اک فقط ذاتِ خداوند ہے حَی و قیوم

اک فقط ذاتِ خداوند ہے حَی و قیوم

احمد سجاد ساجد قاسمی
مرثیہ
حضرت الاستاذ مولانا زبیراحمد صاحب قاسمی
سرپرست مدرسہ اشرف العلوم کنہوا شمسی ضلع سیتامڑھی بہارکی یاد میں
(وفات ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۹)

موت ہے زندہ حقیقت یہ ہے سب کو معلوم
اک فقط ذاتِ خداوند ہے حَی و قیوم
موت برحق ہے جسے نام دیا رب نے یقین
زندگی حزن مسلسل ہے فقط غم کی امین
پھر بھی کچھ موت زمانے کو رلادیتی ہے
حزن وغم رنج والم حد سے بڑھا دیتی ہے
اپنے اسلاف کی عظمت کا وہ روشن مینار
جس کے جانے سے ہے افسردہ ابھی لیل ونہار
وہ جسے علم ومعارف کا خزانہ کہیے
شاہِ کونین کی سنت کا دِوانہ کہیے
واقف حکمت و اسرار و رموزِ قرآں
شارحِ عقدۂ اعجاز کلامِ رحماں
ماہرِ علمِ شریعت وہ مجسم اخلاق
فقہ میں جس کی بصیرت رہی شہرہ آفاق
آپ کا درس حدیث آپ کی شہرت کا امیں
نحوکے فن میں کوئی آپ کا ثانی ہی نہیں
ہاں یہ ہے مرثیۂ حضرتِ استاذِ جلیل
نور سے جن کے فروزاں ہیں ہزاروں قندیل
جس کی تربیت وشفقت سے ہے دانش کی بہار

جس کے اوصافِ حمیدہ کا ہے چرچا ہر سو
عشق حق عشق نبی جس کی رہی ہے خوبو
حوصلہ جس سے ملا جس سے توانائی تھی
آگہی جس سے ملی روح کوزیبائی تھی
نوحۂ حضرتِ استاذ زبیر احمد ہے
جس کی رحلت سے ابھی دل میں کسک بے حد ہے
قبر پر ان کی ہو انوار کی بارش یارب
ہوترے فضل کی، رحمت کی نوازش یارب
ان کی اولاد کوتو صبر کی دولت دے دے
حسن اعمال کی اخلاق کی نعمت دے دے
ساجد غم زدہ کرتا  ہے دعا یہ بھی خدا
بخش دے جرم مرے میرے گنہ میری خطا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *