اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم سے باز آئے: عرب پارلیمنٹ

اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم سے باز آئے: عرب پارلیمنٹ

بیروت: عرب پارلیمانی یونین نے مقبوضہ  بیت المقدس میں قا بض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کے ذریعہ  اہالیان القدس کے خلاف شروع کیے گئے حملوں ، نسلی صفائی کے منصوبوں  اور جبرو تشدد کے دیگر ہتھکنڈوں پر مسلسل عمل درآمد اور القدس کے شہریوں کو ان کے  گھروں اور محلوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کی مذمت کی ہے۔
کل منگل کو بیروت میں منعقد ہونے والی عرب پارلیمنٹ اجلاس کے بعد جاری ایک بیان میں  پارلیمنٹ  نے “انسانی حقوق کی تنظیموں، قومی پارلیمنٹس اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں سے وابستہ بین الاقوامی تنظیموں سے  اسرائیل پر دباؤ ڈالنے ، قانونی احتساب کے اصول کو فعال کرنے  اور اس قابض ریاست اور اس کے آباد کاروں  کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کےہمارے فلسطینی بھائیوں کو جبروتشدد کے ذریعے اپنے گھر بار چھوڑنے پرمجبور کررہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ریاست بیت المقدس کی آئینی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے یہودی آباد کاروں کا فلسطینی آبادی پر غلبہ اور تسلم قائم کرنا چاہتی ہے۔
بیان میں‌کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو ضروری تحفظ فراہم کرنے پر مجبور کرنا ، یروشلم اور اس کے عرب کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مقصد سے تمام نوآبادیاتی منصوبوں کے فوری خاتمے، فلسطینی ، اسلامی اور عیسائی شناخت جیسا کہ چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں ، خاص طور پر سن 2016 کی قرارداد (2334) ، اور جنرل اسمبلی کی قرارداد اقوام متحدہ کی ES-10 / L.23 2018  پرعمل درآمد کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالا جائے۔
عرب پارلیمانی یونین نے بین الاقوامی برادری ، سلامتی کونسل اور دنیا کے تمام آزاد ضمیر انسانوں  سے مطالبہ کیا ہے کہ و ہ اسرائیلی قابض ریاست کے فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے آواز بلند کریں۔
خیال رہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ’ نے فلسطینیوں کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *