جہیز کی لعنت اور اجتماعی سطح پر مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت قابل مذمت

جہیز کی لعنت اور اجتماعی سطح پر مسلمانوں کی مجرمانہ غفلت قابل مذمت

جہیز جیسے سنگین گناہ کو معاشرہ سے ختم کرنے کے لیے ایسی شادیوں میں شرکت کو سختی سے بائیکاٹ کیا جائے : ڈاکٹر اسماء زہرہ

حیدر آباد : (ملت ٹائمز) بہن عائشہ عارف خان کی افسوسناک خود کشی نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں کو گہرے صدمہ سے دوچار کیا ہے۔ جہیز کے ناسور اور بے جا مطالبوں نے ایک معصوم بیٹی کو نگل لیا، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
جہیز کی لعنت معاشرہ میں سرایت کرچکی ہے۔ سسرالی خواہ دولت مند ہوں یا غریب، تعلیم یافتہ ہوں یا ناخواندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں، دلہن کے والدین سے نقد رقم کا مطالبہ، فرنیچر اور گاڑیوں کی فرمائش اور مہنگی دعوتوں کے لیے دباؤ ڈالنا ایک عام رسم بن چکا ہے۔ شریعت اسلامی عورت کی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے بوقت نکاح مرد کو مکلف بناتی ہے کہ وہ عورت کا مہر ادا کرے اور گھر بسانے اور آباد کرنے کے لیے تمام ضروریات فراہم کرنے کی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے کیونکہ قانون خداوندی نے مرد کو قوام کا درجہ عطا کر رکھا ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ مسلمان اسلامی طریقوں سے روگردانی و بے التفاتی کا مظاہرہ کرکے سماجی سطح پر ظلم و تعدی کی راہ پر گامزن ہیں۔ علم و شعور کی کمی اور قدیم غیر شرعی رسوم و رواج نے نکاح جیسے مقدس فریضہ کو دشوار ترین بنا دیا ہے۔ غریب گھروں کی لڑکیاں سالہا سال بن بیاہی بیٹھی رہتی ہیں کیونکہ ان کے والدین جہیز دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اگر شادی ہو بھی جائے، تو بچیاں شوہر اور سسرالیوں کے ظلم کا نشانہ بن جاتی ہیں، لیکن اس کے ازالہ و خاتمہ کے لیے کوئی منظم طریقہ پیش کرنے سے سماج و معاشرہ عاجز ہے۔ بلاشبہ خودکشی فعل حرام ہے، لیکن کیا اس ظالمانہ نظام کے خاتمہ کے لیے جس سے خودکشی کی مذموم راہ ہموار ہوتی ہے، سنجیدہ جائزہ اور ٹھوس اقدامات ضروری نہیں ہیں؟
محترمہ ڈاکٹر اسما زہرہ صاحبہ، مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلم سماج کے تمام افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ سنجیدگی اور مضبوطی کے ساتھ جہیز کے ناسور کو نکال پھینکنے کے لیے اپنی کوششیں کریں۔ جہیز کا لین دین گناہ کبیرہ، بلکہ سراسر ناجائز و حرام ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق نکاح کو سادہ اور آسان رکھا جائے۔ جہیز جیسے سنگین گناہ کو معاشرہ سے ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ ایسی شادیوں میں شرکت کرنے سے سختی سے بائیکاٹ کیا جائے جن میں جہیز دیا یا لیا گیا ہو۔
مرحومہ عائشہ شوہر اور سسرالیوں کے ظلم کا شکار تھی، شدید سماجی دباؤ نے اس مظلوم کو ذہنی تناو اور قلبی صدمہ کے ساتھ ساتھ آخری حد تک مایوس کردیا تھا۔ ان کے درد و کرب کا اندازہ ان کے آخری الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ “میں کسی انسان کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی۔” اس کی الوداعی ویڈیو نے معاشرے کو اور خصوصاً خواتین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلم سماج کے ذمہ دار افراد خصوصا علماء و ائمہ کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ “سادہ شادی” کا شعور بیدار کریں اور “جہیز کی مذمت” کو خطابات جمعہ کا موضوع بنائیں۔
ہماری بیٹیاں قیمتی گوہر ہیں۔ ان کی حفاظت و سلامتی سماج کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ وہ وقت آ پہنچا ہے کہ بیٹیوں کے بارے میں مسلم معاشرے کی اس اجتماعی مجرمانہ غفلت کا سنجیدگی سے ازالہ کیا جائے اور سچی توبہ کی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *