دلوں پر حکم رانی کرنے والے مولانا! 

دلوں پر حکم رانی کرنے والے مولانا! 

ثاقب سبحانی

کئی دنوں سے مسلسل یہ خبر ملتی رہی کہ درالعلوم دیوبند کے موقر استاذ، عربی میگزین ” الداعی” کے مدیر اعلی، اردو وعربی کے درجنوں کتابوں کے مصنف ومترجم، صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ مولانا نور عالم خلیل امینی رہینِ فراش ہیں اور میرٹھ کے ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں. پھر معلوم ہوا کہ آپ رو بصحت ہورہے ہیں، پھر بمشکل ایک دن بھی نہیں ہوا ہوگا کہ یہ خبر اندوہناک سننے کو ملی کہ عربی و اردو کے شستہ ادیب، حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنے والے، عالمی مسائل وقضايا سے دلچسپی اور کھل کر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے، اردو وعربی ادب کے نور کا “عالمی امین ” ” پس مرگ زندہ” ہستیوں میں شامل ہوگیا۔

کون جینے کے لیے مرتا رہے

لو سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے

اختر سعید خان

 آپ کی وفات کی خبر کسی صدمے سے کم نہیں ، الفاظ تعزیت کا لبادہ اوڑھنے سے قاصر ہیں. دل خون کے آنسو رو رہا ہے.طبیعت بوجھل سی ہوگئی ہے. زندگی کی ساری چاشنی یک لمحے میں کرواہٹ میں تبدیل ہوگئی ہے. ابھی بھی یقین نہیں ہو رہا ہے؛ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری اس دنیا سے نہیں گئے ہیں، کہیں سفر پر گئے؛ بس آنے والے ہی ہیں۔

اب نہیں لوٹ کے آنےوالا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

اختر نظمی

آپ کی وفات نے ہزاروں دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے آپ کے فیضان سے نہ جانے کیسے کیسے عزائم بیدار ہوئے اور کتنے ولولے دل میں تڑپنے لگے.. آپ نے ہمارے خون کو جس خلوص جاں سوزی اور دل نوازی کے ساتھ رگوں میں دوڑنا سکھایا اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ آپ کی یاد میں خود ہماری آنکھوں سے خون بن کر ٹپک رہے ہیں. آپ کی وفات دارالعلوم دیوبند کے وابستگان اور فضلا کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری علمی و ادبی دنیا کے لیے اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ادب شناس حلقوں کی آنکھیں نہیں بلکہ دل رو رہے ہیں اور مدتوں تک روتے رہیں گے.

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

محمود رامپوری

  آپ موضع “ہرپور بیشی” ضلع “مظفرپور” کے رہنے والے تھے. دار العلوم دیوبند اور مدرسہ امینیہ دہلی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلما میں ایک دہائی تک تدریسی خدمات انجام دیں پھر اپنے استاذ مولانا وحید الزمان کیرانوی رح کی دعوت پر دیوبند تشریف لے آئے اور یہاں 1982 سے 2021 تک تا حیات عربی زبان وادب کے استاذ اور عربی مجلہ الداعی کے رئیس التحرير رہے. اس دوران انہوں نے ہزارہا طالبان علوم دینیہ کی علمی وادبی تشنگی بجھائی. وہ جتنے عربی زبان کے باکمال اور کہنہ مشق ادیب تھے اتنے ہی اردو زبان کے باکمال انشا پرداز بھی. بیانِ مطلب کے لیے اردو وعربی کے الفاظ کے ذخیرے اور تمثیلات و کنایات آپ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے تھے؛ جب چاہا، جسے چاہا، جیسے چاہا، استعمال میں لے آتے؛ اور وہ زبان وادب کی نوک پلک کو محبوب کے پر پیچ وخم دار زلفوں کی طرح اس طرح سنوارتے کہ قاری عش عش کرنے لگتا اور آپ کے ان الفاظوں میں کھو کر رہ جاتا. زبان کی شگفتگی، انداز بیان کی برجستگی و بے ساختگی پڑھنے والے کو ان کا اسیر بنا دیتی. آپ کا اسلوب اس قدر دل چسپ، عبارتیں ادب کی چاشنی اور فکر واحساس کی روشنی میں اس قدر ڈوبی ہوتی کہ ایک بار اگر قاری کتاب کو ہاتھ میں لیتا تو پھر ختم کرکے ہی رکھتا. آپ نے عربی و اردو زبان میں ادب، سیرت و سوانح، تاریخ، اور دیگر موضوعات پر بیسیوں کتابیں لکھیں. اردو سے عربی میں تقریبا تین درجن کتابوں کا ترجمہ کیا. 200 سے زائد مقالات کا عربی ترجمہ کیا. اور علمی فکری، دعوتی، لسانی، اجتماعی، سوانحی موضوعات اور مختلف ملی مسائل پر اردو اور عربی زبان میں 500 سے زائد مضامین لکھے. اور اپ نے ہند، کویت، مصر، عرب امارات، قطر سعودی عرب میں منعقد ہونے والی دسیوں کانفرنس میں شرکت کی اور شیرینی گفتار، رعنائیِ خیال اور چشم کشا معانی و مضامین کے ذریعے سامعین کے دل ودماغ پر چھا گئے.

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

مولانا کو میں نے کافی قریب سے دیکھا ہے اس لیے بہت سی یادیں آج اچانک ذہن میں گردش کرنے لگی ہیں اس لیے سوچا کہ آپ لوگوں کے ساتھ شیر کردوں. شاید کچھ غم غلط ہو سکے اور طبیعت میں کچھ آسودگی ہو.

آپ میرے قریبی اور بیحد مشفق استاذ تھے. یوں تو آپ سے سب سے پہلے شناسائی آپ کی کتاب مفتاح العربیہ سے ہوئی جب میں مدرسہ تحفیظ القرآن میں درجہ اول کا طالب علم تھا پھر اسی سال کسی کام سے پٹنہ آنا ہوا تو اپنے شاگرد مولانا قمر نسیم صاحب کے اصرار پر ہمارے مدرسے میں بھی حاضری دی. اور سارے طلبہ سے مصافحہ کیا. پھر میں جب دیوبند آیا سال چہارم میں غالباً 2011 2012 میں تو آپ کو قدرے تفصیل سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا. لیکن آمدو رفت زیادہ نہیں رہی. پھر جب میں تکمیل ادب میں داخل ہوا تو قربت اور لگاؤ حد سے زیادہ ہوگیا. اور جو قربت ہوئی وہ آج تک باقی رہی.

حضرت الاستاذ نشست و برخاست اور لباس و پوشاک کے تعلق سے خاصے نستعلیق اور نفاست پسند تھے. بودو باش، رہن سہن یہاں تک کہ اشیاء کی خریدو فروخت میں بھی حد درجہ شایستگی کا خیال رکھتے تھے. اور جو آپ کے ساتھ رہتے آپ بھی انہیں اپنے رنگ ڈھنگ میں ڈالنے کی پوری کوشش کرتے. مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار انہوں نے مجھے بازار سے کیلے لانے کے لیے کہا اور مجھے پیسے دیے. میں پیسے لے کر جب چلنے لگا تو مجھے آواز دی اور کہا کہ بیٹے آپ کو پتہ ہے ہمارے یہاں کیلے کیسے خریدے جاتے ہیں، میں خاموش رہا تو خود ہی فرمانے لگے کہ بیٹے جب آپ کیلے خریدیں تو آپ کیلے کو بظاہر خوش نما دیکھ کر نا لیں. اوپر سے دیکھنے کے بعد کیلے کے نچلے حصے کو بھی دیکھیں. پھر خریدیں.. میں پیسے لے کر زینے سے اترنے لگا اور من ہی من میں کہنے لگا کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ جب کیلے بظاہر خوش نما ہوں گے تو اچھے ہی ہوں گے. جب میں کیلا فروش کے پاس پہنچا اور سب سے عمدہ کیلے کو اٹھایا اور پھر اس کے نچلے حصے کو دیکھا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نا رہی واقعی اس میں سے دو تین کیلے کے نچلے حصے ٹھیلے پر کھڑے رکھنے کے سبب دب گئے تھے. یہ منظر دیکھ کر دل ہی دل میں بے شمار دعائیں آپ کے لیے نکلنے لگی اور آج جب بھی کیلا خریدتا ہوں تو حضرت کا بتایا ہوا طریقہ خود بخود یاد آنے لگتا اور بے شمار دعائیں نکلتی ہیں.. “رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ”

آپ عبارت خوانی پر خوب زور دیتے اور کہتے کہ کم از کم بیس مرتبہ اگلی عبارت پڑھ کر آیا کرو پھر طلبہ جب عبارت پڑھتے تو بآواز بلند پڑھواتے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھواتے. مہینہ دو مہینہ ان کے سامنے عبارت پڑھ لینے کے بعد طلبہ کو اتنا کانفیڈینس آجاتا کہ اسے لگتا کہ اب کہیں بھی عبارت پڑھوالی جائی، کوئی جھجک اور ہیزیٹیشن نہیں ہوگا اور دوران درس اپنے تفریحی جملوں سے ہمیشہ کلاس کو زعفران بنائے رکھتے. آپ کا ہر جملہ اور آپ کی ہر تعبیر دس بارہ مدرسہ قائم کرنے کی اردگرد گھومتی رہتی اور اتنی خوش اسلوبی و سادگی کے ساتھ مشکل سے مشکل تعبیر کو ذہن میں پیوست کردیتے کہ پتا بھی نہیں چلتا. آپ بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے وہ مجھ سے اکثر کہتے: “رے چھورا جب تو دو چار مدرسے کا مہتمم بنبھی ہی تو ہمرے بھول جیبھی ہی نا”(جب تم دو چار مدرسے کے مہتمم بنوگے تو تم ہم کو بھول جاؤگے نا) (مجھے وہ یک گونہ تعلق کی وجہ سے عموما بیٹا یا تفریحا چھورا بولتے تھے) میں کہتا کیسی بات کررہے ہیں آپ کو کیسے بھول جائیں گے. وہ بولتے ہمرے پتہ ہو تو بھول جیبھی ہی …. میں مسکرادیتا ….

مولانا زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام کو نہایت قرینے سے انجام دیتے تھے اور زندگی سے جڑے ہر چھوٹے بڑے واقعات کو قلم زد کرتے تھے. ہفتہ دو ہفتے میں پابندی کے ساتھ وہ تمام خبریں ایک ڈائری میں لکھواتے تھے جن پر انہیں “الداعی” یا دیگر رسائل میں کچھ لکھنا ہوتا تھا اور عمدہ اشعار بھی نقل کراتے تھے اور کہتے کہ مضمون میں اس سے جان پڑجاتی ہے. یہی نہیں آپ گوشوارہ اخراجات کو بھی کاپی میں قلمبند کراتے. ایک بار میں ان سے کہنے لگا کہ حضرت اخبار کا تراشہ کاپی میں محفوظ کرنا سمجھ آتا ہے لیکن یہ مہینے کے اخراجات کو قلمبند کرنا ہضم نہیں ہورہا ہے، مسکراکر کہنے لگے کہ تورے 40 50 لاکھ ہے تو مجھے دیدے. لکھوانا چھوڑ دیں گے.. پھر کہنے لگے کہ اس سے آپ کے اخراجات کنٹرول میں رہتے ہیں. انبیلنس نہیں ہوتے ہیں اور فضول خرچی بھی نہیں ہوتی . تم ایک بار آزماکر دیکھو، تمہیں سمجھ میں آجائیں گی. اس وقت تو یہ چیزیں کلیر نہیں ہوئی؛ لیکن آج سمجھ میں آتا ہے کہ واقعی آپ کو اپنی سیلری پورے مہینے چلانی ہے تو اخراجات کو قلمبند کر کے دیکھیں.. ہمیشہ سیلری پلس ہی میں رہے گی مائنس میں نہیں ہوگی۔

مولانا کو یوں کسی کا اچانک ان کے یہاں آنا پسند نہیں تھا آپ کا اصول یہ تھا کہ اگر آپ کو ان سے ملنا ہے تو پیشگی اطلاع دیجیے. مولانا آپ کو ٹائم دیتے پھر آپ کے لیے ناشتے کا انتظام کرتے اور اس وقت میں وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ صرف آپ سے بات کرتے. حال احوال دریافت کرتے، حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے اور کبھی کبھی کچھ اشعار بھی سناتے، ہم چند طلبہ شروع میں جب آپ کے یہاں جاتے تو آپ سے وقت لیتے. وقت متعین ہونے کے بعد آپ ناشتے کا انتظام کرتے. ہم لوگوں کے لیے سب سے مشکل کام آپ کے سامنے چائے نوشی کرنے کا ہوتا؛ اس لیے کہ آپ کے یہاں چائے نوشی کے دوران ہونٹ سے چسکی لینے کی آواز نہیں سنی جانی چاہیے اور ہم لوگ ایسے عادی تھے کہ نا چاہتے ہوئے بھی آواز نکل ہی جاتی تھی. میں نے یہ حل نکالا کہ چائے جب ٹھنڈ ہونے لگتی تو میں چائے پینا شروع کرتا اور پھر کپ خالی کرکے ٹرے میں رکھ دیتا. ایک بار چائے نوشی کے دوران میرے ایک دوست نے بسکٹ چائے کے کپ میں ڈال کر چائے کا مزہ لینے لگے. مولانا نے نوٹس کیا. جب چائے کی مجلس ختم ہونے لگی تو فرمایا کہ بیٹے آپ نے جو یہ بسکٹ چائے کے کپ میں ڈالی، خدا نخواستہ اگر یہ بسکٹ کپ میں گر کر ٹوٹ جاتا تو ذہن پر کتنا ناخوشگوار اثر ڈالتا اور طبیعت میں کیسی کدورت آجاتی. آپ قدم قدم پر ہمیں زندگی گذارنے کے رہنما اصول سکھلاتے اور بتلاتے۔

راستے میں جب ہم طلبہ آپ کو چھوڑنے جاتے تو کبھی کبھی راستے پر گندگی ہوتی. تو گندگی دیکھ کر فرماتے مولی صاحب! گندگی اور نجاست کو دیکھ کر سچ مچ مر جانے کا جی چاہتا ہے. آپ یورپ اور گلف ممالک چلے جائیں، نہایت ہی صاف و شفاف سڑکیں ملیں گی. انہیں دیکھ کر ہی آپ جی اٹھیں گے. جب بھی طبیعت اداس ہوتی، مولانا کے پاس چلا جاتا. اور دیر تک مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھتا رہتا. اور آپ ہنس کر مسکرا جواب دیتے رہتے. ایک بار کہنے لگے: “رے چھورا! تورے ہمرے سے ڈر نا لگو ہو. کچھ بھی پوچھتے رہتے ہو” . میں نے اپنا منچلاپن دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کس بات کا ڈر؟ مسکرانے لگے پھر بولے کہ پٹائی کردِے بو تب. میں نے مسکرا کر کہا کہ وہ بھی تو ہمارے لیے رحمت ہی ہوگی. مسکرائے اور بولے کہ بہت نالائق ہو تم ۔

آ عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں

تو ہائے گل پکار، میں چلاؤں ہائے دل

ایک بار ایسے ہی باتوں باتوں میں میں نے ذکر کردیا کہ میں نے وقف دار العلوم والے مسابقے میں مقالہ لکھا تھا اور میری پوزیشن بھی آئ تھی. بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزا کلمات کہے اور بولے کہ وہ مضامین مجھے دکھاؤ. میں نے انہیں دکھایا تو کہنے لگے کہ یہ تو 100 صفحے سے زائد ہے. کہنے لگے کہ اسے 8/10 صفحے میں اختصار کرو اور عارف جمیل (مولانا عارف جمیل استاذ ادب دارالعلوم دیوبند و مساعد التحرير “الداعی”) کو دکھا دو اور انہیں بولو الداعی میں چھاپنے کے لیے؛ لیکن اپنی سستی اور غفلت کے کیا کہنے. میں نے انہیں نا تو اختصار کیا اور نا ہی دوبارہ اس کا ذکر کیا..

ایک بار ان کے موبائل پر کوئی میل آیا. اور وہ سمجھ نا سکے. میں وہیں پر تھا تو کہنے لگے بیٹا دیکھو تو میل میں کیا لکھا ہے؟ میں نے میل کھولا اور سارے حروف مجھے بلیک بورڈ کی طرح سیاہ سیاہ نظر آئے اور اٹک اٹک پڑھنا شروع کیا تو کہنے لگے تم رہنے دو تم سے اچھی انگریزی تو ہماری ہی ہے . عمارہ نور(منجھلے لڑکے) آتے ہیں تو ان سے پڑھوالیتے ہیں.

جب میں سال 2017 میں جے این یو چلا گیا اور کسی موقعے سے دیوبند جانا ہوا تو حضرت کو فون کیا. کہنے لگے تمہیں فون کرنے کیا ضرورت تھی. تم ایسے ہی آجاتے. پھر بڑی دیر تک یونیورسٹی کے احوال و کوائف سنتے رہے. اساتذہ، پروفیسران اور سلیبس کے بارے میں دریافت کرتے رہے. پھر آخر میں کہنے لگے پوچھو اپنے بھائی ثمامہ سے! جانا چاہتا ہے وہاں؛ تو اسے مکمل تفصیلات سے آگاہ کرو. اور پھر بڑی محبت سے فرمانے لگے کہ بیٹا جب بھی دیوبند آؤ تو مل لیا کرو. بڑی خوشی ہوتی ہے تم لوگوں کو دیکھ کر.

مولانا نور عالم خلیل امینی رح سے میرا تعلق صرف استاذ اور شاگرد کا نہیں تھا بلکہ ایک مشفق ومربي باپ اور بیٹے کا تھا جو قدم قدم پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے. آپ کی وفات میرے لیے اس قسم کا حادثہ نہیں ہے کہ میں نے کوئی بیش بہا چیز کھو دی ہے،؛ بلکہ ایسا عظیم سانحہ ہے کہ مجھ سے نطق وگویائی کی طاقت سلب کر لی گئی ہو، جیسے میں خود گم ہوگیا ہوں، جیسے میں نے اپنے آپ کو کھو دیا ہو.

دبی دبی سسکیوں، ٹوٹے ہوئے دل، جلے ہوئے جگر، اشک فشاں آنکھوں اور بے ربط جملوں میں خالق کائنات کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک آپ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے آمین

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

(حیدر علی آتش)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *