اسرائیل: یہودیوں کے مذہبی مقام پر بھگدڑ، 44 افراد ہلاک، متعدد زخمی

اسرائیل: یہودیوں کے مذہبی مقام پر بھگدڑ، 44 افراد ہلاک، متعدد زخمی

اسرائیل میں بھگدڑ مچنے سے 44 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھگدڑ مچنے کا واقعہ شمالی اسرائیل میں یہودوں کے ایک مذہبی مقام ماؤنٹ میرون پر پیش آیا

تل ابیب: اسرائیل میں بھگدڑ مچنے سے 44 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھگدڑ مچنے کا واقعہ شمالی اسرائیل میں یہودوں کے ایک مذہبی مقام ماؤنٹ میرون پر پیش آیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھگدڑ مچنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہودیوں کی بڑی تعداد اسرائیل کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی عوامی اجتماع میں شریک تھے۔

رپورٹ کے مطابق واقعے میں کم از کم 44 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، واقعے میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بھگدڑ مچنے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس واقعہ کو عظیم آفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی بہتری کے لئے دعا کر رہے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ماؤنٹ میرون میں اسٹیڈیم کی سیٹیں ٹوٹ کر گر پڑیں، جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ حالات اتنے سنگین تھے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لئے چھ ہیلی کاپٹروں کو طلب کرنا پڑے۔

کورونا وبا کی شروعات کے بعد ماؤنٹ میرون پر منعقد ہونے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی تقریب تھی۔ وائرس کے خطرے کے باوجود اس تہوار میں شالم ہونے کے لئے دس ہزار سے زائد افراد یہاں جمع ہوئے۔ بھگدڑ کی اطلاع موصول ہونے کے ساتھ ہی جائے وقوعہ پر درجنوں ایمبولنس اور ایمرجنسی گاڑیاں پہنچ گئیں۔ راحتی ٹیم نے زمین پر پڑی لاشوں کو اٹھایا اور گاڑیوں میں بھر کر اسپتال کے لئے روانہ کیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر موجود تمام لوگوں سے اس جگہ کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *