امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کی وفات پر مدرسہ شمس الہدیٰ چنئی میں تعزیتی نشست کا انعقاد

امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کی وفات پر مدرسہ شمس الہدیٰ چنئی میں تعزیتی نشست کا انعقاد

چنئی سے مجاہد الاسلام قاسمی کی رپورٹ
مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒکی وفات پر مدرسہ شمس الہدیٰ ،چنئی میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی صدارت مدرسہ کے مہتمم مولانا ابرار احمد ندوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مجاہد الاسلام قاسمی نے انجام دیا۔ اس تعزیتی نشست کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔اس کے بعد ناظم جلسہ مجاہد الاسلام قاسمی نے امیر شریعت کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امیر شریعت ہمہ جہت شخصیت کے مالک کے تھے۔ اللہ نے ان کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت ماہر فن استاد، سلجھے ہوئے خطیب اور سیاست کے ماہر تھے۔ مولانا ساجد حسین ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ امیر شریعت مولانا ولی رحمانی صاحب کاانتقال ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے، ایسی شخصیتیں برسوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ مولانا کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ایک نڈر عالم دین اور بے باک قائد تھے۔ بحیثیت امیر شریعت انہوں نے بے شمار کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔تعلیمی میدان میں خانقاہ رحمانیہ مونگیر اور امارت شرعیہ کے تحت چلنے والا دارالقضا ء، آئی ٹی آئی اور امارت اسکول اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ ساجد ندوی نے یہ بھی فرمایا کہ ہماری طرف سے مولانا کے لیے بہترین خراج عقیدت یہ ہے کہ انہوں نے معاشرے کے افراد کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے امارت اسکول اور دیگر تعلیمی ادارو ں کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے پورے ہندوستان میں عام کرنا اور مولانا کے مشن کو آگے بڑھانا ہی بہترین خراج عقیدت ہوگا۔ مولانا سلیم الدین صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل علم کا شاید ہی کوئی ایسا طبقہ ہوگا جو امیر شریعت کی خدمات سے واقف نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے” موت العالم موت العالم“ ایک عالم کی موت پوری دنیا کی موت کے برابر ہے۔ ان کے انتقال سے آج پوری دنیا سوگوار ہے۔دعائیہ کلمات کے طور مولانا شبیر احمد ندوی نے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، وہ اپنے دادا مولانا مونگیری اور اپنے والد مولانا منت اللہ رحمانی کے سچے جانشیں تھے۔ اخیر میں مولانا شبیرندوی صاحب نے مولانا کے لیے ایصال ثواب اور دعاءمغفرت کی اور یہ تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوا۔ اس تعزیتی نشست میں مدرسہ کے طلبا و اساتذہ کے علاوہ قرب وجواب کے موقر علماءکرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *