چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ جے این یو میں واقعہ والے دن 7 کشمیری طلبا نے ملک مخالف نعرے لگائے تھے۔ چارج شیٹ کے کالم 12 میں ملزمین کا نام دیا گیا ہے
نئی دہلی (ایم این این )
جے این یو میں ملک مخالف نعرے بازی کیس میں دہلی پولس نے پیر کے روز دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ میں 1200 صفحات پر مبنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ چارج شیٹ میں جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر کنہیا، عمر خالد، انربان بھٹاچاریہ، اے آئی ایس ایف لیڈر اپراجیتا راجہ، عاقب حسین، مجیب حسین، منیب حسین، عمر گل، بشیر بٹ سمیت کئی لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ان سبھی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے، 147، 149 اور 120 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کیس میں کل 36 لوگ ملزم بنائے گئے ہیں، حالانکہ پولس کو کسی کے خلاف پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اب عدالت طے کرے گی کہ انھیں ملزم بنانا ہے یا نہیں۔
چارج شیٹ پر سماعت کے لیے عدالت نے منگل کا دن مقرر کیا ہے۔ ملی اطلاعات کے مطابق چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ جے این یو میں واقعہ والے دن 7 کشمیری طلبا نے ملک مخالف نعرے لگائے تھے۔ چارج شیٹ کے کالم 12 میں ملزمین کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں سی پی آئی رکن پارلیمنٹ ڈی راجہ کی بیٹی اور اے آئی ایس ایف کی رکن اپراجیتا راجہ کا بھی نام ہے۔ چارج شیٹ میں حالانکہ کنہیا کے خلاف نعرہ لگانے کا کوئی ثبوت نہیں ملنے کی بات کہی گئی ہے لیکن ان پر نعرے بازی کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ وہیں چارج شیٹ میں عمر خالد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ نعرہ بازی کرنے والوں کے رابطے میں تھے اور انہیں پروگرام میں بلایا بھی گیا تھا۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے ملزم افضل گرو کی برسی پر 2016 میں جے این یو کیمپس میں ایک پروگرام کا انعقاد ہوا تھا۔ اس پروگرام کے دوران اشتعال انگیز تقریر کرنے اور ملک مخالف نعرہ بازی کرنے کا الزام تھا۔ حالانکہ اس پورے معاملے کے دوران بی جے پی کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کا کردار بھی شبہات کے گھیرے میں آیا تھا۔ اس معاملے پر جے این یو سمیت ملک کے کئی مقامات پر خوب ہنگامہ ہوا تھا۔ اس وقت بی جے پی کے کئی لیڈروں نے جے این یو کو غدار وطن کا اڈہ قرار دے دیا تھا۔
معاملہ درج ہونے کے بعد کنہیا کمار، عمر خالد اور انربان کی گرفتاری کی بھی کافی مخالفت ہوئی تھی اور کئی طلبا تنظیموں سمیت حقوق انسانی تنظیمیں ملک بھر میں سڑکوں پر اتر آئی تھیں۔ اپوزیشن نے پولس پر برسراقتدار بی جے پی کے دباو میں کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد اس وقت دہلی کے پولس کمشنر بی ایس بسّی بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گئے تھے۔