خانقاہ رحمانی کے نئے سجادہ نشیں: تعارفی خاکہ

خانقاہ رحمانی کے نئے سجادہ نشیں: تعارفی خاکہ

محمد شارب ضیاء رحمانی

 کس کواندازہ تھاکہ امیرشریعت سابع، مربی و مرشد، مفکراسلام حضرت مولانا محمد ولی صاحب کو اچانک ’رحمۃ اللہ علیہ‘ لکھنا پڑے گا۔ جب جب یہ مرحلہ آتا ہے ،قلم رک جاتا ہے، یقین نہیں ہوتا کہ آپؒ رخصت ہوگئے، دل بے قابو، ذہن منجمد اور حواس رفو ہوجاتے ہیں کہ ابھی تو امارت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے آپؒ کی تحریکات رواں دواں تھیں، چلتا پھرتا ، علمی و سماجی و سیاسی رہنماء کیسے رخصت ہوگیا، نگاہیں آپ کی مجلس میں پہونچ جاتیں، ہنستا، مسکراتا چہرہ سامنے ہوتا، ہر تصویر بے قراری میں اضافہ کرتی ہوئی دل مسوس دیتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ، تحریک اصلاح معاشرہ پوری مضبوطی سے چلا رہا تھا، جہیز، بے جا رسوم رواج کے سدباب کے لیے آپؒ نے پوری ٹیم کو متحرک کردیا، ’آسان نکاح مہم‘ کامیابی کے ساتھ جاری تھی، بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ اور بنگال میں تعلیمی تحریک زوروں پرتھی، امارت شرعیہ کے تحت امارت پبلک اسکولوں کا قیام کاسلسلہ شروع کیا گیا، دارالقضاء کی توسیع ہونے لگی، آپؒ کے مسلسل دورے ہورہے تھے ، بہار میں اردو کارواں کی تشکیل اور اردو کے تحفظ کی منظم تحریک نے نئی روح پھونک دی تھی۔ گویا تاریک فضا میں امیدکی کرن جاگ چکی تھی۔ اچانک کیا ہوگیا کہ آپ ؒ اس وقت چلے گئے جب امت مسلمہ کو آپ ؒ کی ضرورت تھی۔ عدالتوں میں بابری مسجد، طلاق ثلاثہ، بابری مسجد شہادت کیس سمیت مسلم پرسنل لاء کے اہم مسائل زیر بحث ہیں، ان امور میں آپ ؒ کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ہر دل کی صدا ہے کہ کاش چند برس اور مل جاتے۔ ظاہرہے کہ قادرمطلق کا فیصلہ کون ٹال سکتا ہے، مرضی خداوندی اٹل ہے، اب پوری امت مسلمہ آپؒ سے وابستہ اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے۔

 علالت سے عین قبل آپ ؒنے نائب امیر شریعت کی نامزدگی کی اور چند برس قبل خانقاہ رحمانی کی سجادہ نشینی اور جامعہ رحمانی کی سرپرستی کی وراثت اپنے بڑے فرزند جناب مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے سپرد کی ۔ اپنے عصری ادارے (رحمانی فاؤنڈیشن اور رحمانی تھرٹی) چھوٹے فرزند جناب حامد ولی فہد رحمانی کے حوالے کیے۔ خالق حقیقی نے بلانے سے پہلے آپؒ کے ذریعے ملت اسلامیہ کے لیے کچھ مرہم رکھوا دیا۔ اب خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں، آپؒ کے لائق فرزند مولانا احمد فیصل رحمانی ہیں۔ مرحلہ اظہارعشق وغم سے بمشکل گزر کر نئے سجادہ نشیں کے تعارفی خاکہ کی طرف آتا ہوں۔ کئی دنوں سے جنبش قلم کی کوشش کی، ذہن و قلم نے جواب دے دیا۔ اب کچھ غیرمربوط باتیں لکھنے کی ہمت جٹائی جارہی ہے۔

 9 اپریل کو خانقاہ رحمانی میں امیرشریعتؒ کے خلفاء کی موجودگی میں نئے سجادہ نشیں کی دستار بندی ہوئی۔ مرکز رشد و ہدایت خانقاہ رحمانی اور جامعہ رحمانی کی وراثت آپؒ کے بڑے فرزند جناب مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کے پاس ہے۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، تحقیقی، سماجی ، رفاہی، علمی مزاج رکھتے ہیں۔امیرشریعت سابعؒ، فکر مونگیریؒ کے امین اور تحریک سجادؒ کے پاسباں رہے۔ حضرت مونگیریؒ کی تعلیمی، تحریکی، علمی خدمات سے کون واقف نہیں، حضرت مونگیریؒ کے تعلیمی نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ علماء ، جدید علوم و زبان حاصل کریں، تاکہ اسلام پر ہونے والی فکری یلغار کا مقابلہ کرسکیں اور الحاد و ارتداد کے فتنے کا سدباب کرسکیں۔ انہوں نے مدلل انداز میں بتایا ہے کہ علماء کو سیاست اور حالات حاضرہ سے واقفیت کیوں ضروری ہے۔ دوسری طرف وہ جدیدتعلیم یافتہ طبقوں کی اسلامی ذہن سازی کے لیے فکر مند رہتے، ان کی خواہش رہی کہ مسلمان سارے علوم حاصل کریں، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں، لیکن پہلے وہ ’ مسلمان ‘ ہوں۔ جس عہدے پر رہیں، مذہبی تشخص کے ساتھ رہیں اور ملک و وطن کی ترقی کے ساتھ ساتھ دین متین کو مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ یہی نہیں، حضرت مونگیری ؒ نے علماء اور دانشوروں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی بھی کوشش کی۔ تحریک ندوہ، آپ کے تصور تعلیم کی گواہ ہے۔ (مستقل مضمون میں حضرت مونگیریؒ کے تعلیمی نظریہ کا تفصیلی جائزہ اور تقابلی مطالعہ قارئین کی خدمت میں انشاءاللہ جلد پیش کیا جائے گا۔) سردست بتانا یہ ہے کہ حضرت مونگیریؒ کے اسی مشن کو حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ نے پوری زندگی آگے بڑھایا۔ مولاناؒ کہا کرتے تھے ” مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ، مسلمان رہتے ہوئے تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ ہمیں یہ دیکھناہے کہ ہمارا علم ہمیں دین داری سے دور تو نہیں کررہا ہے، نام نمود پر توجہ زیادہ ہے ، مسلمانوں میں علم کا ذوق و شوق کم ہے ، یہ خطرناک رجحان ہے۔ مسلمانوں کو اپنی سوچ اور ترجیح میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے “ ۔

 امیرشریعت رابعؒ مولانامنت اللہ رحمانی علیہ الرحمۃ اور امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیھم کی زندگی کا مشن ان ہی خطوط کے اردگرد رہا۔ دونوں نے مسلکی دیواروں کو توڑنے کی کوشش کی ، علماء و دانشوران کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ۔ مولانا منت اللہ رحمانی ؒکی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کی کاوش ہو یا حالیہ دنوں تک مولانا محمد ولی رحمانیؒ کی لوگوں کو جوڑنے کی سعی ہو، یہ سب حضرت مونگیریؒ کے خطوط پر ملت کی رہنمائی کی مثالیں ہیں۔ ان کے علاوہ رحمانی تھرٹی ، وہاں کا نظام تعلیم و تربیت اور رحمانی فاؤنڈیشن کی رفاہی خدمات یہ سب فکر مونگیریؒ کے خطوط پر ہیں۔ خانقاہ رحمانی کے دونوں وارث سیاست، قانون ، عصری علوم میں بھی ممتاز رہے۔ گویا دونوں شخصیات ، مشن مولانا محمد علی مونگیریؒ کی مجسم شکلیں تھیں۔

 محترم مولانا احمد ولی فیصل رحمانی بھی اپنے والدمحترمؒ اور جد امجدؒکی طرح علم وعمل کے حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اور دینی علوم کا امتزاج ہے۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علماء، جدیدعلوم و ٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں، بلکہ ان کے ماہرہوں، چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ’دارالحکمت ‘ کا قیام کیا اور تقریباً دس برسوں سے آپؒ کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قرآن مجید کا خود ترجمہ کرلیں، ساتھ ہی زور دیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ ، کمپوٹر، ٹکنالوجی سیکھیں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔گہرائی سے اندازہ لگائیں تویہ فکر کوئی عام بات نہیں ہے۔ آپ کو قرآن مجیدسے زبردست محبت ہے اور اس پر پوری توجہ ہے۔ مصرمیں آپ نے باضابطہ تجویدکی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ رحمانی میں ابتدائی تعلیم اور والد بزرگوارؒ سے تربیت کے بعدعالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرقاہرہ ،مصرسے علوم اسلامیہ اورعربی زبان میں درک حاصل کیا،اس کے ساتھ عصری علوم اورجدیدٹکنالوجی کے مانوبادشاہ ہی ہیں۔ان کی انگریزی تقاریرسننے کے بعدعلم کی گہرائی،وسعت مطالعہ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔آپ نے مغربی دنیاکوبہت قریب سے دیکھاہے۔امریکہ میں نیوکلیئرپاورپلانٹ اورآئل وگیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے۔2001سے 2005تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے ۔آپ کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے ایکسچنجر کمپنی نے 2005میں بطورفیکلٹی مقرر کیا، یہاں مولانا فیصل رحمانی پروجیکٹ منجمنٹ، ورک پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ ،سولیوشن ڈیلیوری فنڈامنٹل کے لکچردیتے رہے ۔بڑی عالمی سافٹ ویئرکمپنی Adobeکے ایم ڈی ایم کے عہدہ پربھی فائز رہے۔ 2012 میں بی پی کمپنی میں ٹرمنل اینڈ ٹرانسپورٹ منیجر بنائے گئے ،2013میں ماس میڈیا اینڈانٹرٹینمنٹ کی ملٹی نیشنل کمپنی Disnney میں بطورسروس منیجرتقرری ہوئی۔متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں قائدانہ ذمے داریاں انجام دینے کے بعد 2015 میں آپ امریکہ کی معروف اوردنیاکی سرفہرست دس یونیورسیٹی میں شامل کیلی فورنیایونیورسیٹی سے ڈائریکٹرآف اسٹریٹیجک پروجیکٹ منجمنٹ کے طورپرمنسلک ہوئے۔ جہاں اب تک مختلف اعلیٰ تعلیم اور کورسزمیں رہنمائی کررہے تھے۔اس کے علاوہ عراق جنگ کے موقعہ پرآپ کی کمپنی نے آپ کی نگرانی میں متعدد رفاہی کام کیے جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔

مندرجہ بالا مشمولات سے اندازہ ہوجائے گا کہ تنظیمی کاموں اورجدیدعلوم کاآپ کوکتناوسیع تجربہ ہے۔بدلتے حالات، دشوار گزار مرحلوں میں آپ کی قائدانہ صلاحیت نمایاں ہوئی ہے۔ جدید و قدیم کے سنگم ہیں، رفاہی مزاج رکھتے ہیں۔ سیمانچل سیلاب کے موقعہ پر دونوں بھائیوں نے عوام کے درمیان رہ کر کام کیا۔ میں نے اس موقعہ پردہلی می ںحضرت ؒ کو وہ تصاویر دکھائیں تو آپؒ نے خوب دعائیں دیں ۔

بچپن سے دینی مزاج رکھتے ہیں،دینی غیرت وحمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ مونگیر میں اسکول کے ابتدائی زمانے میں ٹیچر نے کہہ دیاکہ مسلمان گندے ہوتے ہیں، دونوں بھائی وہاں سے اٹھے ،سیدھاڈی ایم کے پاس پہونچ کرسوال کیاکہ کیاہم گندے ہیں،ڈی ایم نے کہا، نہیں تو، پھر کہا، کیا مسلمان گندے ہوتے ہیں۔ ڈی ایم حیرت زدہ ہوگئے تب آپ نے اسکول کاواقعہ بتایا، ڈی ایم نے فوراً ٹیچر پر کارروائی کرائی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے پہلے اپنے گھرخبرنہیں کی، والد اور دادا کو خبراس وقت ہوئی جب کارروائی ہوچکی تھی۔

امریکہ کی کمپنی کے ایک بڑے پروگرام میں مولانا احمد فیصل رحمانی مدعو ہوئے، اندر کافی انتظار ہوتا رہا، باہر آکر انتظامیہ نے دیکھا تو کھڑا پایا، وجہ پوچھی تو فرمایا ’اندر وہ چیز رکھی ہے جو میرے مذہب میں حرام ہے‘۔ انتظامیہ نے معذرت کی، اندر سے شراب ہٹائی گئی، انتظام درست کیا گیا، تب آپ وہاں گئے۔ یہ دو مثالیں بتانے کے لیے کافی ہیں کہ خاندانی جرأت و غیرت ایمانی، کس طرح مزاج میں رچی بسی ہے۔ ملت کو ایسے ہی جرأت مند، غیرت مند اور باحوصلہ قیادت کی ضرورت ہے۔ آپ کو دیکھ کر امید کی بجھتی شمع کی لو ،یقیناً کچھ تیز ہوجاتی ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ دونوں بھائیوں نے جو کچھ ترقی کی، اپنی محنت سے کی،خاندان کے نام اور اثر و رسوخ کا کبھی استعمال نہیں کیا۔ امیر شریعتؒ نے بھی تپنے کے لیے اورزندگی کے تجربے حاصل کرنے کے لیے دونوں کو آزاد رکھا۔ زندگی میں خود محنت کرکے اعلیٰ مقام حاصل کیا، دشوار گزار مرحلے خود طے کیے۔ جب تپ کر تیار ہوئے تب امیرشریعت ؒ نے اپنی جانشینی سپرد کی ۔یہی مزاج امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی علیہ الرحمہ کا بھی تھا۔ دارالعلوم دیوبند میں عرصہ تک بیشتر اساتذہ کو معلوم نہیں تھا کہ آپؒ ،امیرشریعت مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے فرزند ہیں۔ آپؒ کے فرزندوں نے یہی مزاج پایا ہے۔ انھوں نے خاندانی اثر و رسوخ اور وجاہت کے استعمال کو کبھی پسند نہیں کیا، کبھی انھوں نے ’مولانا ولی رحمانیؒ ‘کا اسٹیکر نہیں لگایا، انھیں والد کی طرح نہیں بلکہ ہمیشہ مرشدکی طرح دیکھا اور رہنمائی حاصل کی۔ والدسے سیکھنے کاجذبہ رہا،حددرجہ احترام رہا۔ اس سے یہ سوال رفع ہوجاتاہے کہ امیر شریعت ؒ کی زندگی میں انھیں سامنے کیوں نہیں لایا گیا۔ دراصل امیر شریعتؒ کا یہ مزاج نہیں رہاکہ وہ اپنے بچوں کو پروجیکٹ کریں۔ اسی لیے نہ سیاسی گلیارے میں اورنہ دینی و مذہبی حلقے میں ان کی تشہیر کی۔ امیرشریعتؒ کی کوشش رہی کہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ جگہ بنائیں۔ انھیں اپنے فرزندوں کی ذاتی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا۔

 مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا مذہبی مطالعہ کافی وسیع ہے۔ آپ کی شخصیت میں دینی علوم کی گہرائی ہے، جدید و قدیم کا سنگم ہے اور عصری اور دینی تعلیم کا امتزاج ہے۔ دس منٹ بات کرلیں، اندازہ ہوجائے گاکہ علم و قابلیت کا دریارواں ہے۔ سنجیدگی، سادگی، متانت، وقار، حلم و بردباری، رگ رگ میں پیوست ہیں۔ اپنے اجداد اور والد بزرگوارؒ کی طرح سچ کو سچ کہنے کی جرأت ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں،مجھ حقیرکو چندماہ شرف باریابی ملا ہے، آپ نے پڑھایا بھی ہے۔ سادگی وحلم کے واقعات ہم لوگوں کے ساتھ پیش آئے ہیں جس کے میں اورمیرے ساتھی گواہ ہیں۔یہ تاثرات ان ہی تجربات کی روشنی میں رقم کیے گئے ہیں۔ خانقاہ رحمانی کی جرات کی تاریخ،عزیمت کی تاریخ،تحریکات کی تاریخ کامستقل باب ہے۔ آپ کی صلاحیتوں کاجسے اندازہ ہوگا،اسے یقین ہوجائے گاکہ آپ، علوم رحمانی کے سچے وارث اور فکر مونگیریؒ کے امین ہوں گے۔ نئے سجادہ نشین ان روایتوں کوآگے بڑھائیں گے اور اپنے بزرگوں اور خانقاہ رحمانی کی جرات و عزیمت اور قیادت کی تاریخ کو مزید مزین کریں گے ۔ ان شاءاللہ۔ ایں دعاءازمن وازجملہ جہاں،آمین باد۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *