قاضی شریعت کا انتقال پر چمپارن کے مدارس و مساجد میں دعاؤں کا اہتمام  عاجزی اور انکساری کے نمونہ تھے مولانا عبد الجلیل قاسمی: جمیعت علماء 

قاضی شریعت کا انتقال پر چمپارن کے مدارس و مساجد میں دعاؤں کا اہتمام  عاجزی اور انکساری کے نمونہ تھے مولانا عبد الجلیل قاسمی: جمیعت علماء 

موتیہاری: ( فضل المبین ) بہار اڑیسہ جھارکھنڈ کے قاضی شریعت مولانا عبد الجلیل قاسمی کی رحلت پر آج سنیچر کو مشرقی چمپارن کے مدارس و مساجد میں دعائے مغفرت کا اہتمام کیا گیا ۔ وہیں کئی ملی تنظیموں نے تعزیتی نشست کا انعقاد کر حضرت قاضی صاحب کے حیات و خدمات پر روشنی ڈالی ۔

 جمیعت علماء مشرقی چمپارن کے ارکان کی ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی ۔ نششت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد السلام قاسمی صدر جمیعت علماء مشرقی چمپارن نے کہا کہ امارت شرعیہ ہندوستان کی ایک بڑی ملی تنظیم ہے جہاں دارالافتاء کے ساتھ دارالقضاء کا نظام مستحکم طور پر  چلتاہے قاضی صاحب کی رحلت ملت اسلامیہ کے لئے ایک افسوسناک سانحہ ہے ، مشرقی چمپارن میں جب دارالقضاء کا نظام شروع ہوا تو قاضی صاحب ہر ماہ میں دو دن پابندی سے تشریف لاتے اور اپنی ذمہ داری مستعدی سے ادا کرتے تعزیتی نششت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نذر المبین ندوی نائب صدر جمیعت علماء نے کہا کہ امارت شرعیہ سے ہمارا  تعلق بڑا قدیم ہے 1995سے منسلک ہوں ۔ جب ڈھاکہ میں دارالقضاء کا  قیام عمل میں آیا تو حضرت قاضی صاحب ہی یہاں کے قاضی شریعت ہوا کرتے تھے ۔ اسی زمانہ سے قاضی صاحب سے میرا اور اس علاقے  بڑا گہرا تعلق تھا قاضی صاحب کی رحلت سے امارت شرعیہ ہی نہیں بلکہ ملک کا پورا علمی حلقہ سوگوار ہے بڑےخلیق اور ملنسار تھے اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے جب کہ نششت سے خطاب کرتےہوئے مولانا امان اللہ مظاہری نے کہا کہ امارت شرعیہ ایک عظیم فقیہ اور باصلاحیت عالم دین سے محروم ہوگیا وہیں مدرسہ منبع العلوم کے ناظم مولانا محمد بہاء الدین قاسمی نے کہا کہ امارت شرعیہ کے قضاء کے منصب پر فائز رہتے ہوئے قاضی صاحب نے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ مدتوں یاد رہیں گی موتیہاری جامع مسجد کے امام قاری جلال الدین قاسمی نے کہا کہ  چمپارن میں جب قضاء کا نظام قائم ہوا تو قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے بتیا اور ڈھاکہ کے لئے قاضی عبدالجلیل قاسمی کو ہی قضاء کی ذمداری سونپی اور قاضی صاحب کئ سالوں تک پابندی سے دونوں جگہ تشریف لاتے رہے یقینا قاضی صاحب ایک عظیم فقیہ اور متقی عالم دین تھے کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوے اللہ پاک نے  فیصلے کا جو ملکہ آپ کو دیا تھا وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتاہے اللہ پاک جانے والے کی قبر کو نور سےمنور فرمائے اور اپنی رضا نصیب فرمائے (آمین)
جامعہ ماریہ نسواں کے مہتمم مفتی نثار احمد قاسمی نے کہا کہ : جب کسی متقی ، پرہیز گار ، صالح اور دیندار انسان کا انتقال ہو تا ہے تو اس پر زمین و آسمان روتے ہیں ، قاضی صاحب کی شخصیت بھی ایسی تھی کہ ان کے انتقال پر زمین و آسمان روئیں۔قاضی صاحب کے اندر سمع و طاعت کا جذبہ، دین داری، صوم وصلوٰۃ کی پابندی، تقویٰ ، خود داری وغیرہ ایسے اوصاف تھے ، جن پر اللہ کے نبی نے بشارتیں دی ہیں  ۔
دیگر لوگوں میں مولانا محمد جاوید عالم قاسمی، پروفیسر نسیم احمد مولانا صدر عالم ندوی . مولانا سعد احمد قاسمی مولانا یحییٰ فصیحی  مفتی ثناء اللہ مظاہری. مولانا عبد الرؤف قاسمی ، قاری انعام الحق عرفانی ،  قاری احمد اللہ عرفانی ، مولانا اکرم جنیدی ،  مفتی محمد احمد ابو سلمان قاسمی محمد جاوید مظاہری .قاری انوارالحق ، مفتی ظفیر احمد جنیدی ، قاری بدیع الزماں ،  سمیت ضلع کے سیکڑوں علماء ودانشواران نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے نعم البدل کی دعاء فرمائی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *