اب دہلی کے فوجی اسپتال نے کم آکسیجن ملنے کا لگایا الزام، حکومت سے کی شکایت

اب دہلی کے فوجی اسپتال نے کم آکسیجن ملنے کا لگایا الزام، حکومت سے کی شکایت

فوج کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ضرورت سے کم آکسیجن الاٹ کی گئی ہے۔ ہم حکومت کے ساتھ اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندوستانی فوج نے منگل کو دہلی حکومت کے ذریعہ قومی راجدھانی میں اپنے بیس اسپتال میں آکسیجن کے کم الاٹمنٹ کا ایشو اٹھایا۔ آرمی نے کہا کہ اسپتال کو 3.4 میٹرک ٹن آکسیجن کی روزانہ ضرورت ہے۔ دہلی حکومت نے پیر تک ایک میٹرک ٹن ہی الاٹ کیا اور منگل کو اچانک الاٹمنٹ کو کم کر کے 0.4 میٹرک ٹن کر دیا گیا۔
فوج کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ اس معاملے کو پہلے وزارت دفاع کے ساتھ پھر آگے دہلی حکومت کے ساتھ بھی اس ایشو کو اٹھایا گیا ہے۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’یہ ایک مسئلہ ہے۔ آکسیجن کو ضرورت سے کم الاٹ کیا گیا تھا۔ ہم حکومت کے ساتھ معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ماحول میں کشیدگی شروع ہونے کے بعد، فوج کی مغربی کمان نے سبھی ملازمین، بزرگوں اور پناہ گزینوں کو ان کی مدد اور مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
حالانکہ ذرائع نے کہا کہ کورونا کے معاملوں میں اضافہ کے دوران وسیع طبی مدد فراہم کرنے کے لیے بیس اسپتال کے چار گنا ایکسٹینشن سے یہ ہِٹ ہو سکتا ہے۔ کرنل امن آنند نے کہا کہ ’’موجودہ کووڈ لہر کی شروعات میں بیس اسپتال نے 340 کووڈ بیڈ کے لیے کیٹرنگ کی، جس میں صرف 250 بستروں کو آکسیجن دی گئی تھی۔ اس معاملے کو سنجیدہ طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔‘‘
اپنی صلاحیت سے زیادہ بیڈ بھرے ہونے کے باوجود مزید مریضوں کو بیڈ کے لیے انتظار کرنے کو دیکھتے ہوئے ان کا ٹراما سنٹر میں علاج کیا جا رہا تھا۔ افسر نے کہا کہ ’’650 کووڈ بیڈ کی صلاحیت کی توسیع کرنے کے لیے جلدی سے ایک منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں 30 اپریل 2021 تک 450 بستروں پر آکسیجن لگائی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گہری دیکھ بھال یونٹ (آئی سی یو) کو بھی 29 اپریل تک 12 بستروں سے 35 آئی سی یو تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ایکسٹینشن کے اگلے مرحلہ میں جون 2021 کے دوسرے ہفتہ تک 900 آکسیجن سے مزین بستروں میں اضافہ ہوگا۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *