میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری، ایک دن میں 114 شہری ہلاک

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری، ایک دن میں 114 شہری ہلاک

فوج نے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں اتنی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے۔ گذشتہ ماہ فوجی بغاوت کے بعد سے یہ ملک میں مہلک ترین دن تھا۔
نیپی ٹاو: میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران کم از کم 114 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوج نے پر امن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں اتنی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے۔ گذشتہ ماہ فوجی بغاوت کے بعد سے یہ ملک میں مہلک ترین دن تھا۔ ملک کے 44 شہروں اور قصبوں میں لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے مظاہرین کے خلاف فوج کا ظلم و ستم عیاں ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ میانمار میں گذشتہ ماہ فوج نے حکومت کا تحتہ الٹ کر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاہم اس کے بعد سے ملک میں فوجی بغاوت کے خلاف مسلسل مظاہرے کیے جا رہے تھے۔ سنیچر کو مسلح افواج کا دن منایا جا رہا تھا اور اس موقعے پر مظاہرین نے ینگون (رنگون) اور دیگر شہروں میں بھی مظاہرے کیے۔

فوجی بغاوت کے قائد مِن آنگ ہلینگ نے سنیچر کو قومی ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ وہ ’جمہوریت کا تحفظ‘ کریں گے۔ انہوں نے نے انتخابات کا وعدہ تو کیا تاہم کوئی تاریخ نہیں دی۔ یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد سے مظاہروں کو دبانے کی سکیورٹی فورسز کی کوششوں میں اب تک 320 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری ٹی وی نے جمعے کو اپنی نشریات میں خبردار کیا تھا کہ لوگوں کو ’پہلے ہونے والی بری اموات سے سبق سیکھنا چاہیے کہ آپ بھی سر اور پشت پر گولی لگنے کے خطرے کی زد میں ہیں۔‘
ادھر، امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ میانمار میں سنیچر کے روز ہونے والی ہلاکتوں کو شدید غم و غصے کی نظر سے دیکھتا ہے۔ بی بی سی اردو میں شائع رپورٹ کے مطابق اینتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ اس روز کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ ’برسر اقتدار فوج چند لوگوں کے مفادات کے لیے عام شہریوں کو قربان کر دے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ میانمار کے بہادر لوگ اس دہشت کی حکومت کو مسترد کرتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی سفارتخانہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ میانمار میں سکیورٹی فورسز ’نہتے شہریوں کو قتل کر رہی ہیں‘ جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ سنیچر کا دن ’دہشت اور رسوائی کے طور پر یاد کیا جائے گا۔‘ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ ان واقعات کا سن کر انتہائی حیران ہیں اور برطانوی وزیرِ خارجہ اسے پستی کی ایک نئی مثال قرار دے چکے ہیں۔
فوجی بغاوت کے قائد مِن آنگ ہلینگ نے سنیچر کو قومی ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ وہ ’جمہوریت کا تحفظ‘ کریں گے۔ اُنھوں نے انتخابات کا وعدہ تو کیا تاہم کوئی تاریخ نہیں دی۔
یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد سے مظاہروں کو دبانے کی سکیورٹی فورسز کی کوششوں میں اب تک 320 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے جمعے کو اپنی نشریات میں خبردار کیا تھا کہ لوگوں کو ’پہلے ہونے والی بری اموات سے سبق سیکھنا چاہیے کہ آپ بھی سر اور پشت پر گولی لگنے کے خطرے کی زد میں ہیں۔‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *