مسلمان اپنے نوجوانوں پر اعتماد کریں

مسلمان اپنے نوجوانوں پر اعتماد کریں

عابد انور 

ہندوستانی مسلمان بے حس ترین قوموں میں سے ایک ہیں، تماشہ دیکھنے میں زیادہ یقین رکھتے ہیں،اپنے بھائیوں کا قتل ہوتے دیکھنے میں لطف آتا ہے، بہنوں کی عصمت تار تار ہونے دیتے ہیں، وقف جائداد پر قبضہ ہوجائے، ان کی مساجد شہید کی کردی جائے،قبرستان کو نیست نابود کردیا جائے،ان سے روز گار چھین لی جائے، ان کی فیکٹریوں کو تباہ کردیا جائے،ان کے آثار و قرائن کوصفحہ ہستی سے مٹادیا جائے، ان کی غیرت و حمیت کو بار بار زک پہنچایا جائے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں بس اپنی باری کا انتظار رہتاہے،فرقہ پرست طاقتیں اور فرقہ پرست حکومت مسلمانوں کو مرحلہ وار طور پر ان کی ایک ایک چیز کو نشانہ بناتی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کو غیرت و حمیت کا کہیں کوئی نشان نظر نہیں آتا ہے۔ سرعام انہیں گالیاں دی جاتی ہیں لیکن کوئی مسلم وکیل کے سر جوں تک نہیں رینگتی، ان کے رسول، ان کی امہات المومنین، ان کے بزرگوں اور ان کے صحابہ کرام کو گالیاں دی جاتی ہیں مگر مسلم وکلاء کبھی ایسے بدتمیز اور ناہنجاروں کے خلاف عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے۔ ہر جگہ کو نشانہ بنانے کے بعد اب ان کا نشانہ مدارس اسلامیہ ہے، لیکن خواب خرگوش سے ہم جاگنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آخر ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں،کسی مسیح موعود کا انتظار کر رہے ہیں،یا مسلمانوں کی حکومت قائم کرنے کا انتظار کر رہے ہیں جو دور دور تک نظر نہیں آتا۔ معجزاتی طور پر دیر سویر حکومت مل بھی جائے تو ان کو چلانے والے کتنے لوگ ہوں گے،مسلمانوں میں کتنی صلاحیت ہے،کوئی بھی چیز یا حکومت بغیر قربانی اور اتحاد کے نہیں ملتی اور مسلمانوں کے اتحاد کا یہ عالم ہے کہ کوئی کسی کے پیچھے چلنے کو تیارنہیں ہے، مسلمانوں کا لیڈر کوئی نہیں ہے لیکن ہر مسلمان لیڈر ہے، اگر آپ نے کسی مسئلے کے حل کے لئے کوئی تجویز پیش کی تو فوراً اس کے برعکس دوسری تجویز آپ کے سامنے پیش کردی جائے گی جونہ قابل عمل ہوگی اور نہ ہی قابل تفہیم۔ گزشتہ چھ برس سے مودی حکومت نے مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے ایک پر ایک قدم اٹھاتی جارہی ہے لیکن مسلمانوں کے سر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران مسلمانوں کے کنگ میکر کے واہمہ کو نیست نابود کیا اور سیاسی طور پر اچھوت بناکر رکھ دیا لیکن مجال کہ مسلمانوں میں کوئی سیاسی شعور پیدا ہوجائے اور اپنی نمائندگی کیسے بہترکی جائے اس پر کبھی بھی وسیع سوچ پیدا نہیں ہوئی۔ اس پر سیکڑوں پروگرام ہوئے لیکن تمام غور و فکر پروگرام کے اسٹیج تک محدودتک رہی۔ نہ کوئی لائحہ عمل تیار کیا گیا اور نہ ہی سیاسی سوچ اور نہ ہی سیاسی بیداری کی کوشش کی گئی۔ لیڈروں کو نکما، ناکارا، دلال اور نہ جانے کیا کیا لقب سے نوازا لیکن کبھی اس پرغور کرنے کی کوشش کی کہ ہم اپنے محسنوں اور حقیقی لیڈروں کے ساتھ کتنے دیر تک کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے لئے ہم نے کیا کیا ہے۔ ہم ان کی کنڈلی چھان مارتے ہیں لیکن اپنی کنڈلی دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ کبھی بھی ہم نے اپنے آپ کا محاسبہ اور جائزہ نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے درمیان اچھے افراد اور اچھی سوچ والے پیدا نہیں ہوئے اور جو ہوئے بھی تو ہم ان کا ساتھ نہ دیکر گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور کردیا۔ہر شعبہ میں ایسے سیکڑوں اور ہزاروں نوجوان اور صاحب

فکر افراد مل جائیں گے جو سماج اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ وسائل سے محروم ہیں۔ ہمارے یہاں کے صاحب ثروت حضرات کسی کی مدد بھی کرتے ہیں تو صرف نام و نمود کے لئے۔ امداد سے زیادہ بڑا فوٹو ہونا چاہئے۔ خاموشی سے کام کرنے والوں کو کوئی پوچھتا تک نہیں۔ وہ اپنے لائحہ عمل کے ساتھ ہمیشہ کے لئے دفن ہوجاتے ہیں اور کسی کو خبر لینے کی فرصت نہیں ہوتی۔ کیوں کہ وہ ایمانداراور کام کے تئیں وقف ہیں، ان کے سامنے کام ہے اس لئے ان کے پاس چمچہ گیری، قصیدہ خوانی اور مکھن لگانے کا وقت نہیں ہے اور اس لئے صاحب ثروت حضرات ان کی کوئی مدد نہیں کرتے۔ چھوٹے چھوٹے پیسے سے بڑا کام کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاس ڈاٹا جمع کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس سمت میں کوئی قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ اگر ہمارے پاس تمام طرح ڈاٹا ہوں گے خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق سے تو ہمیں اپنی بات مدلل طور پر رکھنے میں آسانی ہوگی اور ہم اپنی بات دوسروں سے اگر منوا نہیں سکتے تو سمجھا ضرور سکتے ہیں۔ ہم جب بھی اپنے مسائل کے ساتھ اعلی اختیاراتی شخصیت ملتے ہیں تو ہمارے پاس مسائل کا پلندہ ضرور ہوتاہے لیکن حل کے بارے میں کوئی چیز نہیں ہوتی اور مسائل کے پلندہ میں اعداد و شمار کے فقدان کے ساتھ تقابلی تجزیہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہماری بات ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جاتی ہے۔ اکثریتی طبقہ کے ہر باشعور افراد کو یہ بات معلوم ہے کہ مسلمان اپنے لوگوں کی بات نہیں سنتے اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے ہیں۔ ایک دوسرے کو آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ کوئی آگے جانا چاہتا ہے تو ان کے سامنے کانٹوں کا جال بچھا دیتے ہیں۔ ان میں اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ وہ اپنے ہونہار نوجوانوں کے دفاع کرنے سے بھاگتے ہیں۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے انہیں مجرم تسلیم کرلیتے ہیں۔ حکومت کتنے بھی ظلم کرلے وہ اپنے محلے میں تو حکومت اور میڈیا کو برا بھالاکہتے ہیں لیکن محلے سے آگے ان کی بولتی بند ہوجاتی ہے۔ ان کی قومی حمیت و غیرت عنقا ہوچکی ہے۔ ان کے جوانوں کو قتل کردیا جائے، یا ان کی بہو بیٹی کی عزت لوٹ لی جائے اس کے باوجود وہ مؤثر انداز میں گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ بغیر جرم کئے اپنا دفاع میں آجاتے ہیں۔مسلم وکلاء کی کارکردگی صرف بیان بازی تک محدود ہے۔ وقف جائدادوں پر ایک ایک کرکے حکومت اور اس کی ایجنسی نے قبضہ کرلیا لیکن ان کی کارکردگی کورٹ جانے کی دھمکی تک محدود رہی۔ مہرولی کے بیشتر وقف جائدادیں یا قبضے میں یا قبضے ہونے کے دہانے پرہیں لیکن ہم نے چند لوگوں پر ذمہ داری ڈال کربے فکر ہوگئے ہیں۔ یہاں کی عدالت، پولیس، انتظامیہ، مقننہ، میڈیااور تمام ایجنسیاں ہندوتو کے رنگ میں سرابور ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ہر کام کو وہ ہندو کی فتح سے تعبیرکرتی ہیں۔ جرائم کے نام پر ملک میں مسلمانوں کے سیکڑوں مکانات منہدم کردئے گئے لیکن مسلم وکیل نے کورٹ سے یہ نہیں پوچھا کہ مکان کیوں منہدم کئے گئے۔ اگر نقشہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے مکانات منہدم کئے گئے تو پھر باقی بغیر نقشہ والے غیر مسلم کے مکان کوکیوں چھوڑدیا گیا۔ حکومت، عدالت، پولیس، انتظامیہ اور ایجنسیوں کے متعصبانہ رویہ نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا ہے اور آج ہماری حالت اس ملک میں دھوبی کے کتے کی طرح ہوگئی ہے جو نہ گھر کا ہے اور نہ ہی گھاٹ کا۔ ہم نے اس کے خلاف کیا قدم اٹھایا۔ یہ بات کتنے لوگوں کو باور کرانے میں کامیاب ہوئے۔ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور غیر انسانی سلوک کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ہمارے پاس کیا وسائل ہیں؟ ہم نے ان وسائل پر کتنی توجہ مرکوز کی۔ لاک ڈاؤن کے دوران کے جب تبلیغی جماعت کے بارے میڈیا نے بدتمیزی کا طوفان کا کھڑا کیا تھا اور کورونا کے سلسلے میں تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے رات دن ایک کر رہے تھے تو کچھ لوگوں کو مسلمانوں کا میڈیا ہاؤس کھڑا کرنے کا کیڑا کلبلا رہا تھا اور بہت سے لوگوں نے اس سمت سرمایہ کاری اور میڈیا ہاؤس کھڑا کرنے کے بارے میں سوچنا بھی شروع کیا تھا لیکن جیسے جیسے لاک ڈاؤن ختم ہوا، مسلم میڈیا ہاؤس کھڑا کرنے کا کیڑا بھی مرگیا۔مسلمانوں کی استقامت،وعدے اور عزم و ارادے بلبلے کی مانند ہوتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کی حکمت عملی اور کام کرنے کا جذبہ کسی پروگرام میں قورمہ بریانی کی طرح ہوتا ہے جیسے ہی قور مہ بریانی ہضم ہوتی ہے مسلمانوں کی حکمت عملی اور کام کرنے کا جذبہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔اس کا میں نے بارہا مشاہدہ کیا ہے۔ کئی لوگوں کو آگے بھی بڑھایا لیکن ڈھاک کے تین پات۔
مسلمانوں کو سب سے زیادہ شکایت یہی رہتی ہے کہ ان کے لئے کوئی آگے نہیں آتا لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے آپ توآگے آئیں جبھی تو کوئی دوسرا ساتھ آئے گا۔ اس کے علاوہ ہمارے لئے جو لڑائی لڑتا ہے ہم ان کے تحفظ اور حمایت کے لئے آگے نہیں آتے۔ ہمارا لیڈرمسلم نوجوان کے علاوہ ہر کوئی ہوسکتا ہے اور ہم ان کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے ہیں۔ ان کے ویڈیوز کو وائرل کرتے ہیں، ان کو سننے کیلئے پہنچ جاتے ہیں، ان کو اپنا اسٹیج دیتے ہیں، آنکھوں پر بٹھاتے ہیں اور اپنے لئے ان میں مسیحا تلاش کرتے ہیں اور یہ عمل آزادی کے بعد سے جاری ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس میں شدت آئی ہے اور اپنے حق میں بولنے والے کو 


ہذا ربی کہتے ہیں لیکن وہ ہمارا نہیں ہوتا۔ ان کے منظم مفادات ہوتے ہیں، ان کے اہداف ہوتے ہیں، وہ پلانٹ کئے جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے عزائم کو جان سکیں اور ہم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اگر ہمیں اپنے مستقبل کو محفوظ کرناہے، اپنی ترقی کی منزل طے کرنی ہے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے نوجوانوں پر بھروسہ کرنا ہوگا، ان کو اعتماد میں لینا ہوگا اور ان کا اعتماد بڑھانا ہوگا۔ کسی اورپر تکیہ کرنے کے بجائے اپنا کام خود کرنا ہوگا۔ جب ہم اپنا کام کریں گے تو کوئی سہارا دینے کے لئے ضرور آئے گا لیکن پہل خود کرنی ہوگی۔ ہمیں شرجیل امام، عمر خالد، عشرت جہاں، گلفشاں،آصف تنہااور ان جیسے سیکڑوں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لئے زمین آسمان ایک کرنا ہوگا، اگر یہاں کی حکومت، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ نہیں سنتی ہے تو مناسب پلیٹ فارم پر اپنی ؎آواز اٹھانی ہوگی اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک سے دنیا کوآگاہ کرنا ہوگا۔ کئی سطحی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں میں سے ہی لیڈر تیار کرنا ہوگا ورنہ ہم لالو، ملائم، ممتا، چندر بابو نائیڈو وغیرہ پر بھروسہ کرکے اپنے مستقبل تاریک کرتے رہیں گے۔ ہمیں جیل بند نوجوانوں کی رہائی کے لئے ایک حکمت عملی وضع کرنی ہوگی کیوں کہ جب بھی کوئی مسلم نوجوان آگے آئے گا انہیں جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔ ہمیں ان کے خاندان، ان کے اعزا و اقربا کا خیال رکھنا ہوگا۔ ان کی لڑائی مشترکہ طور پر لڑنی ہوگی۔ ذات برادری، علاقہ، مسلک اور تمام چیزوں سے اوپر اٹھ کر ان کے ساتھ کھڑا ہوگا جس طرح تجارتی جھگڑے کی بنیاد پر قتل ہونے والا رینکو شرما کے ساتھ آج پوری ہندو قوم کھڑی ہے، کیا بی جے پی، کیا کانگریس، کیا عام آدمی پارٹی، سب اس قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دینے پر آمادہ ہیں۔ پولیس نے کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر اس قتل سے پردہ اٹھایا ہے لیکن  جہاں معاملہ ہندو کا ہوتا ہے پوری مشنیری ہندو ہوجاتی ہے۔اس کے برعکس ایک اندوہناک واقعہ کانپور میں پیش آیا جس میں مذہبی پہلو نمایاں نظر آتا ہے جس کی وجہ سے گلفام کو اپنے خاندان کے ساتھ خودسوزی پر مجبور ہونا پڑا۔ جمعیۃ علمائے ہند کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ  موسی نگر کانپور دیہات میں لگ بھگ ڈھائی بیگھہ زمین قبرستان کے نام درج ہے، اسی سے متصل بی جے پی لیڈر وجے سونی کی زمین ہے جس پہ وہ اپنی تعمیر کرا رہے ہیں۔ اپنی زمین پہ تعمیر کے بہانے وجے سونی نے قبرستان کے کچھ حصہ پر قبضہ کرلیا اور اس پر دوکانوں کی تعمیر کرا ڈالی۔ محمد گلفام ]38[ جو پیشے سے پھیری والے ہیں) کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ قبرستان کی زمین پہ کوئی قبضہ کرے، انہوں اس کی مخالفت کی اور علاقہ کے تھانہ، ایس ڈی ایم سے لے کر کورٹ تک کا چکر لگا ڈالا لیکن کہیں سنوائی نہ ہوسکی۔ بار بار شکایت درج کرانے، کاغذات کا اندراج کرانے اور ہر طرح کی قانونی کوششوں کے بعد تھک ہار کر اس نے علاقہ کی پولیس انتظامیہ کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کو نہیں رکوایا گیا تو وہ اہل خانہ سمیت خود کشی کر لیں گے۔ ان سب کے باوجود وہاں کی انتظامیہ اور ناجائز قبضہ کے ذمہ دار وجے سونی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور نہ صرف تعمیری کام جاری رہا بلکہ وجے سونی اور اس کے ساتھی شرارت پسندوں نے خود کشی کیلئے اکسانے کی کوشش کی۔ بالآخر ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد محمد گلفام نے اہلیہ ] اجمیرن 34[ و چھ چھوٹے بچے (مہ جبین 12، محمد عاطف 10، مسیحا 7 سال، معینہ 5، چاند تارا 3، ستارہ ڈیڑھ سال) سمیت مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لی جس میں معینہ اور چاند تارا اللہ کو پیاری ہوگئیں اور محمد گلفام، اہلیہ و دیگر چار بچوں کا لکھنؤ میڈیکل کالج میں علاج چل رہا ہے۔یہ واقعہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے جرائم کو ظاہر کرتا ہے اور انتظامیہ کے تعصب اور مسلم دشمنی کاجب معاملہ ہندو کا ہوتا ہے تو وہ کوئی کارروائی نہیں کرتی اور مسلمان قصوروار ہوتا ہے تو پورے خاندان کو جیل میں بند کردیتی ہے جیسا کہ سیتاپور لو جہاد معاملے میں ہوا ہے پورے خاندان کو جیل میں بند رکھا ہے۔ہندو انتظامیہ کے اس ذہنیت سامنے مدلل انداز میں سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک علاج یہ بھی ہے اس مشینری کا پردہ فاش کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے گا یہاں کا نظام کیا ہے اور اس میں انصاف کیسے ممکن ہے؟

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *