ماہ رمضان میں مقصدِ روزہ (تقوی) کے حصول پر بھی نظر رہے

ماہ رمضان میں مقصدِ روزہ (تقوی) کے حصول پر بھی نظر رہے

اظہارالحق قاسمی بستوی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ جنت کو سجا سنوار کر اس کے دروازوں کو کھولنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ جہنم کے دروازوں کو بند کرنے کے لیے فرشتے تیار بیٹھے ہیں۔ شیطان اور اس کے ہرکاروں کو قید کرنے کے لیے زنجیریں کھولی جا چکی ہیں۔ دنیا پر اللہ کی رحمت کی چادر تننے والی ہے۔ دوسری طرف ایمان والوں کے دلوں میں اطاعت و عبادت کی باد بہاری چلنے لگی ہے۔ وہ کمر کس کے رمضان المبارک کی آمد کے انتظار میں پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اللہ کی رحمت کے طلب گاروں کی امید برآنے کو ہے۔ اہل اللہ کے مصلے بچھ چکے ہیں اور قرآن پاک رحلوں پر رکھے جاچکے ہیں۔ حفاظ کرام کا قرآن پاک سے خاص شغل شروع ہو چکا ہے۔ علماء کرام رمضان میں قرآن پاک کے دروس کے حلقوں کے حوالے سے اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں۔ فاسقوں اور فاجروں کے دل رمضان کی آمد کے رعب سے پھٹے جا رہے ہیں اور گھبراہٹ ان کے چہروں سے آشکارا ہے۔
رمضان المبارک اللہ رب العزت کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں یہ مہینہ دیا ہے تاکہ ہم اپنی عبادت و ریاضت کے بدلے میں اپنے رب کو پاسکیں کہ روزہ انھیں کے لیے رکھا جاتا ہے اور وہ ہی ان روزوں کا بدلہ ہیں۔ اللہ نے ہمیں اپنا یہ مہینہ دیا تاکہ ہم کم وقت میں زیادہ ثواب کما سکیں۔ سال بھر کی کمیوں کوتاہیوں کی تلافی کرسکیں۔ اپنے ظاہر وباطن کی اصلاح و تدریب کرسکیں۔ سوال یہ ہے کہ ظاہر وباطن کی تدریب کی کیاشکل ہو؟ ہم اپنے نفس کی تہذیب کیسے کریں؟ اپنا روحانی لیول کیسے بلند کریں؟ تو اس کاذریعہ ہے تقوی ۔ اگر ہم رمضان میں تقوی کا حصول کرلیں تو مذکورہ ساری چیزیں حاصل ہوجائیں گی ان شاءاللہ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے روزے کا مقصد تقوے کا حصول قرار دیا ہے۔ رمضان تقوی اور روحانیت کو پیداکرنے کا سب سے بہترین موقع اور مہینہ ہے۔ روزہ رکھنے سے نفس کا زور ٹوٹ جاتاہے اور سرکش شیاطین من جانب اللہ قید کردیے جاتے ہیں؛ لہذا اگر کوئی باہمت شخص اس مہینے میں تقوی اور روحانیت سے اپنے قلب و دماغ کو سرشار کرنا چاہے تو اس کے لیے دیگر مہینوں کے مقابلے میں نہایت آسان ہے۔
پھر جاننا چاہیے کہ تقویٰ ہے کیا چیز؟ تو بہت سے لوگ اس کی تعریف اللہ تعالی کا خوف اور اس کے ڈر سے کرتے ہیں جو کہ درست ہے مگراس کی سب سے عام فہم ودل گیر تشریح وہ ہے میرے شیخ و مرشد حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن صاحب دامت برکاتہم کرتے ہیں کہ: تقوی، اللہ کی عظمت ورعب کے احساس کے ساتھ ہرگناہ سے رک جانے اور ہراچھائی کے اختیار کرنے کا نام ہے۔ اس کی مثال وہ یوں دیا کرتے ہیں کہ جیسے باپ جب اپنے بڑے اور صاحب اولاد بچوں سے کہتاہے کہ بیٹا فلاں کام کرلو۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اگر نہیں کرو گے تو مار کھاؤ گے بل کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ جو کہ میرا محسن ہے اور جسم و روح کا ہر حصہ اس کا ممنونِ کرم ہے میں اس کا حکم کیسے نہ مانوں؟ یہی حال تقوی کا ہےکہ بندے کے دل میں اللہ کی عظمت وجلالت کا ایسا احساس جاگزیں ہوجائے کہ اس کے اندر معمولی گناہ کی بھی جرأت نہ رہے اور معمولی ثواب بھی وہ نہ چھوڑے یہ سوچتے ہوئے کہ میں اپنے کریم ومحسن رب کی مرضی کے خلاف کوئی معمولی کام بھی کیسے کرسکتا ہوں۔
رمضان میں تقوی کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل کچھ کام کرنے چاہئیں:
1۔ رمضان المبارک کا نظام الاوقات بنانا چاہیے۔ ہماری زندگی کے لمحات جو بلاوجہ ضائع ہوجاتے ہیں ان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارا کوئی نظام الاوقات نہیں رہتا نہ رمضان میں اور نہ غیر رمضان میں۔ اس لیے ہمیں رمضان میں اپنا نظام الاوقات ضرور بنانا چاہیے۔ اگر رمضان میں نظام بن گیا اور بہتر طریقے سے چل گیا تو ان شاء اللہ سال کے دیگر ایام میں بھی ہم نظام الاوقات پر چل سکیں گے ؛ رمضان کی یہ برکت ہے کہ اگر رمضان اچھا گزرا تو سال بھر اچھا گزرے گا ان شاء اللہ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی کا نظام الاوقات بناکر رکھتے اور پھر اس کے حساب سے چلتے ہیں۔
2۔ روزہ پوری دلچسپی اور شوق و ذوق سے رکھنا چاہیے۔ بوجھ سمجھ کر اور وقت گزاری کی نیت سے نہیں رکھنا چاہیے بل کہ یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ میرے رب کا حکم ہے اور میرا رب میرے ساتھ نہایت شفیق ہے۔ اگر بھوکا رہنے کا حکم اس کا ہے تو اس پر تو جان بھی نثار ہے چند لمحے کی بھوک کی کیا اوقات! اسی طرح قیام لیل ( تراویح) میں بھی بھر پور شوق وذوق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہوئے یہ دونوں کام نہایت آسان اور دلچسپی و سرشاری سے بھرپور و معمور ہوجاتے ہیں۔
3۔ حفاظ کو چاہیے کہ وہ قرآن پاک اللہ تعالی کو سنانے کی نیت سے تراویح میں سنائیں اور ضرور سنائیں۔ ہم لوگ چوں کہ عوام کو سنانے کی نیت سے سناتے ہیں اس لیے جیسا تیسا مارتے ہیں۔ اگر اللہ تعالی کو سنانے کی نیت سے سنائیں تو ہم ضرور کسی قدر درست سنائیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کے خوف سے گڑبڑ سڑبڑ نہیں سنائیں گے۔ موجودہ کوویڈ کے عہد میں بہت سے حفاظ اپنے گھروں میں انفرادی یا اجتماعی تراویح پڑھیں اور پڑھائیں گے ۔ یہ خاص موقع ہے جب ہم صرف اللہ کو سنانے کی نیت سے تراویح سنائیں۔ یقین مانیے کہ اللہ کو سنانے کی نیت سے جب آپ کھڑے ہوں گے تو بہت مزہ آئے گا اور آپ کو محسوس ہوگا کہ اللہ تعالی سامنے سے سن رہے ہیں اور آپ کی آنکھیں اشک آلود ہیں اور دل میں کلام الہی گویا اتررہا ہے اور آپ محبت خداوندی میں نہال ہو رہے ہیں۔ غیر حفاظ بھی روزانہ کم ازکم تین پارے کی تلاوت کا معمول بنائیں۔
4۔روزانہ اطمینان سے کچھ رکعتیں تہجد کی پڑھنے کا اہتمام کیا جائے۔ تہجد کا بھی تقوی کے حصول میں خاص کردار ہے۔ کچھ ہاتھ نہیں آیا بے آہ سحرگاہی کا مصرعہ ہمیں ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ کوشش ہوکہ اشراق وچاشت واوابین کا بھی اہتمام ہوجائے مگر تہجد کا تو خاص اہتمام ہونا چاہیے۔ رمضان میں تہجد کا اہتمام نہایت آسان بھی ہےکہ عورت تو اٹھتی ہی ہے سحری بنانے کے لیے لہذا وہ وقفے وقفے سے دو دو رکعت پڑھ لے اور بیٹھ کر یا کھڑی ہو کر دعا مانگتی رہے۔ مردوں کو بھی بالآخر اٹھنا ہی ہے لہذا وہ پندرہ بیس منٹ پہلے اٹھ جائیں تو تہجد کو سکون سے ادا کر سکیں گے اور قلب کی نورانیت دو چند ہوتی محسوس ہو گی ان شاءاللہ۔ مسئلہ صرف تھوڑی ہمت کا ہے۔
5۔ ہر کبیرہ و صغیرہ گناہ سے بچنے کا اہتمام کیا جائے چاہے وہ لیڈی اینکرز کی خبر اور دیگرمختصر ویڈویوز ہی کیوں نہ ہوں۔ گھر میں اور ملنے جلنے والوں سے کسی غیر کا نہ کوئی ذکر ہو اور نہ لڑائی جھگڑے کا کوئی بازار گرم ہو۔ اس مہینے میں صبر و غمخواری سے کام لیا جائے۔ بھوکے رہیں گے اور منشیات سے رکیں گے تو تکلیف تو ہوگی ہی۔ یہی وقت ہے جب ہمیں صبر کرنا ہے۔ اس مہینے میں اپنے غریب رشتے داروں اور پڑوسیوں کا خیال اور ان کی غمخواری بھی کرنا ہے۔
6۔ رمضان میں بسیارخوری اور بسیار خفتگی سے گریز کیا جائے۔ ہوتایہ ہے کہ ہم دن بھر بھوکا رہنے کے بعد افطار میں جب دسترخوان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو پھر دستر خوان اور پیٹ کی خیر نہیں رہتی۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں یہ سناہے کہ ان کا وزن رمضان میں کئی کلو بڑھ جاتاہے۔ ظاہر ہے جب پیٹ کو یوں اور بہت ساری مغذیات سے اس قدر پُر کیا جائے گا تو دن بھر کی پیدا شدہ روحانیت کا باقی رہنا بھی مشکل ہوگا کیوں کہ روحانیت کو شکم سیری سےقدرے بُعد ہے۔
رمضان میں وقت گزاری کے لیے سونا بھی محبوب مشغلہ ہوتاہے۔ بہت سے لوگ تو فجر سے ظہر تک اور پھر بعد ظہر بھی سونے کا معمول رکھتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس درمیان ہم گناہ سے بچے رہیں گے مگر کیا کچھ ثواب بھی حاصل کرپائیں گے؟ یہ بھی سوچنے کامقام ہے۔ ایسا کرنے والے عموما رات بھر جاگتے ہیں۔ تھوڑی دیر عبادت کرتے ہیں اور پوری رات فالتوکاموں کی نذر کردیتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ رات میں تراویح کے بعد بھی تھوڑا آرام کریں اور بعد فجر بھی چند گھنٹے حسب تقاضا آرام کرلیں۔
7۔ سوشل میڈیا سے بھی حتی الامکان دوری رکھی جائے۔ بے جا گروپ بازیوں سے بچیں۔ اگر کام نہ چلے تو دس بیس منٹ سے زیادہ ان چیزوں میں نہ لگیں۔ اسی طرح دن بھر نہ لگے رہیں بل کہ کوئی خاص وقت مثلاً تراویح کے بعد کا مقرر کرلیں تاکہ ادھر سے بھی ذہن یکسو رہے اور عبادت میں دل لگے۔

8۔ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت تدبر قرآن کے لیے بھی نکالنا چاہیے۔ ہماری زندگیوں کے بدلنے کا جو نسخۂ اکسیر ہے وہ قرآن ہی ہے۔ اگرقرآن کو سمجھا نہ جائے تو ثواب تو مل جائے گا مگر قرآن کا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے تھوڑا وقت فہم و تدبر قرآن کے لیے بھی فارغ کیا جائے چاہے ایک رکوع ہی سہی۔

9۔ آخری عشرے میں اعتکاف کی بھی منصوبہ بندی کی جائے۔ اعتکاف ایک ایسی سنت ہے جس پر حضور ﷺ نے مواظبت فرمائی ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ اعتکاف کرنے سے شب قدر کا حصول بھی آسان ہوجاتاہے جو اہل تقوی وخشیت کے لیے شب زفاف سے بھی زیادہ عزیز تر ہوتی ہے۔

اگر یہ چند کام کرلیے جائیں جس کے لیے بس تھوڑی سی ہمت اور توجہ درکار ہے تو قوی امید ہے کہ ہم رمضان کے مقصد یعنی تقوے کے حصول میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر ہم تقوی حاصل کرلیں تو سمجھ لیں کہ ہم نے بہت بڑا تیر مار لیا ہے کیوں کہ ہم اللہ کے یہاں صرف پاسنگ نمبرات والے نہیں بل کہ پوزیشن ہولڈر ہو جائیں گے اور سب جانتے ہیں کہ پوزیشن ہولڈر کو خوب داد ودہش سے نوازا جاتاہے۔ پورا قرآن متقیوں کے لیے خوش خبریوں اور دادودہش کے اعلانوں سے بھرا پڑا ہے ۔ اے کاش ہم حوصلہ کرتے اور تقوی کو حاصل کر پاتے!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *