آٹھ سالہ طالب علم کی لنچنگ پر دہلی کے دیگر مدارس ہوئے متحرک، طلبہ کی نگرانی میں اضافہ




نئی دہلی: (ملت ٹائمز) دہلی کے مالویہ نگر میں واقع ایک مدرسہ کے 8 سالہ طالب علم محمد عظیم کو شر پسند عناصر کی جانب سے مار دیئے جانے کے بعد دہلی کے دیگر مدارس بھی چوکنا ہوگئے ہیں اور اپنے طلبہ کی نگرانی میں انہوں نے اضافہ شروع کردیا ہے اور انہیں نصیحت کررہے ہیں کہ وہ کسی سے آپس میں نہ جھگڑیں اور نہ مدرسہ کے احاطہ سے باہر نکلیں ۔
نئی دہلی کے نبی کریم میں واقع مدرسہ تعلیم القرآن نے بھی حالیہ واقعہ سے سبق لیتے ہوئے اپنے طلبہ کو نصیحت کی ہے کہ بغیر اجازت مدرسہ سے با ہر نہ نکلیں ، نہ کسی سے الجھیں اور نہ جھگڑیں ،جو کچھ بھی ہو، مدرسہ کے اساتذہ اور انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں۔ اساتذہ اور اسٹاف کی ذمہ داریاں بھی بڑھا دی گئی ہیں اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ طلبہ پرنظر رکھیں ، ہمہ وقت چوکنا ہوکر نگرانی کریں۔ مدرسہ تعلیم القرآن کے ناظم مولانا عبد السبحان قاسمی نے کہاکہ ملک میں نفرت اور انتہاء پسندی کا زہر اب بڑوں کے بعد بچوں میں بھی پھیل گیاہے ، پھول کہلانے والے بچے بھی نفرت اور انتہاء پسندی پر آمادہ ہوچکے ہیں اور مسلمانوں کے تئیں ان کے دلوں میں نفرت سما دیا گیا ہے جس کی بنیاد پر وہ اب اپنی ہی عمر کے طلبہ کی جان کے پیاسے ہوگئے ہیں جیساکہ مالویہ نگر کے بیگم پور میں اکثریتی فرقہ کے بچوں نے محمد عظیم کو پیٹ پیٹ کر مار دیا ہے۔ اس تعزیتی پروگرام میں جامعہ تعلیم القرآن کے اساتذہ قاری معین الدین قاسمی، مولانا ابو نصر قاسمی، مولانا ظفرصدیقی قاسمی، مفتی علی احمد قاسمی، قاری قیام الدین وغیرہم موجود تھے۔ جامعہ ہذا کے ناظم مولانا عبد السبحان صاحب قاسمی کی دعا پر تعزیتی پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *