لالو یادو کی طبیعت انتہائی نازک، دہلی ایمس منتقل کرنے کی تیاری

لالو یادو کی طبیعت انتہائی نازک، دہلی ایمس منتقل کرنے کی تیاری

تیجسوی یادو نے کہا کہ جمعرات کو لالو یادو کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوئی تھی، جانچ میں معلوم ہوا کہ وہ نمونیا سے متاثر ہیں، اس کی وجہ سے ان کے چہرے پر سوجن آ گئی ہے
نئی دہلی: رانچی کے رمز میں علاج کرا رہے لالو پرساد یادو کی طبیعت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ بیٹے تیجسوی یادو کے مطابق ان کے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہو گیا ہے اور ان کے چہرے پر سوجن آ گئی ہے۔ لالو یادو کی حالت کے پیش نظر انہیں دہلی کے ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔
دریں اثنا، جمعہ کو دیر رات لالو یادو سے سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو اور سابق وزیر تیج پرتاپ یادو ملاقات کرنے کے لئے پہنچے۔ لالو یادو کی بیٹی میسا بھارتی بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔
تازہ ترین صورت حال کے مطابق لالو یادو کی صحت لگاتار بگڑ رہی ہے، اس کے پیش نظر انہیں دہلی میں واقع ایمس میں منتقل کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے بورڈ سے رپورٹ ملتے ہی جیل انتظامیہ عدالت سے اس کی منظوری لے گی۔ ممکنہ طور پر آج ہی لالو یادو کو دہلی منتقل کیا جائے گا۔ دریں اثنا، رابڑی دیوی ایک بار پھر لالو کے ورڈ میں پہنچیں ہیں۔
اس سے قبل آدھی رات کو لالو یادو سے ملاقات کرنے کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ لالو یادو کی حالت تشویش ناک بنی ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ چارہ گھوٹالہ میں قصوروار قرار دیئے جانے کے بعد لالو یادو رانچی جیل میں قید ہیں۔ رانچی کے رمز میں ان کا لمبے وقت سے علاج چل رہا ہے۔
دیر رات گئے لالو یادو سے ملاقات کے بعد باہر آئے تیجسوی یادو نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے دل کی سرجری کی گئی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ ان کے والد کی کڈنی 25 فیصد ہی کام کر رہی ہے اور ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بھی تشویش کا باعث ہے۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ لالو کے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہو گیا ہے اور انہیں نمونیا ہو گیا ہے جو اس عمر میں ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے چہرے پر سوجن آ گئی ہے۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ ہم ان کی تمام رپورٹوں کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، جس کے بعد آگے کا فیصلہ لیا جائے گا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ کنبہ کے لوگ بہتر علاج چاہتے ہیں لیکن جب تک پوری جانچ رپورٹ نہیں آجاتی اس وقت تک ہم لوگ کوئی فیصلہ لینے کی حالت میں نہیں ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *