کیا اردو کونسل آر ایس ایس کی تشہیر کا ادارہ بن گیا ہے؟

کیا اردو کونسل آر ایس ایس کی تشہیر کا ادارہ بن گیا ہے؟

اے مسعود
نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ملک کے تمام خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کو اپنے تسلط میں لے لیا ہے جو اس کی مربی جماعت آر ایس ایس کے نظریات کی ترویج و اشاعت میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال ملک میں اردو زبان کی ترقی کا سب سے بڑا خود مختار سرکاری ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی یا نیشنل کونسل فار پرموشن آف اردو لینگویج ہے۔ اب اس ادارہ سے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی کتاب شائع ہونے جارہی ہے۔ حالانکہ ادارہ کے اصول و ضوابط کے مطابق کسی سیاسی موضوع اور کسی سیاسی رہنما کی کتاب شائع نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ایسی کوئی کتاب جس میں فرقہ وارانہ مواد شامل ہو۔ لیکن کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے نہ صرف کونسل کے اشاعتی ضوابط کی صریح خلاف ورزی کرکے یہ کتاب شائع کی ہے بلکہ وہ ”اپنے آقاؤں“ کو خوش کرنے میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں انہوں نے خود بھاگوت کی کتاب کا ترجمہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔
کونسل نے اس سلسلہ میں جو پریس نوٹ جاری کیا ہے اس کی زبان ملاحظہ فرمائیں ”راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک عزت مآب موہن بھاگوت جی کی کتاب ’بھوشیہ کا بھارت‘ کا اردو ترجمہ ’مستقبل کا بھارت ‘ کے اجرا کی تقریب ڈاکٹر کرشن گوپال جی سہ سرکاریہ واہ آر ایس ایس کے ہاتھوں ۵ اپریل شام پانچ بجے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے ملٹی پرپس ہال میں منعقد ہوگی۔ اس موقعے پر مرکزی وزیر تعلیم عالیجناب ڈاکٹر رمیش پوکھریال ’نشنک‘ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت فرمائیں گے۔ ان کے علاوہ ملک کی مؤقر اور اہم شخصیات بھی تقریب میں موجود رہیں گی۔ یہ اطلاع قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے دی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ’بھوشیہ کا بھارت‘ عزت مآب جناب موہن بھاگوت جی کی اہم تصنیف ہے جس میں ملک کی تہذیب و ثقافت، اخوت اور امن و سلامتی کے حوالے سے بہت ہی مربوط گفتگو کی گئی ہے اور اس میں ملک کے مستقبل کی خوبصورت تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔ موہن بھاگوت جی نے اس کتاب میں بین مذہبی مکالمہ اور ڈائیلاگ پر زور دیا ہے اور سنگھ سے جڑے ہوئے لوگوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات اور تاریخ کا براہِ راست مطالعہ کرنے، نیز مسلمانوں کو سنگھ کی شاکھاؤں میں جاکر براہِ راست معلومات حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔
ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ میں نے اس کتاب کا ترجمہ بعنوان ’ مستقبل کا بھارت ‘ اس لیے کیا ہے کہ آرایس ایس جیسی فلاحی و رفاہی تنظیم کے تعلق سے مسلمانوں میں جو غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات ہیں وہ دور ہوجائیں اور آر ایس ایس کے بنیادی نظریات کو صحیح سیاق وسباق میں سمجھا جائے، تاکہ دونوں طبقات کے درمیان تفریق وتعصب کا خاتمہ ہو۔ “
اب اسے ڈائریکٹر موصوف کی خوش فہمی کہا جائے یا خوشامد ۔ جن کا اس عہدے پر تقرر بھی آر ایس ایس کے لیڈر اندریش کمار کے مرہون منت بتایا جاتا ہے، جن کا مبینہ طور پر نام متعدد بم دھماکوں کے سلسلے میں آیا تھا۔ ویسے ڈائریکٹر موصوف کتنے قابل اور لائق و فائق ہیں وہ سب ہی لوگ جانتے ہیں۔ جنہیں ان سے ملنے کا تفاق ہوا۔
بہرحال اس کتاب کی اشاعت کونسل کی تقریبا پچاس سالہ تاریخ میں بے نظیر اور قابل تشویش واقعہ ہے۔ کس طرح ایک صریح فرقہ پرست تنظیم اور اس کے فرقہ پرست رہنما جو دن رات ملک کے دوسرے بڑے مذہبی فرقہ اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں ان کی ایک سرکاری خود مختار ادارہ میں پذیرائی کی جارہی ہے خوبصورت الفاظ سے تعارف کرایا جارہا ہے۔ ویسے مئی 2014 میں مرکزی اقتدار پر قبضہ کے بعد سے ادارہ کا ہر نیا ڈائریکٹر اقتدار وقت خاص طور سے آر ایس ایس کی چاپلوسی میں لگا رہا لیکن موجودہ ڈائریکٹر نے تو سب ہی حدیں پار کرلی ہیں اور کونسل کے لیئے ایک غلط نظیر قائم کرلی ہے جس سے خطرناک عواقب کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ محبان اردو ااور اردو حلقوں کو چاہیے کہ وہ اس اقدام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ورنہ یہ ادارہ آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت کے مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *