جشن اردو صحافت کے لیے بہار کے اردو صحافی پہلی مرتبہ ایک پلیٹ فارم پر

جشن اردو صحافت کے لیے بہار کے اردو صحافی پہلی مرتبہ ایک پلیٹ فارم پر

آئندہ سال اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہو جائیں گے اور اس موقع پر ’جشن اردو صحافت‘ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر ’مجلس اردو صحافت‘ کے نام سے ایک تنظیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پٹنہ: اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے کے موقع پر اگلے سال سہ روزہ ’جشن اردو صحافت‘ منعقد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے جس کے لیے’مجلس اردو صحافت‘ کے نام سے ایک باضابطہ تنظیم تشکیل دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کو ہفت روزہ ’نقیب‘ کے مدیر اور کمیٹی کے صدر مفتی ثنا الہدیٰ قاسمی کی صدارت اور ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین منعمی کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی میٹنگ میں کیا گیا۔
مذکورہ میٹنگ گرانڈ اپارٹمنٹ بلاک-بی کے فلیٹ نمبر 262 میں منعقد ہوئی تھی اور میٹنگ کے بعد کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ریحان غنی نے بتایا کہ ’جشن اردو صحافت‘ کے انعقاد کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں اور پہلی مرتبہ بہار کے اردو صحافی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں جو اچھی علامت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے کئی ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل پر غور کیا گیا اور ’مجلس اردو صحافت‘ کا دستور العمل تیار کرنے کے لیے ایک دستور ساز کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کا کنوینر ’انقلاب‘ پٹنہ کے مقامی ایڈیٹر احمد جاوید کو منتخب کیا گیا۔ کمیٹی میں ڈاکٹر انوار الہدیٰ اور اقبال صبا کو بطور ممبر شامل کیا گیا ہے۔
’جش اردو صحافت‘ کی تقریبات پر ہونے والے اخراج کے تعین کے لیے ایک بجٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے کنوینر ڈاکٹر اظہار احمد، سید مشتاق احمد اور پرویز انور ہوں گے۔ رابطہ کمیٹی کا کنوینر نواب عتیق الزماں کو بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سمینار سب کمیٹی، مجلہ سب کمیٹی، تقریبات سب کمیٹی، نمائش سب کمیٹی، پبلسٹی سب کمیٹی اور ضرورت کے مطابق دوسری سب کمیٹیاں تشکیل دینے کا اختیار صدر اور جنرل سکریٹری کو دیا گیا ہے۔ میٹنگ میں کمیٹی میں توسیع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے لئے کئی نام زیر غور آئے اور یہ بات اتفاق رائے سے طے کی گئی کہ جن صحافیوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا ہے ان سے پہلے اجازت لے لی جائے۔
اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں مفتی محمد ثنا الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ کسی بھی اجتماعی نظام میں سب کے اندر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر اجتماعی نظام نہیں چل سکتا۔ ’مجلس اردو صحافت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام صحافیوں کو بھی اسی جذبے سے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پروگرام کی کامیابی کا دارومدار اسی جذبے پر ہے۔ مفتی محمد ثنا الہدیٰ قاسمی نے مزید کہا کہ اجتماعی کام میں ہمارے مزاج کے خلاف بھی کچھ باتیں ہوسکتی ہیں جنہیں بڑے صبر و تحمل سے سن کر ہمیں اپنی رائے پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ کسی بھی کام کو آگے بڑھانے کے لیے تین باتیں اہم ہوتی ہیں… اطلاعات کی بروقت ترسیل، ایک دوسرے سے مضبوط رابطہ اور تعاون کا جذبہ۔ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بغیر کوئی بھی جشن یا پروگرام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مشن کی کامیابی کے لیے سبھی کو متحد ہو کر ایک جسم کی طرح کام کرنا چاہیے۔
اس سے قبل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر اظہار احمد نے کہا کہ ہمارے درمیان نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن جب ہمارا نصب العین اور مشن ایک ہے تو ہم سب کو مل کر اسے کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ میٹنگ میں سید مشتاق احمد، ڈاکٹر مسعود الرحمٰن، محمد اقبال صبا، محمد جاوید، احمد رضا ہاشمی، سید جاوید حسن، ضیا الحسن، نواب عتیق الزماں، محمد پرویز انور، ڈاکٹر انوارالہدیٰ، عتیق الرحمٰن شعبان، شیث احمد، محمد عارف انصاری، محمد مشتاق احمد خاں نے بھی شرکت کی اور اپنے مشورے دیئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *