مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

پروفیسر اختر الواسع
8مارچ یعنی آج ہی کے دن دنیا بھر میں یومِ خواتین منایا جا رہا ہے۔ یومِ خواتین کی ان تقریبات کا مقصد ان تمام خواتین کی قدر شناسی ہے جنہوں نے اپنے اپنے میدانوں میں غیرمعمولی اعزاز و افتخار کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس طرح یہ تقریبات علامت اور اعتراف ہیں اس جذبۂ تحسین، عزت افزائی، محبت اور فکرمندی کا جو عورتوں کے تئیں ہماری انفرادی اور اجتماعی سوچ اور رویوں میں پائی جاتی ہیں۔ یومِ خواتین کا آغاز فروری 1908میں امریکہ کے نیویارک سٹی میں ملبوسات کی صنعت سے جڑی ہوئی ان ہزارہا خواتین کے احتجاج سے ہوا تھا جنہوں نے کام کے اوقات میں تخفیف، بہتر مشاہروں اور بہتر کام کے ماحول کے لیے کیا تھا۔ پہلا بین الاقوامی یومِ خواتین 19مارچ 1911میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئیزر لینڈ میں منایا گیا۔ مجلس اقوام متحدہ نے 1975میں اس کو اپنے پروگرام میں شامل کیا۔ بین الاقوامی یومِ خواتین کو منانے کا مقصد ہر سماج اور ملک میں خواتین کے کارناموں کا اعتراف کرنا بھی ہے اور ساتھ میں یہ دیکھنا بھی کہ عورتوں کے مسائل اور مصائب کیا ہیں؟ زندگی کی شاہراہ پر وہ اور کون سے معاملات ہیں جن میں عورت کو مزید اختیارات اور آزاد ی ملنی چاہیے؟ اس بدلتی دنیا میں جو ایک عالمی گاو ¿ںمیں تبدیل ہو چکی ہے اور جس میں سب کی خود انحصاری کم سے کم ہوتی جا رہی ہے عورتیں بھی مردوں پر ایک زمانے سے چلی آ رہی گرفت سے باہر آ رہی ہیں اور وہ خوداعتمادی کے ساتھ اپنی آزادی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور اگر دیکھا جائے تو بڑی حد تک ہر مرحلے اور میدان میں وہ مردوں کے مساوی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ علامہ اقبال نے کبھی ایک بڑی اہم بات شاعرانہ رمز وکنایہ میں عورت کے بارے میں بیان کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ:
وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
علامہ اقبال نے جس حقیقت کا اعتراف کیا تھا اگر دیکھا جائے تو اب عورت صرف مرد کے ذریعے استحصال کرنے والے جسم کا نام ہی نہیں بلکہ وہ بیٹی کے روپ میں نعمت، بیوی کی شکل میں رحمت اور ماں کی صورت میں جنت ہے لیکن اس کو مردوں کے تسلط والے معاشروں میں ابھی تک وہ جگہ نہیں ملی ہے جو اس کا جائز حق ہے۔
آج 8 مارچ کو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم الگ سے بین الاقوامی یومِ خواتین منائیں ہی کیوں؟ یہ سوال آج خاص طور پر اس لیے بھی اعصاب شکن بنا ہوا ہے کہ گجرات کے شہر احمدآباد میں عائشہ نامی ایک مسلمان شادی شدہ، تعلیم یافتہ اور ایک باعزت ملازمت کر رہی خاتون نے ازدواجی زندگی میں وہ سکون و انبساط اور عزت و احترام نہ پایا جس کا ہاتھ پیلے ہونے سے پہلے ہر لڑکی خواب دیکھتی ہے۔ اس کا اپنے شوہر اور سسرال والوں سے کیا اختلاف تھا؟ کون سی پریشانیاں تھیں؟ کیا صبرآزما دشواریاں تھیں جن سے دو چار ہوکر وہ پہلے میکے کا دوبارہ حصہ بنی اور بعد میں دریائے سابر متی کی گود میں صبر و ثبات کی وہ پیکر بیٹی ہمیشہ کے لیے سما گئی۔ اس انتہائی رنجیدہ اور الم ناک پس منظر میں مسلم معاشرہ میں جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ ہمارے نزدیک اتنا شدید اور کارگر نہیں ہے جتنا اسے ہونا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اس کا نوٹس لیا ہے اور ایک بیان بھی دیا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا میں بھی کچھ جگہوں جیسے این آر آئی انڈینس میں کچھ جذباتی تحریریں دیکھنے کو مل رہی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآن کو مانتے ہیں اور شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لباس سمجھتے ہیں، مرد اور عورت کے بیچ میں حقوق کی یکسانیت کے قائل ہیں، جن کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے انسانی تاریخ میں عورتوں کے لیے ایک دن مختص نہیں کیا بلکہ انہیں زندہ درگور ہونے سے بچایا، سب سے پہلے وراثت میں حقوق عطا کیے، حصول تعلیم کو مردوں کے ساتھ عورتوں کے لیے برابر سے فرض ہی نہیں کیا بلکہ ماں کی گود سے قبر تک حصول علم کو لازم قرار دیا۔ جس محسنِ انسانیت نے شادی کے لیے لڑکی کی پسند اور اجازت کو اولیت اور فرضیت عطا کی، اس کے معاشی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے مہر کو یقینی بنایا، جس نے عورت کتنی ہی صاحب حیثیت کیوں نہ ہو اس کی کفالت کی پوری ذمہ داری مرد کے سر رکھی۔ عورت کی شادی کے بعد کفالت اور پرائیویسی کو مرد کے لیے ذمہ داری بنایا۔ عورت کے گھر والوں کے لیے جہیز دینے اور شوہر کے گھر والوں کے لیے لینے دونوں کو شرعی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر جرم قرار دیا۔
عائشہ جیسا ایک واقعہ بھی انصاف پسند، امن کے نقیب اور مرد و زن میں مساوات کے خلاف ایک گہرا داغ ہے۔ بعض لوگوں کا اس پر یہ رد عمل انتہائی تکلیف دہ اور شرمناک ہے کہ الحمدللہ مسلم معاشرے میں اس طرح کی برائیاں نہیں کے برابر ہیں اس لیے کہ برائی ایک ہی کافی ہے۔ کسی معاشرے کو بدنام اور برباد کرنے کے لیے برائی کا جواز برائی سے دینا اسلام کے مزاج اور روح کے منافی ہے۔ اپنے کپڑے کو دوسرے کے کپڑے سے کم میلا بتا کر خود کو مطمئن کرنا جان بوجھ کر خود کو دھوکا دینا ہے اور اپنی رسوائی کا سامان کرنا ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے پاس قوت نافذہ بھلے ہی نہ ہو لیکن وہ اجتماعی اور اخلاقی قوت تو موجود ہے جو اپنے بھرپور سماجی دباؤ کے ذریعے مسلم سماج میں اسلامی شریعت اور تعلیمات کی پامالی کرنے والوں سے اچھی طرح نمٹ سکتی ہے۔ ان کا سماجی بائیکاٹ کر سکتی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ جیسی منظم نمائندہ اور اجتماعی تنظیم جن کے پاس ہو وہ ان لوگوں سے نمٹنے میں کیوں بے بس نظر آتے ہیں جو اپنے نفس کے تقاضوں کے لیے اسلام کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ آپ کے پاس مساجد کا، مدارس کا اور مکاتب کا ایسا منظم نظام ہے کہ آپ اپنے معاشرے کی تِل تِل کی خبر رکھنے پر قادر ہیں تو پھر آپ ان کے خلاف اسلام کی ناقدری کرنے پر کوئی ایسا قدم کیوں نہیں اٹھا سکتے کہ کسی عائشہ کو دریا بُرد ہونے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے؟
ہم بحمد للہ جس مذہب کے ماننے والے ہیں اس میں حضرت خدیجہؓ معاشی خود مختاری کا، حضرت عائشہ تعلیم کی نشرواشاعت کا، ام المؤمنین حضرت سلمیٰؓ اور سیدہ زینبؓ سیاسی فراست اور غیرمعمولی حق و صداقت کے اظہار کا اور حضرت رابعہ بصریؒ روحانی سربلندی کی جیتی جاگتی علامت ہیں۔ اسی طرح عہدِ رسالت ہو یا خلفائے راشدین کا مبارک زمانہ، عورتیں اپنی بات کہنے، منوانے اور زندگی کے ہر میدان میں عملی طور پر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آزاد رہی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم 8مارچ کو بھی دنیا کے سامنے اسلام کا روشن چہرہ، اس کی زندہ جاوید تعلیمات اور عورتوں کے سلسلے میں اس کی عملی اور کارآمد تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصرہیں؟
آج جب کہ ستاروں کی گزرگاہوں کو ڈھونڈھنے میں مصروف انسان اپنے حقوق کے لیے ایک ایک دن کو مخصوص کر رہا ہے تو وہ یہ بھی بتا رہا ہے کہ وہ کس طرح تنگئیِ داماں کا شکار ہے وہ رشتے جو محترم ہیں، مقدس ہیں، جن کی پاسداری ناگزیر ہے وہ کسی ایک دن کے لیے مخصوص نہیں کیے جا سکتے لیکن ہم دوسروں سے کیا شکایت کریں ہم تو ایک دن کے لیے بھی انہیں یاد نہیں کر رہے ہیں اور آج صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہبی گروہ میں عورت کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسی پر یہ دردناک اور بھیانک آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ:
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں ؟
آئیے ہم ہر کار خیر کی طرح عورتوں کے عزت و احترام کی بازیابی کے لیے اپنے گھروں سے شروعات کریں اور اسلام کی تعلیمات کو لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کی حقیقت بنا دیں۔
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *