عالم اسلام کی قدیم ترین مسجد و دینی درسگاہ جامع ازہر کے اساتذہ و طلبہ کا امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر اظہار تعزیت اور ان کو خراج عقیدت

عالم اسلام کی قدیم ترین مسجد و دینی درسگاہ جامع ازہر کے اساتذہ و طلبہ کا امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر اظہار تعزیت اور ان کو خراج عقیدت

قاہرہ: آج بروز پیر مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایک ہزار سال پرانی مسجد اور دنیا کی قدیم ترین دینی وعالمی درسگاہ جامع ازہر کے متعدد اساتذہ اور طلبہ نے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لئے ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کی ، اس موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں جامعہ ازہر کے مؤقر استاذ ڈاکٹر سیف رجب قزامل سابق ڈین فیکلٹی آف شریعہ طنطا نے حضرت کی موت پر اپنے گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ، سوشل میڈیا پر ان کے جنازہ میں موجود جم غفیر دیکھ کر انہوں نے کہا کہ جنازہ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اکھٹا ہونا ان کے عند اللہ مقبول ہونے کی علامت ہے، اور کہا کہ2017 میں خانقاہ رحمانی کی زیارت کے وقت مجھے وہاں ان کی شخصیت اور خدمات کو قریب سے دیکھنے کو ملا تھا وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ۔

اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ،اسی طرح ڈاکٹر براء صفوان استاذ فیکلٹی آف عربک زبان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا مرحوم ایک مخلص اور جہاندیدہ قائد تھے ،ان سے ملاقات کے دوران ایسا محسوس ہوا تھا کہ علم روحانیت کے وہ حسین پیکر ہوں ،انکی وفات کی خبر سنکر دلی صدمہ ہوا ، اللہ انہیں اپنے محبوب بندوں میں جگہ عطا فرمائے۔
وہیں دوسری جانب اپنے تعزیتی پیغام میں قاہرہ میں مقیم قدیم ترین ندوی اور جامعہ عین شمس کے پروفیسر ڈاکٹر عبد المجید ندوی ازہری نے مولانا کی وفات پر اپنے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا بہت ہی بلند پایہ عالم دین تھے ،ملت اسلامیہ ہندیہ کی مضبوط آواز تھے وہ بلند و جرات مند قائد تھے ،اللہ انکو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔
اسی طرح جامعہ ازہر کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز (شعبہ اردو) فیکلٹی آف لینگویجیز کےمؤقر استاذ ڈاکٹر محمد عزیر ندوی نے کہا کہ یوں تو زندگی اور موت کا سلسلہ ابتداء آفرینش سے ہی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا، بڑے اور چھوٹے ہر طرح کے لوگ یہاں آتے رہیں گے ، اور اپنی یادوں کے نقوش چھوڑ کر یہاں سے جاتے رہیں گے۔ لیکن ان میں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موت فرد واحد کی موت نہیں بلکہ پوری امت کی موت ہوتی ہے، حضرت امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری جنرل حضرت سید محمد ولی رحمانی صاحب مرحوم کی شخصیت بھی کچھ اسی طرح کی تھی، وہ ایک جامع، ہمہ گیر اور متعدد الکمالات شخصیت کے مالک تھے، وہ خانقاہی بھی تھے اور سیاسی بھی۔ وہ قانون داں بھی تھے اور حقوق نسواں کے پاسباں بھی، ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آواز حق بھی بلند کرتے اور مظلوموں کی داد رسی بھی کرتے ، وہ اسلام اور مسلمانوں کی تلوار بھی تھے اور زرہ بھی۔
ویسے تو مرحوم نے بہت سارے کارنامے انجام دئے ہیں لیکن میرے نزدیک ان کے دو کام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، ان میں ایک کام دفاعی ہے اور دوسرا ترقیاتی ہے ، چنانچہ انہوں نےاگر ایک طرف مدارس اسلامیہ کو حکومت کی چنگل سے دور رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے عقیدے اور شناخت کی حفاظت کی تو دوسری طرف رحمانی تھرٹی جیسا انتہائی اہم اور مفید ادارہ قائم کرکے ہونہار اور لائق مسلم بچوں کو ترقی کا راستہ بھی دکھایا ۔ مولانا مرحوم نے اپنے ان دو کارناموں کے ذریعے مسلم قوم کو نئی راہ دکھائی ، اور اسے یہ پیغام دیا کہ اگر تم مسلمانوں کی عظمت رفتہ واپس لانا چاہتی ہو تو تمہیں ان دوکاموں کو اولیت دینا ہوگی، ایک یہ کہ اسلامی درسگاہوں کو سرکاری مداخلت سے دور رکھ کر قوم کی دینی وملی شناخت اور اسلامی عقائد و اخلاق کو محفوظ رکھو ، اور دوسرا یہ کہ ” رحمانی تھرٹی” نما تعلیمی ادارہ قائم کرکے قوم کے لائق اور ہونہار فرزندوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرو، تاکہ وہ ملک وملت کی قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں اور اس کی ڈوبتی نیا پار لگائیں، اور مسلمانوں کو ایک ترقی یافتہ قوم کی حیثیت سے پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے، ان کے کاموں کو قبول فرمائے، ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل دے، اور ہم سب کو توفیق دے کہ ان کے لگائے ہوئے پودوں کی آبیاری کریں ، اور انہیں ثمر آور بناکر ، مسلم قوم کو ترقی کی چوٹی پر پہنچانے سے متعلق ان کا خواب شرمندہ تعبیر کریں۔
مولانا بہت ہی اعلی فکر کے حامل تھے ،مولانا مرحوم بے باک و جرات مند قائد تھے ،وہ موجود ہ پر آشوب دور میں امید کی کرن تھے ، اللہ حضرت کو غریق رحمت کرے، جنت الفردوس میں انبیائے کرام ، شہدائے عظام اور اپنے دیگر نیک وپرہیزگار بندوں کی صحبت نصیب کرے، اور ان کی علمی ودینی خدمات اور ان کے مخلص شاگردوں کو ان کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے.
اس موقع پر ریسرچ اسکالر مولانا فضل الرحمن ندوی ازہری نے مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرحوم جہاں ایک بے مثال مربی وقائد تھے، وہیں ان کی شخصیت بہت ہی دلآویز تھی ، وہ سادگی اور انکساری کی انوکھی مثال تھے، وہ حضرت مولانا منت اللہ نور اللہ مرقدہ کے حقیقی معنوں میں جانشیں تھے ، وہ اپنی تحریروں و تقریروں میں اسلام کی بالادستی اور اس کی ہمہ گیریت و ابدیت اور دنیا و آخرت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف اسلام ہی کے کار آمد ہونے کو بہت ہی خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کرتے ،اور عوام و خواص کو دینی امور پر سختی سے کاربند ہونے کی ہدایت دیتے ان جیسی علمی وفکری اور جامع شخصیت مدتوں میں پیدا ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ ازہر میں مقیم متعدد طلبہ نے اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *