حضرت امیرِ شریعت کی وفات ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں

حضرت امیرِ شریعت کی وفات ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں

 فورم فار انٹلیکچول ڈسکورس اور دی ونگس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے مولانا محمد ولی رحمانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا 

نئی دہلی: امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی موجودہ وقت میں ملک و ملت کے عظیم قائد تھے جن کی جرأت و بیباکی اور تنظیمی صلاحیتوں کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا،گذشتہ ایک دو سالوں سے ایک کے بعد ایک متعدد شخصیات کی رحلت ہمارے لیے تکلیف دہ ہے،خدا ان تمام کا نعم البدل عطا فرمائے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔

اس مو قع پر ڈاکٹر خالد مبشر اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مولانا محمد ولی رحمانی کی شخصیت پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ وہ مثالی شخصیت کے مالک تھے،باطل کے سامنے انتہائی جلالی جب کہ اپنوں پر شفقتیں نچھاور کر نے والے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے مولانا کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے مشن وژن کو سمجھیں اور حسب استطاعت کام کر تے رہنے کی کوشش کریں۔جناب منظر امام ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے حضرت مولانا کی حیات وخدمات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ آپ نے بیک وقت متعدد پیلٹ فارم سے جو خدمات تن تنہا انجام دی ہیں،بسا اوقات ادارے اور انجمنیں بھی اتنے بڑے بڑے کام کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔آپ تقریباً بائیس برسوں تک بہار قانون ساز کونسل کے ممبر رہے اور بعد میں ڈپٹی چئیرمین بنائے گئے اور یہ بائیس سال اس طر ح سے گذرے کہ قانون ساز کونسل میں معاملہ کچھ بھی ہو تمام ممبران میں آپ کی حیثیت نمایاں ہوتی تھی جس کا اعتراف برادرانِ وطن نے بھی کیا ہے۔

پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر انوار الحق ڈائریکٹر ڈائنامک انگلش نے اپنے تأثرات میں کہا ہندوستان کی سر زمین میں سرسید کے بعد مولانا محمد ولی رحمانی کی شخصیت نظر آتی ہے جنہوں نے تعلیم کے میدان رحمانی تھرٹی اور دیگر جہتوں سے تجدیدی کارنامے انجام دیے ہیں،جو آنے والے وقت میں ملت کی انتہائی اہم ترین ضرورتوں کو پورا کرے گا۔

مسعود جاوید نے کہا کہ مولانا محمد ولی رحمانی زبردست قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ان کی طرح سیاسی شعور اور عصری و مذہبی علوم میں بیک وقت ایسی گرفت اب شاید ہی موجودہ ملی رہنماؤں میں کسی اور کے اندر ہو۔

ڈاکٹر نعمان قیصر نے کہا کہ مولانا حلقہء یاراں میں ریشم ، لیکن رزمِ حق و باطل میں فولاد تھے۔

پروگرام کا آغاز امانت اللہ کی تلاوت سے ہوا نظامت کے فرائض منظر امام نے انجام دئے۔اس مو قع پرفیصل نظیر، بی جے پی لیڈر سید عبدالرحمٰن، افتخار شیخ اور عمارجامی وغیرہ نے شرکت کی۔ یہ تعزیتی نشست ڈائنامک انگلش،بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *