فلوریڈا بحری اڈے پر حملہ، امریکی کنبوں کا سعودی عرب پر مقدمہ

فلوریڈا بحری اڈے پر حملہ، امریکی کنبوں کا سعودی عرب پر مقدمہ

ایک سعودی طالب علم نے سن 2019 میں فلوریڈا کے بحری اڈے پر فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک اور تیرہ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔ متاثرین کے کنبوں نے اس حملے کے لیے سعودی عرب کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
فلوریڈا کے بحری اڈے پر سن 2019 میں ہونے والی فائرنگ کے متاثرین کے کنبوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے دلیل دی ہے کہ سعودی مملکت بندوق بردار کی انتہا پسندی سے واقف تھی اور وہ ان ہلاکتوں کو روک سکتی تھی۔
غیر ملکی فوجیوں کے لیے تربیتی ادارے نیول ایئر اسٹیشن پینساکولا پر چھ دسمبر 2019 کو ہوا بازی کے شعبے میں زیر تربیت ایک سعودی طالب علم نے فائرنگ کر کے تین امریکی سیلرز کو ہلاک اور تیرہ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آور رائل سعودی ایئر فورس کا فلائٹ اسٹوڈنٹ تھا اور اس کی شناخت محمد سعید الشامرانی کے طور پر ہوئی تھی۔جوابی کارروائی کے دوران وہ بھی مارا گیا تھا۔
اس واردات کی تفتیش کے دوران امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا تھا کہ حملہ آور نے واردات انجام دینے کے لیے برسوں منصوبہ سازی کی تھی، وہ جہادی نظریات کا حامل تھا اور ایک خفیہ فون کے ذریعے القائدہ کے کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا تھا۔ ایف بی آئی کے مطابق الشامرانی حملے کے دن بھی القائدہ کے ساتھ رابطے میں تھا۔
متاثرہ کنبوں کے دلائل
پینساکولا کی وفاقی عدالت میں پیر کے روز دائر کردہ مقدمے میں متاثرین کے کنبوں نے دلیل دی ہے کہ سعودی حکومت نے معاملات کو نظر انداز کیا تھا۔
متاثرہ کنبوں نے اپنے دلائل میں کہا ہے: ”رائل سعود ی ایئر فورس میں اپنی پوری سروس کے دوران الشامرانی اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر انتہاپسندانہ اور بنیاد پرستانہ نظریات مسلسل پوسٹ کرتا رہتا تھا۔ ان میں امریکا مخالف، یہودی مخالف نظریات شامل تھے اور وہ دوسروں کو بھی انتہاپسندانہ اسلامی جذبات والے پوسٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔”

مقدمہ کرنے والوں نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ حملہ آور طلبہ کے اس چھوٹے سے گرو پ کا حصہ تھا جسے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سعودی سکیورٹی ایجنسی کو اسے وسیع تر اسکریننگ کے عمل سے گزارنا چاہیے تھا، جو اس کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس میں یہ دعو ی بھی کیا گیا ہے کہ الشامرانی نے اپنے دیگر زیر تربیت ساتھیوں کو حملے سے قبل رات میں کھانے کے دوران بتایا تھا کہ وہ اگلے روز حملہ کرنے والا ہے لیکن الشامرانی کے ساتھیوں نے متعلقہ عہدیداروں کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ایک زیر تربیت ساتھی نے عمارت کے باہر سے حملے کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جب کہ دو دیگرساتھی قریب میں کھڑی ایک کار سے پوری کارروائی دیکھتے رہے۔
شکایت کنندگان نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ الشامرانی کے ساتھی اس بات سے واقف تھے کہ اس نے ہتھیار اور گولہ بارود خریدا اور اسے اپنے بیرک میں جمع کیا ہے۔
کیا سعودی عرب کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے؟
متاثرین کے کنبو ں کی دلیل ہے کہ چونکہ سعودی عرب ‘بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے اس اقدام کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے اس لیے سعودی مملکت کے خلاف مقدمہ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
امریکی قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے کیسز میں دیگر ملکوں کے خلاف مقدمات دائر کیے جاسکتے ہیں۔
متاثرین کنبوں نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ سعودی عرب نے ہرجانہ اداکرنے کا جو وعدہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا تھا اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔
اس حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سعود ی شاہ سے بات کی ہے اور سعودی عرب ‘نہایت فراخدلی‘ کے ساتھ متاثرین کے کنبوں کی مدد کرے گا۔
حملے کے بعد سے کیا کچھ بدل چکا ہے؟
حملے کے ایک ماہ بعد سابق اٹارنی جنرل ولیم بر نے اعلان کیا تھا کہ اکیس زیر تربیت سعودی شہریوں کو واپس بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکام نے ان کے سوشل میڈیا پیجز پر جہاد حامی اور امریکا مخالف جذبات پائے ہیں۔
یہ مقدمہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے سعودی عرب کے خلاف سخت موقف اپنانے کا اشارہ دیا ہے۔ سابق صدر ٹرمپ کے چار سالہ دور صدارت میں ان کے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان انتہائی قریبی روابط تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *