امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی رحلت قیامت صغریٰ سے کم نہیں: مولانا مظفر عالم مدرسہ احمدیہ کریمیہ میں تعزیتی نشست

امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی رحلت قیامت صغریٰ سے کم نہیں: مولانا مظفر عالم مدرسہ احمدیہ کریمیہ میں تعزیتی نشست

مظفر پور: مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ جنرل سکریٹری آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے انتقال پر ملال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا اورائی مظفرپور کے سرپرست حضرت مولانا مظفر عالم صاحب نقشبندی سجادہ نشیں خانقاہ نقشبندیہ مصراولیا نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی رحلت عالم اسلام بالخصوص ملت اسلامیہ ہند کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے- خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ ہندوستان کے مسلمان سنگین مسائل سے دو چار ہیں حضرت امیر شریعت کا سانحہ انتقال قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہے ، آ پ بالغ نظر، بلندنگاہ ، روشن ضمیر، بیدار مغز ، دوراندیش ، جری، اور بیباک قائد تھے – حکومت ہو یا میڈیا آ پ حق کہتے تھے اور اس پر جم جاتے تھے اور اس کے لیے نہ کسی کو خاطر میں لاتے تھے اور نہ کسی کی پرواہ کرتے تھے -ملک وملت کے باوزن اور باوقار ادارے کی ذمہ داری آ پ کے سر تھی، آ پ ملت اسلامیہ ہند کے سب سے مظبوط نمائندہ پلیٹ فارم آ ل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فعال و متحرک جنرل سکریٹری، مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھاڑکھنڈ کے باوقار امیر شریعت ، عظیم مرکز روحانی خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، ممتاز تعلیم گاہ جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست ، رحمانی فاؤنڈیشن اور رحمانی 30/کے بانی وروح رواں ، مولانا آ زاد فاؤنڈیشن دہلی کے وائس چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف دینی و عصری اداروں اور ملی تنظیموں کے سربراہ تھے – آ ج اتنابڑا غم مسلط ہو گیا امارت شرعیہ پر، مسلم پر سنل لاء بورڈ پر ،مدارس اسلامیہ پر ، عصری تعلیم گاہوں اور تنظیم ملت پر جس کو بھلانا بڑا مشکل ہے ، ان کی حیثیت ہر مشکلات میں ملت کے لیے مظبوط ڈھال کی تھی ، اللّٰہ تعالیٰ درجات کو بلند فرمائے اور ملت کو بہتر بدل عطاء فرمائے آمین- حضرت امیر شریعت کے شاگرد اور امارت شرعیہ کے رکن مولانا بلال احمد رحمانی نے کہا کہ حضرت امیر شریعت کی حیثیت ملت کے لیے مہربان باپ کی تھی ، وہ ہندوستانی مسلمانوں کی سربلندی اور تعمیر کے لیے آ خری سانس تک سر بکف رہے، انہوں نے ملت کو جینے کا باوقار سلیقہ اور مرنے کا بامراد جذبہ دیا، حافظ نسیم احمد ناظم مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا نے کہا کہ حضرت امیر شریعت نے ساری زندگی اسلام کی آ بیاری ، ملت بیداری کوقوت اور سیاسی شعور کو حوصلہ بخشنے میں صرف کی ، مولانا سہیل اختر نے کہا کہ تنظیم ملت، تعمیر قوم ، اصلاح نفس اور تعلیم و تربیت کی اشاعت آ پ کا محبوب مشغلہ تھا، مولانا طفیل اختر نے کہا مجاہدانہ بیباکی ، غیر معمولی قائدانہ صلاحیت اور اسلامی تشخص کی فکر حضرت امیر شریعت کی خصوصیت تھی، قاری محمد زید نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آ پ کو گونا گوں صفات کا حامل بنایا تھا، آ پ زندہ دل اور آ پ صاحب کشف وکرامات بزرگ تھے – ان کے علاوہ ماسٹر خواجہ سعد اللّٰہ، مولانا امتیاز، ماسٹر فخرعالم، مولانا آ فتاب، مولانا محمد علی، مولانا فرحان وغیرہ نے بھی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا- حضرت امیر شریعت کی رحلت سے مدرسہ احمدیہ کریمیہ مصراولیا اورائی مظفرپور کا ماحول سوگوار ہے، ختم قرآن اور ایصا ل ثواب کا سلسلہ جاری ہے – اللّٰہ تعالیٰ درجات کو بلند فرمائے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے آمین ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *