آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ، اہم امور پر تبادلۂ خیال

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ، اہم امور پر تبادلۂ خیال

 نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو اور اہم تجاویز پاس ہوئیں، اس کی اطلاع دیتے ہوئے مشاورت کے جنرل سیکریٹری جناب شیخ منظور احمد نے اپنے صحافتی بیان میں بتایا کہ اس اجلاس کی صدارت صدر مشاورت جناب نوید حامد صاحب نے فرمائی ۔
منعقدہ اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کچھ طاقتیں ہندستان کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اس سے ملک کے سیکولر جمہوری اور سماجی نظام کو زبردست خطرہ لاحق ہو جائے گا، آزاد ہندستان کی بنیاد سیکولرازم پر رکھی گئی ہے جہاں پر ہر مذہب و فرقہ کو نہ صرف مذہبی آزادی تھی بلکہ اپنی رائے کے آزادانہ اظہارکا بھی پورا حق ہے، لیکن پچھلے کئی سالوں سے ملک میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں اور کمزور طبقہ کے لوگوں کو حاشیہ پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’سب کا ساتھ ،سب وکاس اور سب کا وشواس‘ کا نعرہ دیا ہے لیکن موجودہ حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اس کے برعکس کام کررہی ہے اور یہ صرف ایک نعرہ ہی ثابت ہوا ہے۔حکومت اپنی دستوری ذمہ داریوں کو پوری کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں اور حکومت کے درمیان خلیج پیدا ہوئی ہے ۔
مشاورت کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات پر تفصیلی غور کیا اور اس بات پر دکھ اور رنج کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی نظام نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دے رہا ہے اور اقلیتیں خاص کر مسلمان ، عیسائی اور دوسرے طبقوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اقلیتوں کو لو جہاد اور گؤ رکشکوں نے اپنا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے اقلیتوں میں حساس عدم تحفظ پیدا ہوا ہے ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی ہی نہیں کی بلکہ بے قصور اقلیتی لوگوں کے خلاف نہ صرف عدالتی کارروائیاں شروع کیں بلکہ انھیں جیلوں میں بھی ڈالا گیا۔ یہ بات اب عیاں ہوگئی ہے کہ حکمراں جماعت ہندو راشٹر کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے جس سے جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔

سی اے اے اور این آر سی پر قوانین

 مرکزی سرکار نے شہری ترمیمی قانون اور این آر سی کو جلد بازی میں پارلیمنٹ سے پاس کردیا ۔ان متنازع قوانین کے سلسلے میں نہ ہی اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کیا گیا اور نہ مختلف سماجی اور انسانی حقوق تنظیموں کے ساتھ ۔ جس طریقے سے حکومت نے اس مسئلے پر احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کی ہے وہ قابل مذمت ہے ۔اس کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی کے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی بھی مسلم مخالف غیر قانونی اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھی کیوں کہ پر امن احتجاجیوں کو بری طرح مارا اور پیٹا گیا ۔مشاورت نے ان تمام پر امن احتجاجیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ جنھوں نے شہری ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے مختلف حصوں اور تعلیمی اداروں میں پر امن جلسے اور جلوس نکالے، مشاورت ہمیشہ غیر دستوری قوانین کی مخالفت کرتی رہے گی اور شہریوں کے خلاف بنے قوانین کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

 مسلم مخالف دہلی تشدد

 فروری 2020 میں شمالی دہلی کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے ، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو رول ادا کیا وہ قابل مذمت ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ان فسادات کا شہری ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ان فسادات میں جانی و مالی نقصانات کے علاوہ مذہبی مقامات کو بھی بھاری نقصان پہنچایا گیا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقلیتی فرقے کے لوگوں نے اپنے علاقوں میں دوسرے مذاہب کے مذہبی مقامات اور مندروں کو فسادیوں سے محفوظ رکھا اور سپر بن کر ان کی حفاظت کی لیکن یہ بات بھی غورکر نے والی ہے کہ فساد زدہ علاقوں میں ایک درجن سے زائد مساجد کو جلایا اور مسمار کیا گیا ۔ ان فسادات میں اکسانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جب کہ بے گناہ و اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیے گئے اور ان کو جیل میں ڈالا گیا ۔حکمراں جماعت کے کچھ رہنما جن میں کپل مشرا اور راگنی تیواری بھی شامل ہے کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی انھوں نے اپنی تقریروں سے نفرت پھیلانے کی کوشش کی ۔ ایک سال کے دوران میں درجنوں کو عدالتوں سے راحت ملی اور امید کی جارہی ہے کہ مستقبل قریب میں بھی بہت سارے لوگ جیل سے رہا ہوں گے ۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ دہلی حکومت نے متاثرہ لوگوں کو ابھی تک امداد فراہم نہیں کی اور نہ ہی باز آباد کاری میں کسی قسم کی مدد کی ۔ مسلم مجلس مشاورت نے جمعیۃ علماء ہند ، جماعت اسلامی ہند، نیشنل ہمدرد فاؤنڈیشن ، امن برادری ٹرسٹ اور دوسرے تمام تنظیموں اور دیگر غیر سرکاری اداروں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے فساد ز متاثرہ کو بڑے پیمانے پر راحتی سامان فراہم کیا۔

جموں اور کشمیر

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کو 5 اگست 2019 سے پہلے کی قانونی حیثیت بحال کرے کہ اس سے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تقویت ملے گی ۔حکومت نے جس جلد بازی سے دفعہ 370کو ہٹایا اور ریاست کو دو مرکزی تحویل والے علاقوں میں تقسیم کیا گیا وہ ایک نا قابل فہم قدم تھا ا س حساس ریاست میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی مہینوں تک سرکاری دفاتر ، تعلیمی ادارے ، کاروبار ٹھپ ہوگیا اور معمول کی زندگی پوری طرح سے درہم برہم ہوگئی ۔سینکڑوں سیاسی ورکروں کو جیل میں ڈالا گیا جب کہ مواصلاتی نظام کو بند کر دیا گیا جس سے سیاحت اور تجارت کے علاوہ تعلیمی نظام بھی متاثر ہوا ۔ حکومت نے پچھلے ڈیڑھ سال کے
دوران میں بیرونی ملکوں کے سفارتکاروں کو وہاں جانے کی اجازت دی جب کہ ملک کے مختلف سیاسی رہنما اور انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے ورکروں کو وہاں جانے کا ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے ۔

(AJ)371مشاورت کا ماننا ہے کہ ہندوستان کے کئی ریاستوں کو دفعہ

کے تحت نوکری ،تعلیم اور جائیداد کے بارے میں کئی حقوق دیے گئے ہیں اس کو مدنظر رکھ کر جموں و کشمیر کو بھی یہ سہولیات فراہم کیے جائیں۔

تبلیغی جماعت
مشاورت کی مجلس عاملہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تبلیغی جماعت کے خلاف کچھ سیاسی جماعتوں نے اس دینی تنظیم کی شبیہ کو خراب کرنے کی مذموم کوشش کی اور بلاوجہ اس پر طرح طرح کے الزام لگائے یہاں تک کہ بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اور عام آدمی پارٹی نے تبلیغی جماعت کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی ۔ جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد طرح طرح کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے بیشتر کو جیلوں میں بھی ڈالا گیا ۔ اس جماعت کو کورونا وائرس کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے میڈیا کے ایک طبقہ کا بھی اہم رول رہا ہے ۔ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں کہ تبلیغی جماعت کے رہنماؤں نے مرکزی حکومت و دہلی حکومت سے بار بار یہ اپیل کی ہے کہ ان کے مرکز میں جو لوگ مقیم ہیں ،انھیں لاک ڈاؤن سے پہلے اپنے جائے مقام پر پہنچائے ۔ لیکن اس کا کوئی اثر بھی نہیں ہوا ۔پچھلے ایک سال کے دوران جماعت سے وابستہ افراد کو رہائی نصیب ہوئی جب کہ ابھی بھی کچھ مختلف جیلوں میں بند ہیں ۔ مشاورت نے حکومت سے اپیل کی کہ تبلیغی مرکز کو جلد از جلد کھولنے کی اجازت دی جائے ۔

خلیجی ملکوں میں اتحاد

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے قطر اور سعودی عربیہ ،متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسلم ممالک متحد ہو جائیں تاکہ مسائل کا سامنا وہ اس سے متحد ہو کر مقابلہ کر سکیں ۔مشاورت محسوس کر تی ہے کہ اس ضمن میں کویت کے سابق امیر نے جو رول ادا کیا وہ قابل ستائش ہے ۔

ایغور مسلمانوں کی حالت زار

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے چین کی حکومت کی طرف سے ایغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنے کی سخت مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے پر خاموشی اختیار نہ کریں بلکہ انھیں انصاف فراہم کرانے میں اپنا رول ادا کریں۔ چین کی حکومت نے لاکھوں ایغور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں بند کیا ہے جہاں ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں ۔ ان کی نسل کشی کی جارہی ہے اور سنکیانگ صوبے میں دوسرے علاقوں سے چینی باسندوں کو بسا کر ایغور نسل کو اقلیت میں بدلنا چاہتے ہیں ۔ حال ہی میں خواتین کو عصمت دری کے اوربچوں کے ساتھ نازیبا سلوک کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں ۔ اسلامی تنظیم سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ حکومت چین کے ساتھ اس مسئلے کو پوری قوت کے ساتھ اٹھائے تاکہ ان بے بس لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بند ہوجائے۔ اس سلسلے میں مشاورت ایک بین الاقوامی سیمینار بھی منعقد کرے گی۔

انیس درانی کی مشاورت رکنیت ختم

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی عاملہ نے انیس درانی کو تنظیم کی رکنیت فوری طور پر ختم کر دی ہے ۔ اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ انیس درانی نے مشاورت کے خلاف طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگائے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ سپریم گائیڈنس کونسل اور عاملہ کے سینئر ممبران کے خلاف الزام تراشی کی جس سے تنظیم کو زک پہنچانے کی کوشش کی اور مجلس مشاورت کے تعلق سے نازیبا الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال کیا۔ ان کی اس حرکت کے کی وجہ سے انھیں تنظیم سے خارج کیا گیا ہے۔
اس اجلاس کے اہم شرکاء میں جناب مولانا اصغر علی امام مہدی صاحب (امیر،جماعت اہل حدیث)، جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ صاحب (صدر آل انڈیا مومن کانفرنس)، جناب انجینئر سلیم صاحب (نائب صدر جماعت اسلامی ہند)، جناب احمد رضا صاحب، جناب نصرت علی صاحب (سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند) جناب سراج الدین قریشی صاحب، جناب شیخ منظور احمد صاحب، محترمہ عظمیٰ ناہید صاحبہ، جناب محمد سلیمان صاحب (صدر انڈین نیشنل لیگ)، جناب تاج محمد صاحب ، مولانا عبدالحمید نعمانی وغیرہ شامل رہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *