ٹریکٹر پریڈ: دہلی پولس اجازت دے یا نہ دے، بارڈر پر پورے ملک سے پہنچ رہے ہزاروں کسان!

ٹریکٹر پریڈ: دہلی پولس اجازت دے یا نہ دے، بارڈر پر پورے ملک سے پہنچ رہے ہزاروں کسان!

کسان لیڈر راکیش ٹکیت پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ جو کسانوں کے ٹریکٹر کو روکے گا اسے سبق سکھایا جائے گا، کیونکہ کسان پرامن طریقے سے پریڈ نکالنا چاہتے ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

نئی دہلی: (تنویر) متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر جاری کسانوں کی تحریک نے ایک طرف مودی حکومت کو پریشان کر رکھا ہے اور گیارہ دور کی میٹنگ کے بعد بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا، دوسری طرف یہ تحریک دہلی پولس کے لیے بھی دردِ سر بن چکی ہے۔ 26 جنوری کو دہلی کی سڑکوں پر ’ٹریکٹر پریڈ‘ نکالنے کے لیے کسان تنظیمیں پرعزم ہیں، اور ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ کسان لیڈروں کے ساتھ پانچ دور کی میٹنگ کے بعد دہلی پولس نے دہلی میں ’کسان ٹریکٹر پریڈ‘ کے لیے ہری جھنڈی دے دی ہے، لیکن پھر دہلی پولس کی طرف سے ایک بیان سامنے آ گیا جس میں کہا گیا کہ ابھی تک کسانوں کی جانب سے ٹریکٹر پریڈ کے لیے طے راستہ سے متعلق کوئی تحریری درخواست نہیں دی گئی ہے، اور جب تحریری شکل میں یہ جانکاری دی جائے گی تب ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ گویا کہ ٹریکٹر پریڈ کو لے کر اب بھی تذبذب کی صورت حال برقرار ہے۔
اس درمیان مختلف ریاستوں سے کسانوں کا دہلی کی سرحد پر پہنچنا جاری ہے۔ سینکڑوں و ہزاروں کسانوں پر مشتمل کسانوں کے کئی قافلے بڑی تعداد میں ٹریکٹر کے ساتھ دہلی بارڈرس پر جمع ہو گئے ہیں اور کئی قافلے راستے میں ہیں جو 26 جنوری سے پہلے پہنچ جائیں گے۔ کسانوں نے ہر حال میں ٹریکٹر پریڈ نکالنے کی تیاری کر رکھی ہے اور ایک کسان لیڈر نے یہ بیان بھی دیا ہے کہ اگر زبردستی دہلی پولس نے دہلی میں داخلے سے روکا تو وہ پیدل مارچ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ جو کسانوں کے ٹریکٹر کو روکے گا اسے سبق سکھایا جائے گا، کیونکہ کسان پرامن طریقے سے پریڈ نکالنا چاہتے ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں سوراج انڈیا کے سربراہ یوگیندر یادو نے بھی کہا ہے کہ کسانوں کا یوم جمہوریہ پریڈ ملک کی شان بڑھانے والا ہوگا، نہ کہ ملک کی یوم جمہوریہ تقریب میں خلل پیدا کرنے والا۔
جہاں تک ’کسان ٹریکٹر پریڈ‘ کی چل رہی تیاریوں کا سوال ہے، تو کسان تنظیموں نے اپنا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ کن کن مقامات سے پریڈ نکلے گی اور بڑے و چھوٹے ٹریکٹروں کی صف بندی کس طرح ہوگی، یہ سبھی منصوبے طے پا چکے ہیں۔ سنیوکت کسان مورچہ کے لیڈر درشن پال نے یہ جانکاری بھی دی ہے کہ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کے پولس افسران کے ساتھ بات چیت کر کے سنیوکت کسان مورچہ کے لیڈروں نے کسان یوم جمہوریہ پریڈ کے لیے مشترکہ طور سے پریڈ کے راستوں کو آخری شکل دے دی ہے۔ پریڈ منظم انداز میں نکالنے کی تیاریاں بھی زوروں پر ہیں اور ملک بھر سے کسانوں اور شہریوں کا مکمل تعاون حاصل ہو رہا ہے۔
کسان لیڈر درشن پال نے بتایا کہ ملک بھر سے کسانوں اور مزدوروں کا دہلی پہنچنا جاری ہے۔ ایک طرف جہاں دہلی کی سرحد پر کسان پریڈ کی تیاری چل رہی ہے، وہیں ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی کسان ٹریکٹر پریڈ نکالنے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اڈیشہ سے چلی ’کسان دہلی چلو یاترا‘ آج غازی پور بارڈر پہنچی۔ اڈیشہ، مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ و اتر پردیش کے تقریباً 1000 کسان اس مارچ میں شامل ہو کر غازی پور مظاہرہ کے مقام پہنچ چکے ہیں۔ چھتیس گڑھ سے بھی سینکڑوں کسان گورنر کو عرضداشت دینے کے بعد دہلی روانہ ہوں گے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق راجستھان کے شری گنگا نگر سے کئی ٹریکٹروں، ٹرالیوں اور دیگر گاڑیوں سے کسانوں کے جھتے جے پور-نئی دہلی شاہراہ پر دھاروہڑہ کیلئے روانہ ہو چکے ہیں۔ دھاروہڑہ اور شاہجہاں پور بارڈرپڑاؤ میں کسانوں کا ہجوم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہاں سے کسان 25 جنوری کی رات کو دہلی میں ٹریکٹر پریڈ ریلی نکالنے کے لئے روانہ ہوں گے۔
علاوہ ازیں ہریانہ کے اچانا علاقے سے کافی تعداد میں ٹریکٹروں کے قافلے کے ساتھ کسان دہلی بارڈر کی طرف روانہ ہورہے ہیں۔ ہائیوے پر ہر دس سیکنڈ میں دہلی کی طرف ترنگا،بھارتیہ کسان یونین کا جھنڈا لگے ٹریکٹر – ٹرالی جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اچانا کے پولس تھانہ سے آگے لگائے گئے بھنڈارے پر کسانوں کے قافلے رُک کر آگے جارہے ہیں تو کھٹکڑ ٹول پر دیے جارہے دھرنے میں بھی کچھ دیر دہلی جانے والے علاقے کے کسانوں کے قافلے رک کر جارہےہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ کرسندھو گاؤں سے کسانوں نے 200 سے زیادہ ٹریکٹر تو اچانا کلاں سے 21،صفا کھیڑی سے ایک درجن کے قریب،درجن پور سے 50 کے قریب ٹریکٹر روانہ ہونے کی اطلاع کسانوں نے دی۔ کسان پوری تیاری کے ساتھ دہلی بارڈر کے لئے روانہ ہورہےہیں۔ گاؤں سے خواتین گیت گاکر کسانوں کو روانہ کررہی ہیں۔ کرسندھو گاؤں میں خواتین نے دہلی جانے والے کسانوں کو گیت گاکر روانہ کیا۔ کسان اپنے ساتھ سردی کےلئے لکڑی کے علاوہ کھانے پینے کا سامان بھی لے کر جارہے ہیں۔ بارش کے پیش نظر ٹرالی پر ترپال کا انتظام کرکے جارہے ہیں۔ دہلی بارڈر پر جانے والوں میں نوجوان کسانوں کی تعداد بھی کافی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *