پڈوچیری میں کانگریس حکومت گرانے کے لیے بی جے پی نے کی تھی بڑی رقم کی پیشکش، آزاد رکن اسمبلی کا انکشاف

پڈوچیری میں کانگریس حکومت گرانے کے لیے بی جے پی نے کی تھی بڑی رقم کی پیشکش، آزاد رکن اسمبلی کا انکشاف

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں ماہے اسمبلی حلقہ سے آزاد رکن اسمبلی ڈاکٹر وی رام چندرن نے انکشاف کیا ہے کہ پڈوچیری کی کانگریس حکومت کو گرانے میں تعاون دینے پر انھیں بڑی رقم کی پیش کش کی گئی تھی۔
مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں ماہے اسمبلی حلقہ سے آزاد رکن اسمبلی ڈاکٹر وی رام چندرن نے انکشاف کیا ہے کہ پڈوچیری کی کانگریس حکومت کو گرانے میں تعاون کرنے پر انھیں اپنے انتخابی حلقہ کی ترقی کے لیے اور ساتھ ہی نجی طور پر تعاون دینے کے لیے بڑی رقم کی پیش کش کی گئی تھی۔ ڈاکٹر رام چندرن نے بتایا کہ یہ پیشکش بی جے پی کی جانب سے کی گئی تھی جسے انھوں نے واضح لفظوں میں ٹھکرا دیا تھا۔
دراصل ڈاکٹر رام چندرن کا ایک انٹرویو خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس نے لیا ہے جس میں انھوں نے پڈوچیری کے حالات پر کھل کر بات چیت کی۔ ڈاکٹر رام چندرن کا کہنا ہے کہ ’’مرکز کی بی جے پی حکومت نے پڈوچیری کی جمہوری طور پر چنی گئی حکومت کو گرانے کے لیے سبھی ہتھکنڈے اختیار کیے۔ بی جے پی کے سینئر قومی لیڈران نے اس آپریشن کی قیادت کرنے کے لیے پڈوچیری میں ڈیرا ڈالا تھا۔ مجھے اپنے انتخابی حلقہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ نجی طور پر بھاری رقم کی پیش کش کی گئی تھی، لیکن میں نے صاف طور پر ’نہیں‘ کہہ دیا تھا۔‘‘
مرکز کی بی جے پی حکومت پر پڈوچیری حکومت گرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ڈاکٹر رام چندرن نے یہ بھی کہا کہ ’’پیسے کا استعمال کرنا جمہوریت کے لیے زہر ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت نے اس کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا اور یہ کانگریس پارٹی کی ناکامی بھی ہے۔‘‘ آئندہ انتخاب میں بی جے پی کے امکانات کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر رام چندرن نے کہا کہ ’’آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اتنا نہیں کر پائے گی جتنی زمینی حمایت انھیں چاہیے۔ حالانکہ بی جے پی کچھ طاقتور طبقات کی پیٹھ پر سواری کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کامیابی مل سکے اور ریاست پر حکومت کی جا سکے، جو میرے خیال سے ممکن نہیں ہے۔‘‘
پڈوچیری میں سیاسی اتھل پتھل اور ہارس ٹریڈنگ جیسے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے آزاد رکن اسمبلی ڈاکٹر رام چندرن نے افسوس کا اظہار کیا۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ آئندہ اسمبلی انتخاب لڑیں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’میں نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ میں آئندہ اسمبلی انتخاب لڑ رہا ہوں یا نہیں۔ پڈوچیری میں پاور گیم اور وہاں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ سے میرا من دہل گیا ہے۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *