پانچ ریاستوں میں 115 ایم ایل اے مسلمان منتخب ہوئے ، گذشتہ مرتبہ کے مقابلہ میں بنگال میں تعداد کم ہوئی، کیرالہ اور آسام میں اضافہ

پانچ ریاستوں میں 115 ایم ایل اے مسلمان منتخب ہوئے ، گذشتہ مرتبہ کے مقابلہ میں بنگال میں تعداد کم ہوئی، کیرالہ اور آسام میں اضافہ

خصوصی رپورٹ
کولکاتا: (ملت ٹائمز – دانش عالم صدیقہ یاسمین) مغربی بنگال ۔ آسام ۔ کیرالا۔ تمل ناڈو اور پانڈو چیری ان پانچ صوبوں میں اس مرتبہ 115 مسلمان جیت حاصل کرکے ایم ایل اے بننے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ سب سے زیادہ مسلمانوں نے بنگال میں جیت حاصل کی ہے ۔ اس کے بعد آسام کیرا لااور دوسری ریاستوں میں جیت ہوئی ہے ۔ بنگال میں 44 مسلمان ایم ایل اے بننے میں کامیاب ہوئے۔آسام میں 31 مسلمانوں نے جیت حاصل کی ۔ کیرالا میں 32 مسلمان ایم ایل اے بنے ۔ تمل ناڈو میں 7 مسلمانوں نے جیت حاصل کی اور پانڈو چیر میں ایک۔
بنگال میں ایم ایل اے منتخب ہونے والے 44 مسلمانوں میں سے 43 ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی سے امیدوار تھے ۔ صرف ایک سیٹ پر ٹی ایم سی کے امیدوار کو شکست دیکر عبا س صدیقی کی پارٹی آئی ایف ایف کے امیدوار نوشاد صدیقی نے جیت حاصل کی ۔ سال 2016 میں مغربی بنگال میں 59 مسلمانوں نے جیت حاصل کی تھی جس میں 32 ٹی ایم سی کے تھے ۔ 18 کانگریس سے اور 9 لیفٹ سے ۔ حالیہ چناﺅمیں 15مسلمان ایم ایل اے کی تعداد بنگال میں کم ہوگئی ہے ۔ ٹی ایم سی نے 45مسلمانوں کو ٹکٹ دیاتھاجن میں سے 43 نے جیت حاصل کی ۔ کانگریس اور لیفٹ کا کوئی بھی امیدوار نہیں جیت سکا۔ بی جے پی نے بھی 6 مسلمانوں کو ٹکٹ دیاتھا لیکن کسی کی جیت نہیں ہوئی ۔ بنگال میں اسمبلی کی کل 292 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی اور یہاں مسلمانوں کی کل آباد ی 28 فیصد ہے ۔ ٹی ایم سی سے جیتنے والوں میں مولانا صدیق اللہ چوھری ۔فرہا حکیم اور جاوید خان کے نام شامل ہیں ۔
آسام میں 31 مسلمانوں نے جیت حاصل کی جن میں پندرہ مولابدر الدین اجمل کی قیادت والی پارٹی آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے امیدوار تھے اور16 کانگریس کے امیدوار تھے ۔ بی جے پی نے بھی آسام میں 8 مسلمانوں کو ٹکٹ دیاتھا جن میں سے کسی کو بھی کامیابی نہیں ملی ۔
سال 2016 میں آسام میں 29 مسلمان ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے جن میں 13 یو ڈی ایف کے تھے ۔ پندرہ کانگریس کے اور ایک بی جے پی کی ۔ سال 2011 میں آسام میں کل 28 مسلمان جیتے تھے ۔ سب سے زیادہ مسلمان 1983 میں آسام میں جیتے تھے جن کی تعداد 33 تھی ۔آسام میں کل 126 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی ۔ یہاں مسلمانوں کی کل آباد ی 33 فیصد ہے ۔
کیرالہ میں کل 32 مسلمانوں نے جیت حاصل کی جن میں 15 انڈین یونین مسلم لیگ کے امیدوار تھے ۔ تین کانگریس سے امیدوار تھے ۔ 9 سی پی آئی ایم سے امیدوار تھے ۔ ایک نے سیکولر فرنٹ کے ٹکٹ پر جیت حاصل ۔ ایک نے انڈین نیشنل لیگ سے جیت حاصل کی اور تین مسلمانوں نے آزاد امیدوار کے طور پر جیت حاصل کی ۔ سال 2016 میں یہاں 29 مسلمانوں نے جیت حاصل کی تھی ۔کیرالہ میں کل 140 سیٹوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے تھے اور یہاں مسلمانوں کی کل آبادی 26 فیصد ہے ۔
تمل ناڈو میں کل سات مسلمانوں نے جیت حاصل کی جن میں ایک کانگریس سے ہیں بقیہ جیتنے والے ڈی ایم اے کے ٹکٹ پر امیدوار تھے ۔یہاں 234 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہوئی تھی ۔ مسلمانوں کی آبادی صرف پانچ فیصد ہے ۔ پانڈو چیر میں بھی ایک مسلمان نے جیت حاصل کی ۔ یہاں اسمبلی کی کل 30 سیٹیں ہیںاور مسلمانوں کی آبادی صرف چار فیصد ہے ۔
مولانا بدر الدین اجمل کی قیادت والی اے آئی یو ڈی ایف نے آسام میں اس مرتبہ 19 میں سے 16 سیٹوں پر جیت حاصل کی جن میں 15 مسلمان ہیں ۔کیرالا میں انڈین یونین مسلم لیگ نے 17 سیٹوں پر جیت حاصل کی جن میں 15 مسلمان ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *