بجلی کے جی ایس ٹی سے باہر ہونے کے سبب صارفین پر 25 ہزار کروڑ کا بوجھ!

بجلی کے جی ایس ٹی سے باہر ہونے کے سبب صارفین پر 25 ہزار کروڑ کا بوجھ!

حیدرآباد میں بجلی کے بڑھے ہوئے بلوں کے خلاف مظاہرہ کی فائل تصویر

پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کے درمیان کوئلہ پر لگائے جانے والے ٹیکس اور سیس کو عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ یہ ماہانہ بجلی کے بل پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں

نئی دہلی: (یو این آئی) بجلی کی پیداوار پر عائد مختلف ٹیکسز کی وجہ سے عام صارف کو سالانہ 25 ہزار کروڑ سے زیادہ کے بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کے درمیان کوئلہ پر لگائے جانے والے ٹیکس اور سیس کو عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ کوئلے پر مختلف اقسام کے ٹیکس صارفین کے ماہانہ بجلی کے بل پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
کوئلے کی پیداوار سے لے کر استعمال تک بہت سارے ٹیکسز اور سیس لگائے جاتے ہیں ، جس کا براہ راست اثر آخر میں پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت پر پڑتا ہے۔ اس وقت کوئلہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا تقریبا 55 فیصد بنتا ہے اور یہ ملک بھر میں بجلی کی پیداوار (تھرمل پاور جنریشن) کے لئے ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
کوئلہ ، اگرچہ بجلی کی پیداوار کے لئے ایک بنیادی ذریعہ ہونے کے باوجود جی ایس ٹی کے تابع ہے۔ لیکن بجلی جو کوئلے کی آخری پیداوارہے جی ایس ٹی میں نہیں ہے، چونکہ کوئلہ تیار کرنے والے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا دعوی نہیں کرسکتے ہیں ، لہٰذا وہ بجلی کی لاگت میں ٹیکس شامل کرتے ہیں جس سے صارفین پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کے صارفین کو ہر سال 25،000 کروڑ سے زیادہ کا خرچ کرنا پڑرہا ہے۔ کول کنٹرولر آفس اور سی ای اے پاور کنزیومر کے ذریعہ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق صنعتی اور گھریلو دونوں ان پٹ اور آخری پیداوار کیلئے مختلف ٹیکسزکے التزامات کی بنیاد پر کوئلے کے ذریعے 2018-19 میں پیدا شدہ 9870682 ملین یونٹ بجلی پر 26 پیسے فی یونٹ ادائیگی کی گئی ہے۔
جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے جس سےعام صارفین کو بہت مہنگی بجلی خریدنی پڑتی ہے۔ کوئلے کے جی 11 گریڈ کی اصل قیمت ، جو بجلی کی پیداوار میں سب سے عام ہے ، ایس ای سی ایل کے ذریعہ تیار 955 روپے فی ٹن ہے ۔ لیکن ٹیکسز ، لیوی اور متفرق چارجز کی وجہ سے جنریٹر کے لئے حتمی پری پرائزتقریبا دوگنی بڑھ کر 1849 روپے فی ٹن ہوگئی ہے۔
کوئلہ فی الحال بنیادی قیمت پر 14 فیصد رائلٹی ، 5 فیصد جی ایس ٹی ، 400 روپے فی ٹن جی ایس ٹی معاوضہ سیس ، نیشنل مائننگ ایکسپلوریشن ٹیکس 2 فیصد رائلٹی اور ڈسٹرکٹ منرل فاؤنڈیشن 30 فیصد رائلٹی لیتے ہیں۔ اس کے بعد ماحولیات اورڈیولپمنٹ سیس 23 روپے فی ٹن اور بارڈر ٹیکس / ٹرمینل ٹیکس 2 روپے فی ٹن عائد کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نقل و حمل اور کوئلہ نکالنے وغیرہ کے لئے بھی اضافی معاوضے بھی ادا کرنا پڑتے ہیں ، جو فی ٹن 121 سے 177 روپے کے درمیان ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *