۔ مسلمانوں کو ایک داعی امت ہونے کی حیثیت سے ان جذبوں اور جوہروں سے لیس ہو نا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ، اس کے بغیر مسلمان نہ دنیا میں سرخرو ہوسکیں گے اور نہ آخرت میں ۔
رسول اکرم الله صلی الله علیہ وسلم نے مسلمانوں اور غیرمسلموں ، اور اپنوں اور بیگانوں کی تفریق کے بغیر پوری انسانیت ، بلکہ پور خلقت کے ساتھ حسن سلوک کا نہ صرف حکم دیا ، بلکہ عملی طور پر آپ صلی الله عليه وسلم نے اس کا نمونہ بھی پیش فرمایا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *