بی جے پی رکن اسمبلی نے الیکشن کمیشن کا اڑایا مذاق، ویڈیو وائرل

بی جے پی رکن اسمبلی نے الیکشن کمیشن کا اڑایا مذاق، ویڈیو وائرل

ایک ویڈیو میں بی جے پی رکن اسمبلی مدھو شریواستو کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ’’آج انتخابی تشہیر کا آخری دن ہے، لیکن میں کل بھی تشہیر کروں گا۔ میں مثالی ضابطہ اخلاق کو نہیں مانتا۔‘‘
وڈودرا: (تنویر) گزشتہ دنوں گجرات میں ہوئے میونسپل الیکشن کا نتیجہ برآمد ہوا جس میں بی جے پی امیدواروں کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ اب اس الیکشن سے پہلے کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے جس میں بی جے پی رکن اسمبلی مدھو شریواستو الیکشن کمیشن کا مذاق بناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں ’’آج انتخابی تشہیر کا آخری دن ہے، لیکن میں کل بھی تشہیر کروں گا۔ میں انتخابی ضابطہ اخلاق کو نہیں مانتا۔‘‘

بی جے پی رکن اسمبلی مدھو شریواستو کا یہ حیران کرنے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور بی جے پی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ویڈیو گجرات میونسپل کارپوریشن الیکشن کے دوران بنا تھا اور وڈودرا کے رکن اسمبلی مدھو شریواستو نے الیکشن کمیشن کو ایک طرح سے نظر انداز کر دیا۔ کئی لوگ اس ویڈیو پر بی جے پی رکن اسمبلی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اور کئی لوگوں نے اس ویڈیو کا مذاق بھی بنایا ہے۔ ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’’کچھ بھی کہنے سے پہلے سوچنا تو چاہیے‘‘، جب کہ ایک دیگر نے لکھا ہے ’’الیکشن کمیشن حکومت کا پٹھو ہے۔ اسے پتہ ہے رکن اسمبلی کے بیان سے متعلق، لیکن کمیشن کارروائی کرنے سے ڈر رہا ہے۔‘‘
اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کی ایک بارش شروع ہو گئی ہے۔ پورنیما سنگھ نامی ایک خاتون نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’ویسے تو ملک کی بربادی میں سب سے بڑا ہاتھ گجرات کے عوام کا ہی ہے۔ پتہ نہیں گاندھی اور پٹیل کی زمین پر ایسے لوگ کہاں سے آگئے۔‘‘ منجوت سنگھ نامی شخص نے لکھا ہے ’’کیا کسی اور پارٹی کا لیڈر الیکشن کمیشن کی اتنی بے عزتی کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ انتخابات کے درمیان مثالی ضابطہ اخلاق (ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ) دراصل امیدواروں و پارٹی کے لیے ضروری شرائط و ضوابط ہوتے ہیں جسے انتخاب کے دوران سبھی پارٹی لیڈروں کو ماننا ہوتا ہے۔ جیسے ہی انتخابی تاریخوں کا اعلان ہوتا ہے، فوری سیاسی لیڈروں کے لیے گائیڈ لائن جاری کر دی جاتی ہیں۔ اس میں درج ہوتا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران انھیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ لیڈروں کو اس گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *