دہلی فساد: آدھار کارڈ پر مسلم نام دیکھ کر شرپسندوں نے کیا تھا جمال الدین کا قتل!

دہلی فساد: آدھار کارڈ پر مسلم نام دیکھ کر شرپسندوں نے کیا تھا جمال الدین کا قتل!

 جمال الدین کی بیوی نازش کا کہنا ہے کہ آدھار کارڈ پر مسلم نام دیکھنے کے بعد فسادیوں نے ان کے شوہر کو بے رحمی سے پیٹ کر قتل کیا تھا، حملہ میں متوفی کے چھوٹے بھائی نظام الدین کے ہاتھ اور پیرٹو ٹ گئے تھے۔
نئی دہلی: (محمد تسلیم) دہلی فسادات کو اب ایک برس سے زیادہ ہوگیا ہے۔ تاہم اس کی دردناک یادیں آج بھی لوگوں کو ڈرا دیتی ہیں۔ اس فساد نے نہ جانے کتنے لوگوں کو ان کے عزیزوں سے جدا کردیا ہے۔کسی ماں نے اپنا جواں سالہ بیٹا، کسی بہن نے بھائی، تو کسی بیوی نے اپنا شوہر کھویا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے عزیزوں کو کھویا ہے، ان سے بات چیت کر کے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ سال انھیں جو غم ملا، وہ ان کے لیے زندگی بھر کا غم بن گیا۔
شیو وہار علاقے میں رہنے والی نازش بیگم دہلی فسادات میں اپنے شوہر سے محروم ہو گئیں۔ یہ ایک ایسا غم ہے جس سے شاید وہ تا عمر باہر نہ نکل پائیں۔ نازش بیگم کے شوہر جمال الدین منصوری کو فسادیوں نے 25 فروری کی شام قتل کردیا تھا جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ اپنے آبائی وطن سے گھر لوٹ رہے تھے۔ نظام الدین کو فسادیوں نے لاٹھی اور ڈنڈوں سے اس قدر پیٹا کہ ان کا ہاتھ اور پیر ٹوٹ گیا۔ خوش قسمتی سے وہ بچ گئے لیکن ان کے بھائی جمال الدین نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔جمال الدین اپنے پیچھے اپنی بیوہ نازش بیگم کے سپرد چھوٹے چھوٹے چار بچے چھوڑ گئے جن کا سارا بوجھ ان پر آگیا ہے۔ حالانکہ نازش کو دہلی حکومت کی جانب سے متوفی شوہر کی موت پر 10 لاکھ روپے کا معاوضہ تو مل گیا، لیکن یقیناً یہ کسی بھی طرح سے ان کے شوہر کی موت کا بدل نہیں ہو سکتا۔

’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے نازش بیگم نے نم آنکھوں سے اپنا درد بیان کیا اور کہا کہ ان کے شوہر کا قتل شر پسندوں نے آدھار کارڈ پر نام دیکھ کر مسلم ہونے کی تصدیق کے بعد کیا تھا۔وہ بتاتی ہیں کہ ’’جب فسادیوں کو یہ معلوم ہوا کہ یہ مسلم ہیں تو انہوں نے فوراً ان پر حملہ شروع کردیا، ان کو ڈنڈوں اور لاٹھی سے بری طرح زخمی کردیا اور وہ وہیں ختم ہوگئے۔‘‘ نازش کا کہنا ہے کہ ’’10 لاکھ روپے کا معاوضہ حکومت کی جانب سے مل گیا مگر وہ ہمارے کس کام کا ہے۔اگر ہمارے شوہر زندہ ہوتے تو آج ہمیں یوں در بدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑتیں۔ یہ رقم ہمارے شوہر کی زندگی کے آگے بہت کم ہے۔‘‘
نازش نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میرے چار بچے ہیں جس میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ معاوضہ کی رقم سے میں نے اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے زمین خریدی ہے اور مزدوری کر کے جیسے تیسے گھر چلا رہی ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میرے بچے ان تمام تر سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں جو ان کا باپ دیتا تھا۔پہلے میرے بچے دودھ پیا کرتے تھے، لیکن انھیں اب چائے بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔‘‘ نازش بیگم نے فسادات کے لئے مکمل طور پر مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’اگر حکومت چاہتی تو فساد روکے جا سکتے تھے۔‘‘
جمال الدین کے بھائی نظام الدین نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’’فسادات کو ایک سال گزر گیا ہے لیکن میں اس سیاہ دن کو کبھی بھول نہیں پاؤں گا۔ اس سانحہ نے ہمارے خاندان کی زندگی پوری طرح بدل کر رکھ دی ہے۔‘‘ نظام الدین نے بتایا کہ ’’25 فروری کو ہم آبائی وطن سے گھر لوٹ رہے تھے۔ ہم اس بات سے بے خبر تھے کہ یہاں فساد ہو رہا ہے۔ اچانک فسادیوں نے ہمیں گھیر لیا اور بھائی سے آدھار کارڈ پر نام کی شناخت کر بے رحمی سے پیٹنے لگے۔اس دوران میں بے حوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو میں اسپتال میں تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ بھائی انتقال کر گئے ہیں۔‘‘ جمال الدین کا کہنا ہے کہ وہ کافی دنوں تک بستر پر پڑے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’فسادیوں نے ہمیں اس قدر زخم دیئے تھے جو اب تک نہیں بھر پائے ہیں۔حادثہ کے بعد میں نے معاوضہ کے لئے دہلی حکومت کو درخواست دی لیکن اب تک مکمل معاوضہ نہیں ملا ہے۔‘‘
نظام الدین بتاتے ہیں کہ ’’ہاتھ پیر کام نہیں کرنے کے سبب میں ذریعہ معا ش سے محروم ہوگیا ہوں،پہلے میں فین اور پاپوں کی سپلائی دہلی بھر میں کرتا تھا، جو اب مکمل طو ر بند ہوگئی ہے۔گھر کا گزار ا کرنے کے لئے میری بیوی کڑھائی اوربنائی کا کام کر رہی ہے جس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *