صحافی صحافت کے تقاضوں کو ایمانداری کے ساتھ ادا کریں !  اسلامیہ ڈگری کالج میں جاری دو روزہ سیمینار کی آخری تقریب میں دانشوران کا اظہار خیال 




دیوبند : (سمیر چودھری) اسلامیہ ڈگری کالج میں جاری دو روزہ سیمینار اختتام پذیر ہوگیا ۔ اس دوران آزادی کے بعد اردو زبان کے فروغ میں اردو صحافت کے عنوان پر مقالات اور ماہرین اردو کے خیالات پیش ہوئے۔

پروگرام کے دوران اردو کی خدمت انجام دینے والے علاقہ کے صحافی اور شعراء کو سند توصیفی سے بھی نوازا گیا ۔ اختتامی نشست کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے استاد مولانا سلمان بجنوری نے انجام دی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے صدر ،پی آراو پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ صحافت سماج کی عکاس ہوتی ہے جو ہم صحافت کرتے ہیں وہی سماج بنتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صحافت اب اپنی دنیا سامنے لارہا ہے اور سماج سے مختلف ہوگیا ہے ، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ ہمارے گھرو ں سے اردو بے دخل ہوچکی ہے ، اپنے گھروں میں اردو کو رواج دیں اور اپنے بچوں کو اردو کی جانب راغب کریں ۔ صوبہ اتراکھنڈ حکومت کے سابق مشیر پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ یہ علاقہ اردو کی جائے پیدائش ہے۔ اس علاقہ کے باشندے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اردو زبان یہاں پیداہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس حساب سے جو چیز جہاں پیدا ہوتی ہے اس کا حق اسی علاقہ پر زیادہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ اپنا فرض اداکرتے ہوئے اپنے بچوں کو اردو سکھائیں۔ پروفیسر تنویر چشتی نے کہا کہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو وہ شرمندہ کرنے والے ہیں مگر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، اگر ہم طے کرلیں کہ ہر شخص ایک اردو کااخبار خریدے گا تو اردو صحافت کو تقویت ملے گی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ دیوبند کی سرزمین بڑی زرخیز ہے یہاں سے ان شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے اردو کے حوالے سے اس خطے کا نام دنیا کے کونے کونے میں روشن کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صحافت کی ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں ، ملک کے بدلتے حالات میں میڈیا کا بڑادخل ہے۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ اس وقت یہ ملک میڈیا ہی چلا رہا ہے جس کے سبب ہر چیز پر میڈیا کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت سے وابستہ افراد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی روح کا سودا نہ کرے اور صحافت کے تقاضوں کو ایمانداری کے ساتھ اداکرے۔ جس دور سے ملک گزررہا ہے ان حالات میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم صحافت کو تقویت پہنچانے کے لئے چھوٹے چھوٹے کام کریں ۔

انفرادی طور پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ جس زبان کی روٹی کھاتے ہیں اس زبان کے لئے ہم کیا کررہے ہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔ پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر اسجد ترکی نے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے میں اردو کا اہم کردار رہا ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ آج مسئلہ تہذیب وثقافت کو بچانے کا ہے ، اردو زبان ایک مکمل تہذیب ہے، اردو کو بچانے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی تہذیب وثقافت کو بچانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر اسجد ترکی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند نے اردو کے لئے جو کام کیا ہے وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں رقم ہے۔

 ڈاکٹر اسجد ترکی نے کہا کہ دیوبند اردو کی بستی ہے لیکن یہا ں اردو اخبارات کو نظر انداز کیا جارہا ہے جو باعث تشویش ہے ۔نشست میں سید وجاہت شاہ ، سمیر چودھری، ڈاکٹر موسیٰ وغیرہ نے مقالے پیش کئے اور اس میں اردو زبان کے فروغ میں صحافت کے کردار پر روشنی ڈالی ۔

اس موقع پر دیوبند کے صحافی اشرف عثمانی، رضوان سلمانی،سمیر چودھری، فہیم اختر ، فروز خان اور عارف عثمانی کو اعزاز سے نوازا گیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا سلمان بجنوری نے کی ، اسلامیہ ایجوکیشنل اینڈ چیری ٹیبل سوسائٹی کے چیئرمین ، اسلامیہ ڈگری کالج کے سکریٹری ڈاکٹر عظیم الحق نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

پروگرام کی تیسری نشست کی صدارت کرتے ہوئے معروف ادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ آزادی کے بعد اردو زبان نے اپنا صحافتی کردار مستحکم بنیادوں پر ادا کیا ہے ۔

اردو صحافت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے فرقہ پرستی اور منافرت کا بھرپور طریقہ پر مقابلہ کیا اور ان طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کیا جو ہندوستانی تہذیب اور معاشرہ کو کمزور کرنے پر تلی ہوئی تھی ، ہر فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر شعبہ زندگی میں اپنی موجودگی اور کردار کا احساس دلایا۔اس دوران معروف ادیب عبداللہ عثمانی، شاعر شمس دیوبندی،ہارون حسرت سمیت کثیر تعداد میں اردو زبان و ادب سے منسلک شخصیات اور طلباء وطالبات شریک رہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *