علماء اور عصری علوم کے ماہرین امت کی دو آنکھیں ہیں: مفتی محمد نسیم رحمانی ، نئی سوچ اور نئی فکر پیدا کرنے کی ضرورت : ڈاکٹر ابوبکر عباد
نئی دہلی: سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کے بعد ایک اور اہم قدم بڑھاتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یونیورسیٹیوں میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات تک رسائی کی کوشش شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں آج جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسیٹی ، جواہرلعل نہرو یونیورسیٹی اور ہمدرد یونیورسیٹی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ پہلی میٹنگ ہوئی ۔جس میں اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہرسطح پر نوجوانوں کو قریب کرنے اور ان کی ذہن سازی اور شکوک و شبہات کے ازالے کے لیے کوشش کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر دہلی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ابوبکر عباد نے اپنے خطاب میں کہاکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ اقدام قابل ستائش ہے اس سے نئی سوچ اور نئی فکر پیدا ہوگی اور اس کے دور رس نتائج دیکھنے کو ملیں گے بس جوڑنے کی ضرورت ہے ، مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء کی حفاظت کے سلسلہ میں بہت ہی امید افزا اقدام ہے، صدر اجلاس مولانا قاری یعقوب خاں قادری نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ جس وقت مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک کی شروعات ہوئی تھی اس وقت ہم نوجوان تھے ہم تک بات پہنچی تھی مگر ہمیں افسوس ہے کہ ہمیں آپ تک پہنچانے میں تاخیر ہوئی اب ہم کوشش کریں گے کہ آپ تک صحیح طور پر مسلم پرسنل لا کے پیغام کو پہنچا سکیں، مفتی ارشد فاروقی اور مولا نا فیروز اختر قاسمی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اصلاح معاشرہ کمیٹی دہلی کے کنوینر مفتی نسیم رحمانی نے کہاکہ علماء دین اور جدید تعلیم یافتہ حضرات یہ دونوں اسلامی قلعوں میں عظیم قلعے ہیں یہ عام طور پر شریعت اسلامیہ کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عدم علم کی بنیاد پر علما ءاور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان ایک خائی پیدا ہو رہی ہے جو افسوس ناک ہے ،یہ محض باہمی دوری اور غلط فہمی کی وجہ سے ہے ، علما کا فریضہ ہے کہ وہ اس طبقہ کو امت کی بہترین امانت سمجھ کر قریب کریں اور بڑی محبت و الفت کے ساتھ شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کریں ، ہمارا رویہ ان کے ساتھ فریق یا رقیب کا نہ ہو بلکہ ایک محسن دوست کا ہو ۔ قبل ازاں پروگرام کا آغاز محمد عمر قاسمی کی تلاوت سے کیا گیا ،پروگرام کی صدارت مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا یعقوب خاں صاحب قادری نے کی ،جبکہ نظامت کے فرائض دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عبدالباری قاسمی نے کیا ۔ طلبہ وطالبات کی طرف سے جے این یوسے حفظ الرحمن قاسمی ، مدبر عالم ، ثمنی صداقت ، دہلی یونیورسٹی سے محمد ارشاد ، امیر حمزہ ،نزہت فاطمہ ،عفت حسن ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عظمت النساء، یمن کستوری ، خالدہ تبسم ، میکائیل تابش ، جامعہ ہمدرد سے عبید الکبیر ، دیال سنگھ کالج سے عبدالرقیب، کروڑی مل کالج سے ابوللیث اور ذاکر حسین دہلی کالج سے محمد ارسلان وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ، آخرمیں پندرہ منٹ وقفۂ سوالات بھی رکھا گیا جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یو نیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے بہت ہی جوش و خروش سے حصہ لیا ، پروگرام کا اختتام صدر اجلاس مولانا یعقوب خاں صاحب قادری کی دعا پر ہوا۔






