پارٹی کے فیصلوں اور پالیسیوں پر سوال، کانگریس میں ایک بار پھر اٹھی قیادت کےخلاف آواز

پارٹی کے فیصلوں اور پالیسیوں پر سوال، کانگریس میں ایک بار پھر اٹھی قیادت کےخلاف آواز

جموں:گزشتہ سال اگست میں پارٹی قیادت کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرنے والے کانگریس کے گروپ23 کے لیڈران ایک بار پھر جموں میں جمع ہوئے۔ یہ پروگرام این جی او گاندھی گلوبل فیملی کا تھا، جسے شانتی سمیلن کا نام دیاگیا۔ یہ پروگرام ایسے وقت ہوا جب حال ہی میں کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزادکی راجیہ سبھا کی رکنیت ختم ہونے کے بعد وہ پارٹی کے ایک عام لیڈر کی طرح ہوگئے ہیں اور آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ پروگرام بھی غلام نبی آزاد کی ریاست میں ہوا، لیکن اس کے شرکا میں آزاد کے علاوہ پارٹی کے سینئر لیڈر کپل سبل، آنند شرما، وویک تنکھا، منیش تیواری، بھوپیندر سنگھ ہڈا، راجبیر اور راج ببر شریک ہوئے۔ ان تمام کا تعلق شمالی ہند سے ہے۔ یکے بعد دیگرے لیڈروں نے تقریر کی اور پہلے کی طرح ہی کانگریس کی قیادت کو نشانہ بنایا۔کپل سبل نے پروگرام میں کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم کانگریس کو کمزور ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اسی لئے ہم سب یہاں متحد ہیں۔ ہم پہلے بھی اکٹھے ہوگئے تھے اور ہم سب کو پارٹی کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ آنند شرما نے کہا کہ کوئی ہمیں نہیں بتا سکتا کہ ہم کانگریسی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کانگریس میں ہیں، مہاتما گاندھی کی سوچ کو مانتے ہیں، ان کے اندر ہمت نہ ہو سچ بولنے کی تو یہ کیسے ہوسکتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ ایک دہائی میں کانگریس کمزور ہوئی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جس طرح سے ہماری عمر بڑھے ہم کانگریس کو کمزور دیکھیں، ہم میں سے کوئی اوپر سے نہیں آیا، کھڑکی دروازے سے نہیں آیا، ہم طلبا تحریک سے آئے، یہ حق ہم نے کسی کو نہیں دیا کہ ہمیں بتائے کہ ہم کانگریسی ہیں یا نہیں‘۔مانا جا رہا ہے کہ پروگرام میں شامل ہونے والے لیڈر غلام نبی آزاد کے ساتھ ہوئے برتاؤسے زبردست ناراض ہیں۔ سینئر لیڈر اور وکیل کپل سبل نے کہا ’مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کانگریس پارٹی غلام نبی آزاد کے تجربہ کا استعمال کیوں نہیں کر رہی ہے‘۔ وہیں، منیش تیواری نے بتایا کہ وہ سب یہاں گلوبل فیملی کی دعوت پر جموں میں اکٹھاہوئے ہیں۔ راج ببر نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں جی-23 میں کہتا ہوں گاندھی 23‘۔ ’جی-23 کانگریس کی بھلائی چاہتی ہے، آزاد صاحب کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے آدھا بھی نہیں ہوا ہے‘۔وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ آج کئی برسوں بعد ہم ریاست کا حصہ نہیں ہیں، ہماری پہچان ختم ہوگئی ہے۔

ریاست کا درجہ واپس پانے کے لئے ہماری پارلیمنٹ کے اندر اور باہر لڑائی جاری رہے گی۔ جب تب یہاں منتخب نمائندے وزیر اور وزیر اعلیٰ نہیں ہوں گے تب تک بے روزگاری، سڑکوں اور اسکولوں کی یہ حالت جاری رہے گی‘۔ غلام نبی آزاد نے کہا، ’میں راجیہ سبھا سے ریٹائر ہوا ہوں، سیاست سے ریٹائر نہیں ہوا اور میں پارلیمنٹ سے پہلی بار ریٹائر نہیں ہوا ہوں‘۔ایک لیڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جب دوسری پارٹیاں غلام نبی آزاد کو سیٹ کی پیشکش کر رہی ہیں، وزیر اعظم نے ان کے بارے میں اتنا اچھا کہا۔ ہماری کانگریس پارٹی کی قیادت نے انہیں کوئی عزت نہیں دی۔ خاص بات یہ ہے کہ گروپ23 کے لیڈران نے جب سے پارٹی قیادت کے خلاف آواز اٹھائی ہے، ایک طرح سے انہیں حاشیہ پر ڈال دیاگیا ہے اور پارٹی کے فیصلوں اور پالیسیوں میں انہیں شامل نہیں کیا جاتا ہے، جس سے ان کی ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ پچھلی بار تو انہوں نے مکتوب کے ذریعہ اپنی آواز اٹھائی تھی، اس بار کسی بہانے سے ہی سہی لیکن ایک پروگرام میں ایک اسٹیج پر جمع ہوکر انہوں نے پارٹی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جس سے پارٹی میں گروپ بندی بڑھ سکتی ہے اور لیڈروں میں ناراضگی بھی پھیل سکتی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *