حق گوئی و بیباکی کے مرد قلندر جاتا رہا

حق گوئی و بیباکی کے مرد قلندر جاتا رہا

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی

مذہب اسلام آخری مذہب ہے، نبی آخرالزمان ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا، البتہ نبوی کام امت مسلمہ کے علماء کے کاندھوں پر آیا، الحمدللہ! چودہ صدی سے یہ نبوی فریضہ علماء اسلام بحسن خوبی انجام دیتے چلے آرہے ہیں، ہر دور میں اس میں ایسے ایسے جبال العلم رجال کار علماء کرام پیدا ہوتے رہیں ہیں جو ہر طرح سے نیابت انبیاء کا فریضہ انجام دیا ہے،اور دے رہے ہیں، موجودہ دور میں انہیں میں سر فہرست ایک نمایاں نام امیر شریعت سابع مفکر اسلام حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ (سابق جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،و سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر،بہار) کا بھی تھا، جو محتاج تعارف نہیں ہیں ، ابھی گذشتہ 30/ مارچ کو کاتب السطور نے حضرت امیر شریعت سابع رح کے ایک عظیم کام پر اپنےکالم میں اس عنوان سے لکھا تھا:
اہل بہار کے لئے خوش آئند خبر
اس کے تحت لکھا تھا کہ
اس وقت “امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، بہار” کے امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم(سجادہ نشین خانقاہ رحمانی، مونگیر، بہار، و جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ہیں، اس میں نائب امیر شریعت کا بھی ایک عہدہ ہوتا ہے جو ابھی تقریباً پانچ سال سے خالی تھا، آج 30/مارچ ، 2021/ء روز منگل، کو حضرت امیر شریعت سابع دامت برکاتہم نے حضرت مولانا شمشاد صاحب رحمانی دامت برکاتہم (استاذ حدیث: دارالعلوم وقف دیوبند) کو نائب امیر شریعت نامزد کردئیے ہیں، مولانا موصوف جواں سال اور ذی استعداد عالم دین ہیں، موصوف کو نائب امیر شریعت کے منتخب ہونے پر ملک بھر سے ان کو مبارک باد دی جارہی ہے، ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کو اس پلیٹ فارم سے خدمت خلق کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرے، اور ان کو ہر شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔ آمین*
صرف پانچ دن پہلے حضرت امیر شریعت سابع رح نے اپنا نائب کا انتخاب فرمایا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت رح کو اطلاع ملی چکی تھی کہ اب چل چلاؤ کا وقت آگیا ہے، اپنا نائب کا انتخاب فرمادیں۔
آہ! آج 20/شعبان المعظم، 1442/ھ مطابق 3/اپریل، 2021/ء روز شنبہ تقریباً دو بجے دن حضرت امیر شریعت سابع رح ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔
انا لله وانا اليه راجعون، ان الله ما اخذ وله ما اعطى وكل شئ عنده بأجل مسمى فلتصبر ولتحتسب۔
اس غم انگیز خبر ملنے پر یقین نہیں ہورہا تھا کہ حضرت امیر شریعت سابع رح ہم سے جدا ہوگئے، لیکن یقین کرنا پڑا، فدوی نے اسی وقت ایک اعلان لکھا اور واٹس ایپ کے کئی گروپ میں شئر کیا کہ حضرت رح کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کریں، وہ اعلان و درخواست مندرجہ ذیل ہے:
گروپ کے احباب سے ایک اہم گذاراش
یہ خبر صحیح ہے کہ اب امیر شریعت سابع بقول مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رح ولی ابن ولی ابن ولی رح اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه وادخله في فسيح جناتك ياارحم الراحمين.
اللہ تعالی حضرت رح کی بال بال مغفرت فرمائے اور باشندگانِ بھارت خصوصا بہار اڑیسہ، جھارکھنڈ کو حضرت رح کا نعم البدل عطا فرمائے (آمین)
اس موقع پر اب ہم صرف حضرت رح کی ترقی درجات کے لئے کار خیر ہی کرسکتے ہیں، اسی میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ حضرت رح کو تجہیز و تکفین سے پہلے پہلے ہم قرآن کریم کی تلاوت کریں، کسی کتاب میں کسی عالم کے بارے میں پڑھا تھا کہ ان کے تجہیز وتکفین سے پہلے پہلے ایک قرآن مجید پڑھا گیا تھا، کاتب السطور کی بھی خواہش ہے کہ گروپ میں علمائے کرام حفاظ عظام موجود ہیں ، ہر ایک، ایک پارہ دو پارہ پڑھ کر حضرت رح کے لئے مغفرت کی دعا کریں، یہ حضرت کے لئے کار خیر ہوگا۔
امید کہ اس پر احباب عمل کریں گے۔
الحمدللہ! کئی گروپ کے شرکاء نے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا، ہمارے ادارہ جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش کے عربی درجات کے تمام طلبہ نے مل کر ایک قرآن پاک مکمل پڑھ کر حضرت امیر شریعت سابع رح کے نام بخشا، اللہ تعالی اس تلاوت کلام اللہ کو قبول فرماکر حضرت رح کے لئے بلندی درجات کا سبب بنائے۔ (آمین)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *