بوسنیا کی خاتون جنگل میں پھنسے مہاجرین کی کیسے مدد کر رہی ہے؟

بوسنیا کی خاتون جنگل میں پھنسے مہاجرین کی کیسے مدد کر رہی ہے؟

جنگلوں میں پھنسے مہاجرین کھانا بناتے اور سخت سردی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور

بوسنیا ہیرزیگووینا کے شہر ویلیکا کلاڈوسا کی رہائشی یاسمین ہُوسیدیچ قریبی جنگلوں میں پھنسے مہاجرین کی دیکھ بھال کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان مہاجرین کو نئی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

ویلیکا کلاڈوسا کی رہائشی یاسمین ہُوسیدیچ کا یہ معمول ہے کہ وہ دفتر سے نکلنے کے بعد ایک قریبی سپر مارکیٹ جا کر ضروریاتِ زندگی کا سامان خریدتی ہیں اور پھر شہر کے نزدیکی جنگل پہنچ کر اس سامان کو وہاں مقیم مہاجرین میں خوراک تقسیم کرتی ہیں۔

اس خوراک میں خشک چاول اور گوشت کے علاوہ چولہا جلانے والا تیل بھی ہوتا ہے۔ وہ یہ کام سورج ڈوبنے سے قبل مکمل کرنے کی کوشش میں ہوتی ہیں۔

مہاجرین کی مشکلات اور یاسمین ہوسیدیچ

ہنگری نے مہاجرین کی اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے سرحدوں پر سخت نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان اقدامات میں سرحدوں پر خاردار باڑ لگانے کے ساتھ اضافی بارڈر پولیس کی نفری بھی تعینات کر رکھی ہے۔ اس صورت حال میں یورپی یونین کے ممالک میں داخل ہونے کے لیے مہاجرین نے متبادل راستے کا استعمال شروع کر رکھا ہے اور یہ بوسنیا سے ہو کر گزرتا ہے۔
اس راستے میں بظاہر کوئی بھی تارکِ وطن رُکنا نہیں چاہتا لیکن آگے جانا بھی نہایت مشکل ہے۔ ایسے حالات میں جنگلات میں پھنسے مہاجرین کے لیے ویلیکا کلاڈوسا کی رہائشی یاسمین ہُوسیدیچ ایک بہت بڑی مدد ہیں۔
ہُوسیدیچ نے کئی مہاجروں کو شدید سردی میں پہننے والے بوٹوں کے جوڑے بھی بانٹے اور اس کے علاوہ جینز کی پینٹوں کے ساتھ ساتھ بڑے پلاسٹک بیگز بھی فراہم کیے۔

امداد دینے کا یاسمین ہوسیدیچ کا موقف

ایک مقامی حکومتی دفتر میں کام کرنے والی اس خاتون نے ان مہاجرین کو اپنی بساط سے بڑھ کر راحت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اپنے اس کارِ خیر کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں اور وہ دونوں دوسرے یورپی ملکوں میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہُوسیدیچ کہتی ہیں کہ ان کی دونوں بیٹیاں جرمنی اور آسٹریا میں بطور تارکینِ وطن تعلیم حاصل کر سکتی ہیں تو دوسرے ممالک کے افراد کو ان ممالک میں داخل ہونے کی اجازت کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے امدادی سلسلے کا آغاز مہاجرین کے لیے وقف ایک پرانی فیکٹری سے شروع کیا تھا۔ یہ فیکٹری عام لوگوں اور انتظامی حلقے میں ‘چمنی‘ کے نام سے مشہور ہے۔

بُرے رویوں کی توقع ممکن ہے

یاسمین ہُوسیدیچ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کے بعض شہریوں کے افعال پر شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس امدادی عمل میں کئی مرتبہ خراب حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایک بوسنیائی شہری نے ہُوسیدیچ کی شکایت پولیس سے بھی کی تھی کہ یہ مہاجرین کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری یورپی ممالک کی مہاجرین دوست تنظیموں کا کہنا ہے کہ بوسنیا کے انتظامی اہلکار مہاجرین کی امدادی سرگرمیوں کے راستے میں بلاوجہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں جو انتہائی نامناسب اقدام ہے۔ ہُوسیدیچ کو بھی دوسرے اہلکار پریشان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
ہوسیدیچ کے ساتھ اور بھی کچھ ہمدرد لوگ اس کام میں شریک ہیں جو اپنی مہاجرین دوست تنظیم رجسٹر کرانے کو کوشش میں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *