حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ ایک نظر میں

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ ایک نظر میں

ترتیب : عمرفاروق قاسمی

مکمل نام : نور عالم خلیل امینی
والد کا نام حافظ خلیل احمد
والدہ کا نام : سُلیمہ خاتون
کنیت :ابو اسامہ نور
امینی مدرسہ امینیہ دہلی کی طرف نسبت ہے
تاریخ پیدائش: ۱۸ دسمبر ۱۹۵۲ء مطابق یکم ربیع الآخر ۱۳۸۲ھ یاد رہے کہ عربی تاریخ پیدائش مولانا نے بذریعہ فون راقم الحروف کو لکھوایا تھا اور کہا تھا کہ کتابوں میں عربی تاریخ صحیح نہیں ہے ۔
وطن اصلی: (ددھیال) رائیپور (RAIPUR) حال ضلع سیتامڑھی سابق ضلع مظفر پور بہار۔
جائے پیدائش : ننھیال ہرپور بیشی (HARPUR BESHI) ضلع مظفر پور بہار
دادا کا نام :رشید احمد بن محمد فاضل بن کرامت علی صدیقی
نانا کا نام : بابو جان بن محمد نتھو بن محمد یار علی صدیقی۔ لائق ذکر ہے کہ مولانا کے بقول مولانا کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے، البتہ اس کا کوئی تحریری ثبوت ابھی تک راقم الحروف کو دستیاب نہیں ہوسکا ۔
یتیمی :جب آپ تین ماہ کے تھے تو والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، اس وقت مولانا کی ماں صرف انیس سال کی تھیں، والدہ محترمہ کی دوسری شادی محی الدین بن محمد نتھو سے ہوئی جو مولانا کے چچیرے ماموں بھی تھے ۔مئی ۱۹۶۷ء میں ان کا بھی انتقال ہوگیا ۔ گویا آپ کی والدہ کم عمری ہی میں غالباً چونتیس سال کی عمر میں دو مرتبہ بیوہ ہوگئیں۔
پردادا کی زندگی میں ہی دادا کا انتقال ہوگیا تھا اس لیے شرعی طور پر محجوب ہوگئے تھے، لہذا غربت و افلاس ان کی طالب علمانہ زندگی کا مقدر بنی ۔
دادی کا نام : مقیمہ خاتون والد کے انتقال اور شیرخوارگی کے بعد ابتدائی پرورش و پرداخت انہی کے زیر نگرانی ہوئی، دادی کے انتقال کے بعد بقیہ پرورش والدہ محترمہ نے کی۔
تعلیم و تربیت :قاعدہ بغدادی کی شروعات نانا جان سے کی، اس کے بعد رائے پور میں مولوی ابراہیم عرف مولوی ٹھگن کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔
تعلیم کے دگر مراکز :مدرسہ نور الہدی پوکھریرا، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ ،دارالعلوم مؤ ، دارالعلوم دیوبند، مدرسہ امینیہ دہلی ۔ مدرسہ امدادیہ میں داخلہ :غالباً محرم ۱۳۸۰ھ مطابق جون ۱۹۶۰ء درجہ حفظ ، سات پارے حفظ کے بعد ۱۳۸۱ھ مطابق ۱۹۶۱ء میں درجہ ششم اردو میں ۔
دارالعلوم مؤ میں داخلہ ۱۹۶۴ء مطابق ۱۳۸۳ھ درجہ عربی اول
دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ۱۶؍ شوال ۱۳۸۷ ھ مطابق ۲۰؍ دسمبر ۱۹۶۷ ء
آپ کے اساتذہ : (رائے پور کے مکتب میں) مولوی ابراہیم عرف مولوی ٹھگن
(مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں) مولانا اویس رائے پوری، مولانا تسلیم قاسمی سدھولوی
(دارالعلوم مؤ میں) مولانا ریاست علی بحری آبادی ، مولانا امین صاحب ادروی ، مولانا شیخ محمد مئوی ، مولانا نذیر احمد مئوی، مولانا نیاز احمد خیرآبادی، مولانا سلطان احمد، مولانا ریاض الحق، مولانا عبدالحق اعظمی شیخ ثانی دارالعلوم دیوبند، قاری محمد یاسین صاحب، مولانا محمد اسلام الدین مئوی۔
(دارالعلوم دیوبند میں) مولانا وحید الزماں کیرانوی، مولانا محمد حسین بہاری، مولانا معراج الحق، مولانا نصیر احمد خان صاحب، مولانا فخر الحسن مرادآبادی، مولانا شریف الحسن صاحب ، مولانا قمرالدین گورکھپوری مدظلہ، مولانا خورشید احمد دیوبندی، مولانا حامد میاں صاحب، مولانا بہاءالحسن مرادآبادی ۔
(مدرسہ امینییہ دہلی) میں مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی
تدریسی خدمات کے مراکز: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تقریباً دس سال جون ۱۹۷۲ء سے ۱۹۸۲ء تک، دارالعلوم دیوبند میں تقریباً انتالیس سال ۱۹۸۲ سے تاحال ۔
تصنیفات بزبان اردو :
” وہ کوہ کن کی بات”… ، پس مرگ زندہ ،رفتگان نارفتہ،( زیر طبع) فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں، صحابہ رسول اسلام کی نظر میں، کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟، عالم اسلام کے خلاف صلیبی صہیونی جنگ… حقائق اور دلائل، حرف شیریں، خط رقعہ کیسے لکھیں.
تصنیفات بزبان عربی :
مجتمعاتناالمعاصرہ والطریق الی الاسلام، المسلمون فی الہند، الدعوہ الاسلامیہ بین الامس والیوم، مفتاح العربیہ، دوجلدیں، العالم الھندی الفرید :الشیخ المقری محمد طیب، فلسطین فی انتظار صلاح الدین، الصحابۃ ومکانتہم فی الاسلام، من وحی الخاطر پانچ جلدوں میں اشراقہ کا مجوعہ ۔
تراجم اردو سے عربی : تقریباً پچیس کتابوں کا اردو سے انہوں نے عربی زبان میں ترجمہ کیا ہے جس میں سے مشہور یہ کتابیں ہیں :
۱ ۔ عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح (مولانا سید ابوالحسن الندوی) التفسیر السیاسی للاسلام فی مرآۃ کتابات الاستاد ابی الاعلی المودودی والشھید سید قطب
۲ ۔ پاکستانیوں سے صاف صاف باتیں (مولانا سید ابو الحسن علی ندوی) احادیث صریحۃ فی باکستان
۳ ۔ مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت (مولانا سید ابو الحسن علی ندوی) الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد الیاس الکاندھلوی

۴ ۔ حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق (مفتی تقی عثمانی) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فی ضوء الوثائق الاسلامیہ
۵ ۔ عیسائیت کیا ہے؟ ماھی النصرانیہ (مفتی تقی عثمانی)
۶ ۔ علمائے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج (حکیم الاسلام قاری محمد طیب) علماء دیوبند واتجاھم الدینی و مزاجھم المذہبی
۷ ۔ من الظلمات الی النور (کرشن لال) ماساۃ شاب ھندوسی اعتنق الاسلام
۸ ۔ ہندوستان کی تعلیمی حالت انگریزی سامراج سے پہلے اور اس کی آمد کے بعد (مولانا حسین احمد مدنی) الحالۃ التعلیمیہ فی الھند فیما قبل عھد الاستعمار الانجلیزی وفیما بعدہ
۹ ۔ ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت (مولانا منظور احمد نعمانی) الثورۃ الایرانیہ فی ضوء الاسلام
۱۰ ۔ بر صغیر میں شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے خلاف پروپیگنڈے کے علمائے حق پر اثرات (مولانا منظور احمد نعمانی) دعایات مکثفۃ ضد الشیخ محمد بن عبد الوھاب النجدی
١٢ دعوت اسلامی مسائل و مشکلات (مولانا امین احسن اصلاحی) الدعوۃ الاسلامیہ قضا یا و مشکلات
١٣ مقالات حکمت، ومجادلات معدلت (حکیم الاسلام حضرت مولانا اشرف علی تھانوی) لآلی منثورۃ فی التعبرات الحکیمہ عن قضایا الدین و الاخلاق والاجتماع
١٤ اشتراکیت اور اسلام (ڈاکٹر خورشید احمد) الاشتراکیۃ والاسلام( مولانا سعید الرحمن ندوی کے ساتھ)
١٥ حضرت مدنی کے مختلف مضامین کا ترجمہ. بحوث فی الدعوۃ والفکر الاسلامی
مضامین و مقالات : ہندوستان و پاکستان و مختلف عربی ممالک سے شائع ہونے والے اردو عربی رسائل میں تقریباً پانچ سو مضامین و مقالات شائع ہوئے.
پسماندگان :اہلیہ کے علاوہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے۔
اعزاز :عربی زبان کی خدمات کے عوض آپ کو صدرِ جمہوریہ ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔

رابطہ: 9525755126

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *