ہریانہ: کسانوں کی حمایت میں رکن اسمبلی ابھے چوٹالہ نے دیا استعفیٰ

ہریانہ: کسانوں کی حمایت میں رکن اسمبلی ابھے چوٹالہ نے دیا استعفیٰ

ابھے چوٹالہ نے ہریانہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’مجھے کرسی نہیں، میرے ملک کا کسان خوشحال چاہیے۔ حکومت کے ذریعہ نافذ سیاہ قوانین کے خلاف میں نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔‘‘

مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ متنازعہ زعی قوانین کے خلاف کسان سڑکوں پر ہیں۔ کچھ لوگ ان زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں، تو کچھ حمایت میں بھی کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ آئی این ایل ڈی (انڈین نیشنل لوک دل) رکن اسمبلی ابھے چوٹالہ نے تو کسان تحریک کی حمایت میں بدھ کے روز اسمبلی کی رکنیت سے ہی استعفیٰ دے دیا۔ ابھے چوٹالہ کا استعفیٰ ہریانہ اسمبلی کے اسپیکر نے قبول بھی کر لیا ہے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ ابھے چوٹالہ نے 11 جنوری کو ہی استعفیٰ دے دیا تھا، جسے اسمبلی اسپیکر نے آج منظوری دے دی۔ گویا کہ اب ابھے چوٹالہ ہریانہ اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔ استعفیٰ دینے والے ابھے چوٹالہ نے آج ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ مجھے کرسی نہیں، میرے ملک کا کسان خوش حال چاہیے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’حکومت کے ذریعہ نافذ ان سیاہ قوانین کے خلاف میں نے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ میں اپوزیشن میں بیٹھے دیگر سبھی لیڈروں اور ’کسان پُتروں‘ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس جدوجہد میں کسان کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘

غور طلب ہے کہ ابھے چوٹالہ ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ اور جن نایک جنتا پارٹی کے سربراہ دشینت چوٹالہ کے چچا ہیں۔ جے جے پی اور بی جے پی اتحاد کی حکومت اس وقت ہریانہ میں چل رہی ہے۔ واضح رہے کہ کسان تنظیمیں گزشتہ 63 دنوں سے دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ یہ کسان تینوں نئے زرعی قوانین کی واپسی کو لے کر سراپا احتجاج ہیں۔ 26 جنوری کو کسانوں نے راجدھانی دہلی میں ٹریکٹر پریڈ بھی نکالی تھی۔ الزام ہے کہ دیپ سدھو کے اکسانے کے بعد یہ پرامن پریڈ اچانک پرتشدد پریڈ میں بدل گئی۔ کسان لیڈران اس واقعہ کو حکومت اور بی جے پی کی سازش بتا رہے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *