مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

پروفیسر اخترالواسع
زندگی کی اگر سب سے اٹل سچائی کوئی ہے تو وہ موت ہے لیکن کچھ لوگوں کی موت ہمیں ہلا کے رکھ دیتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ایسا لگتا ہے کہ ہم صرف ماتم کرنے کے لیے ہی جی رہے ہیں۔ اپنوں میں سے کیسے کیسے اس دنیا سے چلے گیے اور ہم انہیں مٹی دینا تو الگ بات ہے کاندھا بھی نہ دے سکے۔ ان میں ایسی ہی موت ایک ہمہ جہت اوصاف سے متصف فاطمہ رفیق زکریا (پیدائش17فروری 1936وفات 6 اپریل 2021) کی ہے۔ فاطمہ آپا جن سے میرا تعلق 1974سے تھا جب وہ الیسٹرٹیڈ ویکلی آف انڈیا کی اس ادارتی ٹیم کا سرگرم اور سینئر حصہ تھیں جس کی سربراہی سردار خشونت سنگھ کر رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ویکلی کی ملک کی انگریزی صحافت خاص طور سے ٹائمس آف انڈیا گروپ میں ایک خاص اہمیت ہوتی تھی۔ اس زمانے میں مشہور ناول اور افسانہ نگار قرة العین حیدر بھی اس سے وابستہ تھیں اور ایم جے اکبر اپنی مستقبل کی کامیاب صحافت کی ٹریننگ لے رہے تھے۔ فاطمہ آپا بمبئی کے کرافرڈ مارکیٹ میں مقیم ایک متوسط میمن گھرانے میں پیدا ہوئیں لیکن انہوں نے تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کیں اور ہندوستان کے باہر بھی ییل (Yale) یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد میں صحافت کے پیشے سے ایسی وابستہ ہوئیں کہ انہوں نے انگریزی صحافت میں اپنے لیے وہ جگہ بنائی جو کوئی دوسری مسلم خاتون آزاد ہندوستان میں حاصل نہ کر پائی اور یہ جگہ انہوں نے اپنے لیے بھی بنائی اور کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ان کے اپنے بھائی رشید طالب بھی ہندوستان ٹائمس سے وابستہ رہے۔ فاطمہ آپا کا وصف یہ نہیں تھا کہ وہ مشہور سیاست داں مہاراشٹرا کے ریاستی وزیر، راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر، مصنف، اسلامی دانشور، ادارہ ساز ڈاکٹر رفیق زکریا کی بیوی تھیں بلکہ انہوں نے اپنے بَل بوتے پر اپنے دم خم سے کام لیتے ہوئے، اپنے قلم کی طاقت پر اپنی پہچان بنائی۔ وہ ایسی اکیلی خاتون تھیں جنہوں نے ٹائمس آف انڈیا اور ہوٹل تاج محل کی میگزین کی مدیر کے طو رپر شہرت پائی بلکہ ان کے لیے سب سے قابل صد افتخار بات یہ تھی کہ انہوں نے بین الاقوامی صحافت کو اپنے بیٹے فرید زکریا کی صورت میں عالمی صحافت کو گوہر نایاب دیا۔ فاطمہ آپا کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے مکالمات فلاطوں بھی لکھے اور اپنی شخصیت کی شعلگی سے (فرید زکریا کے ) شرارِ افلاطوں کو بھی توڑا۔ فاطمہ آپا جن کے سیکولر ہونے میں کوئی شبہ نہیں کر سکتا لیکن انہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کے مشن کو اپنے شوہر کی طرح آگے بڑھایا۔ وہ مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں اور مہاراشٹرا کالج ممبئی کی صدر، آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی صدر نشین تھیں۔
ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں 2006 میں انہیں پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ مسلمانوں میں آزادی کے بعد ہندوستان میں جن خواتین نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ملک و ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا ان میں فاطمہ آپا بے مثال تھیں۔
آج وہ اپنی خواہش کے مطابق اورنگ آباد میں اپنے نامور شوہر ڈاکٹر رفیق زکریا کے پہلو میں آسودۂ خاک ہیں۔ ہماری خدائے بزرگ و برتر سے یہی دعا ہے کہ وہ ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے اور ان کے شوہر نے جو ادارے قائم کیے اور جنہیں فاطمہ آپا نے غیرمعمولی توسیع اور ترقی دی وہ اور زیادہ پھلے پھولیں۔ ڈاکٹر رفیق زکریا اور فاطمہ آپا اب جب دونوں نہیں رہے تو مجھے ذاتی طور پر ایک محرومی کا احساس ہوتا ہے۔
3 اپریل کیا قیامت کی گھڑی لائی جب پٹنہ میں دارالعلوم ندوة العلماء کے بانی مولانا محمد علی مونگیریؒ کی یادگار، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی مولانا منت اللہ رحمانیؒ کے جانشین، امارت شریعہ بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے امیر مولانا ولی رحمانیؒ اپنے رب سے جا ملے۔ ان کے انتقال کی خبر اتنی ناگہانی تھی کہ ہر طرف سکتہ چھا گیا۔ مولانا ولی رحمانیؒ ملی غیرت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ حق بات کہنے اور سچ بولنے میں انہیں جو ملکہ اور مہارت حاصل تھی وہ غیرمعمولی تھی۔ وہ ایک خانقاہ کے سربراہ تھے لیکن اس میں رہبانیت کا کوئی گزر نہیں تھا۔ وہ اگر ایک طرف دینی تعلیم میں جامعہ رحمانی کے رہنما تھے تو دوسری طرف انہوں نے رحمانی 30- کو قائم کرکے نئی نسل کو جدید تعلیم کے اعلی ترین معیار اور مزاج کے ہم آہنگ کیا اور اس میں انہیں غیرمعمولی کامیابیاں دلانے پر آمادہ کیا۔
مولانا ولی رحمانیؒ صرف ملی اور مذہبی معاملات میں ہی محض ترجمانی نہیں کرتے تھے بلکہ انہوں نے ملک اور خاص طور سے بہار کی سیاست کو بھی اپنی عملی سرگرمیوں سے بہرہ مند کیا وہ بہار لیجسلیٹیوکونسل کے کامیاب ڈپٹی چیئر مین بھی رہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مسلمانوں کو خاص طور سے مولانا ولی رحمانی جیسے مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے ان کا ہمارے بیچ میں سے اٹھ جانا وہ ناقابل تلافی نقصان ہے جس کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔
اردو زبان و ادب میں داغ اسکول کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ داغ اسکول میں بھی یوں تو پختہ گو، کہنہ مشق، اساتذۂ سخن کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی لیکن سیماب اکبرآبادی نے اسے جو رنگ و آہنگ عطا کیا ، مطلع سخن پر جن نوواردانِ بساطِ شعر و ادب کو متعارف کرایا اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ رسالہ شاعر نے اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ سیماب صاحب کے صاحبزادے اعجاز صدیقی نے اس رسالے اور روایت کو نقل مکانی کے ذریعہ اکبرآباد سے بمبئی کیا پہنچایا کہ ایک نئی ادبی تاریخ رقم کر دی۔ سیماب صاحب اور اعجاز صاحب کے بعد ان کی تیسری نسل نے نہ صرف سیماب صاحب کی شعری روایت کو ایک نئی روایت کے طور پر پیش کیا بلکہ خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے افتخار امام صدیقی کو جنہوں نے نہ صرف دبستان سیماب کی روایت کو مشاعروں میں آگے بڑھایا بلکہ رسالہ ماہنامہ شاعر کے ذریعے ہماری شعری روایت سے جو لوگ جڑے ان کی تعریف اور تعارف کو شاعر کے ذریعے دور دور تک پہنچا دیا۔ ہمیں معلوم ہے کچھ لوگوں نے اس پر ناک بھونہہ چڑھائے لیکن وہ لوگ یہ بھول گئے کہ ان نئے تخلیق کاروں کو ادبی حلقوں تک پہنچانا اور ان کا تعارف کرانا بھی ایک بڑا کام ہے۔ ساتھ ہی ایک تاریخی ادبی جریدے کو مرنے نہ دینا قم باذنی کہہ کر ہمیشہ زندہ رکھنا کسی امام کے لیے ہی افتخار کا سبب ہو سکتا ہے۔
آج جب افتخار امام ہمارے بیچ میں نہیں رہے ہیں تو یہ ایک نہیں تین نسلوں سے اردو والوں کی محرومی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ افتخار امام صدیقی کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے ادب وشعر دوست بھائیوں کو اپنی خاندانی روایت کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
ابھی یہ کالم پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک پروفیسر ریاض پنجابی کے انتقال کی خبر ملی اور وہ بھی اخبار سے۔ ریاض پنجابی غیرمعمولی خوبیوں سے عبارت شخصیت کا نام تھا۔ وہ علی گڑھ کے زمانے سے مجھ سے محبت کرتے تھے۔ وہ قانون، انسانی حقوق، فاصلاتی تعلیم، بین الاقوامی اموراور قیام امن سے متعلق امور پر عالمی شہرت رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ مجھے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ کشمیر یونیورسٹی ہو یا جامعہ ملیہ اسلامیہ اس میں ہمارا ان کا ساتھ رہا۔ وہ انگریزی، اردو اور کشمیری میں غیرمعمولی مہارت والے لوگوں میں گنے جاتے تھے۔ ان کی بیگم ترنم ریاض ایک اچھی شاعرہ، کہانی کار اور سماجی طور پر سرگرم شخصیت ہیں۔ پروفیسر ریاض پنجابی نے بھی شروع میں افسانے لکھے اور خوب داد پائی۔ ان کی موت پر مختلف حلقوں میں جو تاثر پایا گیا اس میں فاروق عبداللہ ہوں یا عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی ہوں یا ہندوستانی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے شری اے ایس دُلت سب ایک طرح سے رنجور اور افسوس کرتے نظر آ رہے ہیں۔ میرے لیے وہ ایک بڑے بھائی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی بیوی مجھے ہمیشہ اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی تھیں۔ خدا ریاض پنجابی کی سیات کو حسنات میں بدل دے اور ترنم بھابھی اور ان کے دونوں بیٹوں کو حوصلہ اور ہمت دے۔
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *