تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے عوام بے حال، کانگریس و ٹی ایم سی کا مظاہرہ آج

تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے عوام بے حال، کانگریس و ٹی ایم سی کا مظاہرہ آج

ملک کی متعدد ریاستوں میں پیٹرول 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ عوام کی ناراضگی مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں سے ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق منافع سے فائدہ اٹھانے میں دونوں ہی حکومتوں نے آپس میں ہی مقابلہ کر رکھا ہے اور ایک دوسرے کو زیر کر عوام کا تیل نکالنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پورے ملک کے عوام پریشان ہیں۔ قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کے بجٹ کو بگاڑ دیا ہے۔ اس دوران مدھیہ پردیش میں آج کانگریس نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آدھے دن کے بند کا اعلان کیا ہے جبکہ راجستھان میں کانگریس کارکنان وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی قیادت میں پیدل مارچ کریں گے۔ اس کے علاوہ ٹی ایم سی نے بھی مغربی بنگال میں دو روزہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پریشان عوام کی حمایت میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے آج حکومت کے محاصرے کا فیصلہ لیا ہے۔
بارہ دنوں سے مسلسل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف راجستھان میں وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی قیادت میں کانگریس پارٹی کے کارکنان کانگریس دفتر سے پرانے شہر کے گلتا گیٹ تک پیدل مارچ کریں گے۔
اس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں کانگریس نے مہنگائی کے خلاف احتجاج میں آدھے دن کے بند کا اعلان کیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے پٹرول ڈیزل اور سلنڈروں کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف مغربی بنگال میں دو روزہ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ٹی ایم سی آج اور کل ریاست کے ہر ضلع میں مہنگائی کے خلاف جلوس نکالے گی۔

کانگریس نے حکومت پر پیٹرول جیوی ہونے کا الزام لگایا

حکومت پر پیٹرول جیوی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے ملک کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جانا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے پچھلے ساڑھے چھ سالوں میں عوام سے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر 21.50 لاکھ کروڑ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ایندھن ٹیکس-جیوی مودی حکومت ملک کے عوام کے لئے ایک لعنت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مئی 2014 سے لے کر اب تک پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس لگا کر 21.50 لاکھ کروڑ کی لوٹ مار کی ہے۔ لہذا بی جے پی کا نیا نام ‘خوفناک عوامی لوٹ پارٹی’ ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ “ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یکم مئی 2019 کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں 15.21 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15.33 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح پٹرول 100 روپے اور ڈیزل 90 روپے کو عبور کرچکا ہے۔

ریاستیں پیٹرول اور ڈیزل پر زبردست ٹیکس وصول کررہی ہیں

ملک کی متعدد ریاستوں میں پیٹرول 100 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ عوام کی ناراضگی مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں سے ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق منافع سے فائدہ اٹھانے میں دونوں ہی حکومتوں نے آپس میں ہی مقابلہ کر رکھا ہے اور ایک دوسرے کو زیر کر عوام کا تیل نکالنے کی پوری کوشش کر رہی ہیں۔

مرکز نے ایکسائز ڈیوٹی میں کیا اضافہ

ریاستوں کے علاوہ مرکزی حکومت نے پچھلے ایک سال میں ایکسائز ڈیوٹی میں کافی اضافہ کیا ہے۔ گذشتہ سال فروری میں مرکزی حکومت ایک لیٹر پیٹرول پر 19 روپے 98 پیسے ایکسائز ڈیوٹی لگاتی تھی، جو اب بڑھ کر 32 روپے 98 پیسے ہوگئی ہے، جو براہ راست 13 روپے زیادہ ہے۔ فروری 2020 میں مرکزی حکومت ایک لیٹر ڈیزل پر 15 روپے 83 پیسے ایکسائز ڈیوٹی لیتی تھی، اب یہ 31 روپے 83 پیسے وصول کر رہی ہے یعنی 16 روپے کا اضافہ کیا ہے۔ اگر مرکزی اور ریاستی حکومتیں ٹیکسوں میں کمی کرتی ہیں تو قیمتوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *