تمام علاقائی اور قومی سیاسی جماعتیں جو بی جے پی کے خلاف ہیں کومتحد ہوکر بی جے پی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ ایک دو سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ نہ آئیں ، مگر زیادہ تر جماعتیں ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں اور ہمارا مقصد واضح ہے۔
کلکتہ(ایجنسیاں)
مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے نیشنل کانفرنس کے لیڈروسابق وزیر اعلیٰ عمرعبد اللہ سے ملاقات کرنے کے بعد کہا کہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بی جے پی کے خلاف لڑائی کو مضبوط اور علاقائی جماعتوں کے اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے کسی بھی لیڈر کے نام کو آگے نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ تمام بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں کو ملک کے مفادات کے پیش نظر قربانی کا جذبہ پیش کرنا چاہیے۔عمر عبد اللہ سے ملاقات کرنے کے بعد ممتا بنرجی نے کہا کہ ”مہربانی کرکے کسی بھی لیڈر کا نام آپ لوگ پیش نہ کریں اور ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ممتا بنرجی نے یہ باتیں اس وقت کہیں جب نامہ نگاروں نے عمر عبد اللہ سے یہ سوال کیا کہ کیا وہ 2019کے لوک سبھا انتخابات میں وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے ممتا بنرجی کے نام کی حمایت کریں گے؟۔
عمر عبدا للہ کے جواب دینے سے قبل ہی ممتا بنرجی نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر کے نام کو آگے کرنا جلد بازی ہوگی۔ہمارا سب سے بڑا مقصد بی جے پی کے خلاف متحدہوکر جد و جہد کرنا ہے اور ہم بی جے پی کو شکست فاش دینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ میرے خیا ل سے تمام علاقائی اور قومی سیاسی جماعتیں جو بی جے پی کے خلاف ہیں کومتحد ہوکر بی جے پی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ ایک دو سیاسی جماعتیں ہمارے ساتھ نہ آئیں ، مگر زیادہ تر جماعتیں ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں اور ہمارا مقصد واضح ہے۔
واضح رہے کہ چند دنوں قبل راہل گاندھی نے خاتون صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہاتھاکہ اتحادی پارٹیوں میں سے کسی بھی پارٹی کی خاتو ن لیڈر کا نام وزیر اعظم عہدہ کیلئے پیش کیا جاسکتاہے ۔یہ بھی بات آئی تھی کہ راہل گاندھی ممتا بنرجی اور مایاوتی میں سے کی ایک نام پر وزیر اعظم عہدہ کیلئے غور کررہے ہیں ۔

Leave a Reply